جبری گمشدگیوں پر نیا عدالتی میکنزم، سخت کارروائی کا فیصلہ

نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے کمرشل مقدمات، ای فائلنگ اور اے آئی گائیڈلائنز کی منظوری دے دی

اسلام آباد (راشد محمود ستی) سپریم کورٹ کے ذیلی ادارے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے ملک میں جبری گمشدگیوں کے مقدمات پر مؤثر ادارہ جاتی ردعمل کے لیے نیا میکنزم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق گرفتار ملزم کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کرنے کے معاملے پر سخت پالیسی اپنائی جائے گی۔
یہ فیصلے ہفتہ کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیے گئے۔
اجلاس میں تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین نے شرکت کی۔
کمیٹی نے جبری گمشدگیوں اور کمرشل مقدمات پر مؤثر عدالتی ردعمل کی منظوری دی۔
کمرشل مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے کمرشل لِٹیگیشن کوریڈور نافذ کرنے کا فیصلہ ہوا۔
مقدمات کے فیصلوں کے لیے مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔
عدالتی نظام میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال کے لیے قومی گائیڈلائنز تیار کی جائیں گی۔
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے 4 لاکھ 65 ہزار سے زائد مقدمات نمٹانے کے ریکارڈ کو سراہا گیا۔
پشاور ہائیکورٹ کے وراثتی مقدمات کے نظام کی تعریف کی گئی۔
تمام ضلعی عدالتوں میں ای فائلنگ کے فوری آغاز کی منظوری دے دی گئی۔
2019 تک کے تمام پرانے وراثتی مقدمات 30 دن میں نمٹانے اور جیل اصلاحات پر صوبوں سے مشاورت کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *