کراچی الیکٹرونک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے47 برس بدلتی ٹیکنالوجی کی داستان

ترتیب ، نظام الدین

کچھ تقریبات صرف تقریبات نہیں ہوتیں، وہ وقت کی کتاب کا ایک ورق ہوتی ہیں۔ کراچی کے وائی ایم سی گراؤنڈ میں کراچی الیکٹرونک ڈیلرز ایسوسی ایشن کی 47ویں سالگرہ کی تقریب میں راقم شریک ہوا تو سامنے ایسی ہی ایک کتاب کھل گئی۔اسٹیج پر 47 کا ہندسہ روشن تھا، اردگرد کاروباری برادری کے لوگ موجود تھے، روشنیوں سے سجا ماحول تھا،
مگر میرے ذہن میں ایک اور منظر گردش کر رہا تھا۔ کراچی الیکٹرونک مارکیٹ نے نصف صدی میں الیکٹرونکس کی دنیا کو اپنی آنکھوں کے سامنے بدلتے دیکھا۔یہ 47 برس صرف ایک تجارتی انجمن کی عمر نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کے ایک پورے عہد کی کہانی ہے، ذرا 1978ء کے کراچی کا تصور کیجیے۔گھروں میں ریڈیو کی آواز گونجتی تھی۔ ٹیلی ویژن نئی نئی گھریلو ضرورت بن رہا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین نشریات کا آغاز کر رہا تھا، ۔اس زمانے میں ٹیلی ویژن خریدنا آج کے موبائل فون خریدنے جیسا معمولی معاملہ نہیں تھا۔ ٹیلی ویژن گھر کی ایک بڑی چیز سمجھا جاتا تھا۔ ریڈیو خاندان کا ساتھی تھا اور ٹیپ ریکارڈر موسیقی سننے کا نیا وسیلہ بن رہا تھا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب کراچی کے الیکٹرونکس فروش محض دکاندار نہیں تھے۔وہ نئی ٹیکنالوجی اور عام آدمی کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھے۔ صارف کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کون سا آلہ بہتر ہے، کون سی کمپنی قابلِ اعتماد ہے اور نئی مشین کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔ دکاندار ہی اسے سمجھاتا تھا۔
پھر زمانہ بدلا
ٹیپ ریکارڈر نے ریڈیو سے آگے کی دنیا دکھائی۔ اپنی پسند کی آواز محفوظ کرنے کا تصور عام ہوا۔ پھر وی سی آر آیا۔ گھر میں فلم دیکھنے کا انداز بدل گیا۔ ویڈیو کیسٹ نے تفریح کو سینما کی چار دیواری سے نکال کر گھر کے کمرے تک پہنچا دیا۔
کراچی نے اس انقلاب کو خاص طور پر محسوس کیا۔ الیکٹرونکس کی مارکیٹیں صرف خرید و فروخت کے مراکز نہیں رہیں بلکہ نئی مصنوعات اور نئی ٹیکنالوجی سے تعارف کا ذریعہ بنتی گئیں۔
پھر سی ڈی آئی۔
کیسٹ پیچھے رہ گئی، ویڈیو کیسٹ کے بعد وی سی ڈی اور ڈی وی ڈی نے جگہ بنائی۔ آواز اور تصویر محفوظ کرنے کے ذرائع بدلتے گئے۔ الیکٹرونکس کی دکان میں رکھی ہوئی چیزیں دیکھتے دیکھتے بدلنے لگیں۔پھر کمپیوٹر آیا۔یہ تبدیلی محض ایک نئی مشین کی آمد نہیں تھی۔ کمپیوٹر نے انسان کے کام کرنے، معلومات محفوظ کرنے اور دنیا سے رابطہ رکھنے کا انداز بدل دیا۔ اس کے بعد انٹرنیٹ نے وہ کام کیا جس کا شاید پہلے تصور بھی مشکل تھا: دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔لیکن اصل انقلاب ابھی باقی تھا۔
موبائل فون۔ابتدا میں ایک مہنگی اور محدود سہولت تھا۔ پھر وقت کے ساتھ یہ عام آدمی کی ضرورت بن گیا۔ بٹن والا موبائل آیا، پھر رنگین اسکرین، کیمرا، میموری کارڈ، ملٹی میڈیا، انٹرنیٹ اور بالآخر اسمارٹ فون۔ایک وقت تھا جب فون صرف بات کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔آج وہی چھوٹا سا آلہ اخبار بھی ہے، کیمرہ بھی، ٹیلی ویژن بھی، ریڈیو بھی، بینک بھی، دفتر بھی اور دنیا سے رابطے کا دروازہ بھی۔
یہ تبدیلی کراچی کی الیکٹرونکس تجارت نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھی۔
پھر ٹیلی ویژن نے ایک اور انقلاب برپا کیا۔ بھاری بھرکم CRT ٹی وی، جسے گھر میں رکھنے کے لیے خاص جگہ بنائی جاتی تھی، رفتہ رفتہ رخصت ہوا۔ اس کی جگہ LCD نے لی، پھر LED نے۔ آج اسمارٹ ٹی وی گھر کی اسکرین کو صرف ٹی وی چینل تک محدود نہیں رکھتا بلکہ انٹرنیٹ اور اسٹریمنگ کی دنیا سے جوڑ دیتا ہے۔یعنی جس چیز کے سامنے کبھی خاندان مخصوص وقت پر بیٹھ کر ایک پروگرام دیکھا کرتا تھا، آج وہی اسکرین دنیا بھر کا مواد چند لمحوں میں سامنے لے آتی ہے۔اور صرف ٹیلی ویژن ہی کیوں؟ فریج بدل گیا، واشنگ مشین بدل گئی، ایئرکنڈیشنر بدل گیا۔ انورٹر ٹیکنالوجی نے بجلی کے استعمال کے تصور کو بدلا۔ گھریلو برقی آلات میں بھی الیکٹرانکس اور ڈیجیٹل نظام داخل ہوتے گئے۔یہ سب کچھ کسی ایک دن میں نہیں ہوا۔47 برس ایک ایک تبدیلی کو اپنے اندر سمیٹتے چلے گئے۔کراچی کے الیکٹرونکس ڈیلر نے کبھی ریڈیو کا زمانہ دیکھا، کبھی ٹیپ ریکارڈر کا، کبھی وی سی آر کا، کبھی سی ڈی اور ڈی وی ڈی کا، کبھی کمپیوٹر کا، کبھی موبائل فون کا اور آج اسمارٹ ٹیکنالوجی کا زمانہ دیکھ رہا ہے۔ یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے۔ٹیکنالوجی ایجاد دنیا کے کسی اور حصے میں ہوتی ہے، مگر اس ایجاد کو عام آدمی کی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے ایک پورا تجارتی نظام درکار ہوتا ہےمصنوعات درآمد ہوتی ہیں، مارکیٹ میں آتی ہیں، دکاندار انہیں صارف تک پہنچاتا ہے، ان کے استعمال کی معلومات دیتا ہے اور وقت کے ساتھ نئی چیز پرانی چیز کی جگہ لے لیتی ہے۔اس پورے سفر میں کراچی الیکٹرونکس مارکیٹ نے اپنا کردار ادا کیا اور اسی کردار کی نمائندگی کرنے والی انجمنوں میں کراچی الیکٹرونک ڈیلرز ایسوسی ایشن بھی شامل ہے۔آج جب وائی ایم سی گراؤنڈ میں 47ویں سالگرہ منائی جا رہی تھی تو میرے لیے یہ محض ایک انجمن کی سالگرہ نہیں تھی۔یہ ایک عہد کی سالگرہ تھی۔وہ عہد جس میں ہم نے ریڈیو سے ٹیلی ویژن تک، بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین اسکرین تک، کیسٹ سے سی ڈی تک، وی سی آر سے ڈی وی ڈی تک، کمپیوٹر سے انٹرنیٹ تک اور موبائل فون سے اسمارٹ فون تک کا سفر کیا۔کبھی گھر میں ایک ٹیلی فون ہوا کرتا تھا اور آج گھر کے ہر فرد کے ہاتھ میں موبائل ہے۔کبھی تصویر کھینچنے کے لیے کیمرہ درکار تھا اور آج موبائل فون کیمرے کا کام کرتا ہے۔
کبھی فلم دیکھنے کے لیے سینما جانا پڑتا تھا اور آج ایک اسکرین پر دنیا بھر کا مواد موجود ہے۔کبھی خبر اگلے دن اخبار سے ملتی تھی اور آج واقعہ پیش آتے ہی دنیا کے دوسرے سرے سے خبر چند سیکنڈ میں ہمارے ہاتھ تک پہنچ جاتی ہے۔یہ سب کچھ ٹیکنالوجی کا سفر ہے۔اور کراچی کے الیکٹرونکس بازار اس سفر کے خاموش گواہ ہیں۔47 برس بعد اس تقریب میں بیٹھ کر ایک خیال بار بار ذہن میں آتا رہا کہ الیکٹرونکس کی دنیا نے کبھی کسی کا انتظار نہیں کیا۔
ریڈیو آیا تو ٹیپ ریکارڈر نے اسے چیلنج کیا، کیسٹ آئی تو سی ڈی نے جگہ بنائی، وی سی آر آیا تو ڈی وی ڈی آگئی، CRT آیا تو LCD اور LED نے اسے پیچھے چھوڑ دیا، موبائل فون آیا تو اسمارٹ فون نے پوری دنیا کو اس کی اسکرین میں سمو دیا۔
اب مصنوعی ذہانت، اسمارٹ گھریلو آلات اور باہم مربوط ٹیکنالوجی کا زمانہ سامنے ہے۔سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کہاں پہنچ گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کراچی کی الیکٹرونکس تجارت اس اگلی منزل تک عوام کو کس رفتار سے لے کر جاتی ہے۔
وائی ایم سی گراؤنڈ کی اس شام 47 کا ہندسہ روشنیوں میں جگمگا رہا تھا۔
مگر اس ہندسے کے پیچھے مجھے ہزاروں ریڈیو، لاکھوں ٹیلی ویژن، ٹیپ ریکارڈرز، وی سی آر، سی ڈی پلیئرز، کمپیوٹر، موبائل فون اور نہ جانے کتنی الیکٹرونک اشیا دکھائی دے رہی تھیں۔
یہ صرف سامان نہیں تھا۔یہ بدلتے ہوئے وقت کی نشانیاں تھیں۔
اور کراچی الیکٹرونک ڈیلرز ایسوسی ایشن کی 47 سالہ داستان دراصل اسی بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ چلنے والی کراچی کی ایک تجارتی تاریخ ہے۔
ریڈیو سے اسمارٹ فون تک کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ٹیکنالوجی کا اگلا باب ابھی لکھا جانا باقی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *