عالمی جمہوریت کا توہمیں نہیں پتا ہے کہ وہ کیا ہے اورکیسے کام کرتی ہے،کہ اکثریورپی ممالک جمہوریت چلائے ہوے ہیں،اوروہ قانون کی رٹ بھی قائم رکھے ہوے ہیں،لیکن پاکستان کے اندرچلنے والی جمہوریت اوراقوامِ متحدہ میں چلنے والی جمہوریت قانون کی نہیں ووٹوں کی رٹ قائم کیئے ہوے ہیں،اقوامِ متحدہ میں پون صدی کے پڑے ہوے متنازع معاملات ویٹوپاوراورووٹوں کی کمی کی وجہ سے جوں کے توں ہی پڑے ہیں،جن میں فلسطین اورکشمیر کا مسئلہ سرِ فہرست ہیں۔پاکستان کی جمہوریت بھی جب سے آئین کی تشکیل کا مرحلہ طے کیئے ہوے ہے،یہ بھی آئین اورقانون کا نام تو لیتی ہے،لیکن آئین اور قانون جوکہ پہلے سے طے شدہ ہیں چاہے وہ مذہبی ہیں یا جمہوری،ان کی رٹ قائم کرنے میں ہچکچاتی ر ہتی ہے،اورکوئی فیصلہ جو آئین اورقانون کے مطابق بھی ہواسے افذکرنے کے لیے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے،جس کے لیے کسی بھی حکومت کو ووٹرزکی غیر آئینی جوڑتوڑکرناپڑتی ہے،کبھی ووٹوں کو نوٹوں یا لوٹوں کے ذریعے پورا کرنا پڑتا ہے۔اسی لیے ہمارے ہاں ووٹ اورنوٹ دونوں ایک دوسرے کے ساجھے دار ہیں، کہ جہاں نوٹ نہیں وہاں ووٹ نہیں،جمہوری چناویا انتخابات میں بھی یہی کلیہ چلتا ہے،جس کی روسے کوئی کم مالدار انتخابات میں جیت نہیں سکتا چاہے وہ کتنا ہی دانشمنداورمحبِ وطن کیوں نہ ہو،جمہوری پارٹیاں جوکہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں ہی کی ملکیت ہوتی ہیں،اورجمہوری لیڈر بھی جب کبھی غیرجمہوری طریقہ سے ہٹایئے جائیں تووہ بھی ایک ہی مطالبہ کرتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو،او ر اگرجمہوری طریقے سے بھی ہٹادیئے جائیں تو بھی وہ یہی کہتے ہیں،کہ ایک اکثریت رکھنے والی پارٹی کے کسی لیڈر کوقانونی طریقے سے بھی ہٹانے کا جوازنہیں کہ یہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے،توکیا اس طرح کوئی ملک چل سکتا ہے کہ وہ صرف عوام کے ووٹ ہی پرچلایا جائے اس میں کسی قانون اورآئین اورملک کے فائدے اورنقصان کو مدِ نظرنہ رکھا جائے،اب غور کیجیے جس جمہوریت میں پچاس ہزار اور پچاس ہزارایک ووٹ کا مقابلہ ہواورایک ووٹ والا حکومت میں چلا جائے،اورپچاس ہزار والاباہررہے،تووہاں پچاس ہزار ووٹوں کی عزت کا کیا بنے گا؟اورپھرپچاس ہزار ایک والا اپنی حکومت کی طاقت سے ملک کو قانون کے بجائے،اپنے ووٹروں کی مرضی سے چلائے تو کیا وہ ملک چل سکتا ہے؟آج پاکستان اندرونی اوربیرونی طور پرجس نہج پرپہنچ چکا ہے،اس میں یہ جمہوری اندازجو آئین وقانون سے بالا ہوکر چل رہا ہے،اس کا ہاتھ ہے،لیکن اس کے باوجودآج بھی پاکستان ا ور اقوام متحدہ اسے قانون اور آئین کے تحت لانے کے بجائے ووٹ کی طاقت سے چلانے پر مصر ہیں،اگر اسی روش پرچلا گیا تو جس طرح اقوامِ متحدہ دنیا میں جنگیں رکوانے اورامن قائم کرنے میں ناکام ہے،اسی طرح پاکستان بھی اپنے اندرونی انتشاروافتراق کوروکنے میں الجھا ہی رہے گا،اوروقت کے ساتھ یہ تماشے بڑھتے ہی رہیں گے، کہ اس جمہوری اندازِ انتخابات میں عالمی درانداز خفیہ مالی مدد سے ملک وقوم کے بجائے شخصیات کی وفاداری اورسلامتی کے لیے عوام کوابھاررہے ہیں،عوام جوقانون وآئین کی پاس داری نہ ہونے کی وجہ سے معاشی اور معاشرتی مصائب میں الجھے ہوئے ہیں،جن کو روزگار اورانصاف جیسے لازمی حق بھی دستیاب نہ ہوں تووہ کیا اب اپنی زندگی بھی داوپرلگا کر یا اپنے بال بچوں اورعزتوں کو داوپرلگا کر کسی محبِ وطن کو منتخب کریں اور وہ بے چارہ اسمبلی میں جاکر عوام کے قانونی حقوق کے لیے آواز اٹھائے،توووٹوں کی کمی کی وجہ سے وہ آواز بے اثرہوجائے،اورعوام کو جمہوری جبرسے غیر قانونی مصائب اٹھانے پڑیں،تو پھر وہ اگلی بار کسی ایسے شخص کو وٹ کیوں دیں گے،جسکی وجہ سے ان کے ووٹ کی کوئی قیمت نہ رہی ہو،لہذاوہ دوسری بار اسی کوووٹ دیں گے جو کم ازکم ان کے ووٹ کی قیمت انہیں پہلے ہی ادا کردے،کہ کل جمہوریت کے لیے جواس نے اپناووٹ بیچنا ہے،توآج اس کا خریدنا تو بنتا ہے،اس جمہوریت نے اپنے کاروبار کے مراکز بچانے کے لیے،ایک یہ طریقہ بھی ایجاد کررکھا ہے کہ ووٹ پارٹی کے خلاف نہیں دیا جاسکتا،لہذااگر پارٹی کا مالک ملک دشمن بھی ہوتو ووٹ اسی کی مرضی سے دیا جائے گا،ایسے آسان ماحول میں عالمی در انداز بغیر کسی بڑی سازش کے ایک بندے کو خفیہ امداد دے کر اوراس کی میڈیائی مدد کرکے، انتخاب جیتنے کے لیے عوامی رائے خرید کر اسے حکومت میں لاکر اس سے اپنے مقاصد کے مطابق قوانین بنواکراپنی راہ ہموار کیوں نہ کرپائیں گے۔جس کی بنا پر آج پاکستان مضبوط عالمی طاقت ہونے کے باوجود اندرونی طور پر انتشار اور افتراق میں مبتلاہے،جمہوریت کا یہ سسٹم ہمارے اداروں کے اندر بھی پھیل چکا ہے،حالانکہ ادارے جو ملکی انتظام وانصرام کے ذمہ دار ہوتے ہیں،وہ کسی سیاسی اورعوامی مسائل کوووٹوں کی تعدادسے نہیں قانون کے ذریعے نمٹانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں،لیکن ہمارے یہاں انتظامیہ سے لے کر عدلیہ تک قانونی نہیں سیاسی،عوامی یا اختیاری طاقت کے ذریعے مسائل کا حل کرتے ہیں،اگرکسی کے پاس سیاسی یا عوامی طاقت ہوتو اس کے لیے قانون ریلیف دیتا ہے،چاہے وہ جھوٹا ہی ہو،لیکن دوسری طرف ایک سچابندہ اس لیے سزایافتہ ہوجاتا ہے کہ اس کے پاس نہ سیاسی سپورٹ ہے نہ عوامی طاقت۔لہذایسے پاکیزہ جمہوری نظام کی موجودگی میں جو پاکستان آج تک قائم ہے یہ واقعی ہی اللہ کا معجزہ ہے،لیکن اللہ تعالیٰ جہاں معجزوں پرقادر ہے وہاں ہی وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ”بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کونہیں بدلتا جب تک کہ وہ خوداپنے اوصاف یا اعمال کونہ بدل لیں“ لہذا آج پاکستان کے صاحبانِ بست وکشاد کو اگر جمہوری نظام ہی پیارا ہے تووہ اسے بچانے کے لیے آئین وقانون کوووٹ کے ماتحت نہ کریں بلکہ ایک طرف سو ووٹ ہوں اوردوسری طرف ایک ووٹ ہی ہوتو اگر وہ آئین وقانون کے مطابق درست ہے تو اسے ماناجائے،نہ کہ سوووٹوں کو،اورتمام ملازمانِ سرکار چاہے وہ عدلیہ ہی ہواسے بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ آئین وقانون کو ٹیکنیکلی اوراختیاری صواب دید نہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر استعمال کریں،اورتمام حکومتی ارکان اورسرکاری ملازمان کے قانونی استثناء ختم کیے جائیں،اگر خدانخواستہ اسی طرح استثناء اور ووٹ قانون کی راہ میں حائل رہے تویہ ملک اورقوم کبھی بھی اپنے مقاصد کو نہ پاسکیں گے،اللہ تعالیٰ اس قوم اورملک کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمیں وماعلی الاالبلاغ۔
جمہوریت اورقانون کی رٹ
