کالم نگار: ظفر اقبال ظفر
اگر کسی بھی حکمران کا دور حکومت سچائی و حقائق کے ساتھ جاننا ہو تو اُس دور کا ادب پڑھیں۔صرف ایک ادیب،مصنف،رائٹر،یعنی قلم ہی پورا عوامی سچ لکھتا ہے۔
اگر حکومت کے وجود کا مقصد دیکھا جائے تو یہ صرف کمزور، غریب، پسے ہوئے طبقے کو علاج،تعلیم،روزگار، انصاف، تحفظ مہیاء کرنا ہے۔ انہی عوامی حقوق کے حصول پر آج کا ملکی سچ یہ ہے ایک مزدور کے حالات زندگی دیکھ لیجئے کہ بے روزگاری و مہنگائی پیدا کرتی اس نالائق حکومت کے دور میں مزدوری کو اتنا سستا کر دیا ہے کہ کثیر تعداد کے مزدور منڈی میں سارا دن کھڑے شا م کو خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور پھر اگلی صبح ان کی مزدوری کا نہیں مجبوری کا سودا ہوتا ہے۔
جس مزدور کو سخت گرمی اور اپنے وسیع کام کا اعصابی تناؤ ناقابل برداشت لگتا تھا وہ بچے پالنے کے لیے بے حس حکمرانوں کی بنائی اس جہنم میں روز اترتا ہے۔سفید پوش گھرانوں کی عورتیں نقاب کرکے بازاروں میں بھیک مانگتی ہیں اور پھر ایک دن کی خوراک خرید کر بچوں میں لوٹ جاتی ہیں۔انسانی حقوق تو چھوڑئیے یہاں انسانیت ہی پامال ہو رہی ہے۔
غریب عوام کو ان حالات میں پہنچانے والے حکمرانوں کے متعلق خدا سے سوال کرتا ہوں کہ، اے خدا ان کا خالق بھی تو ہی ہے؟
غریب عوام کا حال لکھوں تو ہر لفظ درد سے بھر جائے گا۔اور درد کا سب تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ بڑوں سے چلتا آیا اور نسلوں تک منتقل ہوتا رہے گا کسی کے پاس اس کا مرہم نہیں۔
اک بار فیض احمد فیض سے پوچھا گیا،اب اور اس ملک کے ساتھ کیا برا ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا اس سے بھی برا یہ ہو گا کہ یہ یونہی چلتا رہے گا۔
مجھے، یونہی چلتا رہے گا،سے متفق نہیں ہونا میں اس ملک کا سب سے حقدار مستحق طبقہ اُس سہولتوں میں دیکھنے کا آرزو مند ہوں، جو اس ملک پر قابض اشرفیہ جی رہی ہے۔
اس کے لیے کیا خونی انقلاب آئے گا؟ نہیں مجھے پہلے ہی اس سسٹم کی ناانصافیوں سے مر جانے والوں کا دُکھ کھائے جا رہا ہے، میں کسی جان کے جانے کا حامی نہیں ہوسکتا۔پھر کیسے پسے ہوئے طبقے کے وسائل ان تک پہنچیں گئے؟ہڑتال کرنی ہو گئی؟ نہیں،روز کماتے ہیں تو کھاتے ہیں ہڑتال نہیں۔پھر کیا احتجاج کرنا ہوگا؟ نہیں،احتجاج سے عوامی تقدیر تو کیا تصویر پر بھی اثر نہیں پڑے گا۔پھر کیا دھرنا دینا ہوگا؟دھرنا۔۔ہاں مگر ماضی و حال جیسا دھرنا نہیں۔پھر کیسا؟اپنے اندر صبر و برداشت کا دھرنا دینا ہوگا۔وہ کیسے؟دیکھو اس ملک میں غریب عوام کی ہی اکثریت ہے ناں؟ ہاں تو۔۔انہی کو نچوڑ کر اشرفیہ کو پالا جا رہا ہے۔اس اشرفیہ کو فاقوں پہ لانا ہو گا۔غریب ان کے منہ میں اپنے بچوں کے نوالے ڈالنا بند کر دیں یہ وسائل پہ قابض نظام مر جائے گا۔۔۔وہ کیسے؟ دیکھو مہنگی بجلی ظالمانہ نرخ وہ بھی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ یعنی سہولت کے نام پہ ایک عذاب کا نام بجلی ہے اس بجلی کو اسی اشرفیہ پہ گرا دو۔۔کیا مطلب؟ دیکھو ظالم وہ نہیں جو ظلم کرتا ہے ظالم وہ ہے جو ظلم سہتا ہے۔۔۔ٹھیک کہا پھر؟ غریب اجتماعی طور پر اس کی خریداری سے دستبردار ہو جائیں یعنی کچھ عرصہ بجلی کی خریداری ترک کردیں۔۔ہو سکتا ہے کنکشن ہی کٹ جائیں، کٹ جانے دیں۔۔۔نوے فیصد بل جمع ہی نہ ہوئے تو۔۔۔۔زبردستی کی مہنگائی خریدنے سے انکار مطلب ناجائز نرخوں کا عملی بائی کاٹ خریداری نہ کرنا ہے، اب کسی دوسرے ملک کو تو بیچ نہیں سکتے نا کوئی اور ملک ہماری عوام جتنا مجبور ہے۔۔دشمن ہمسایہ ملک بھارت پہلے ہی اپنی عوام کا بل دو سو یونٹ اور اس سے بھی زائد یونٹ مفت دیتا ہے۔چائنہ ہمیں سولر بیچتا ہے وہ کیوں خریدے گا۔۔۔افغانستان بھی دشمن ملک وہ بھی اُس ظالمانہ قیمتوں پر نہیں لے گا جس پر اپنی عوام کو دیتے ہیں۔۔۔ایران اپنی عوام کے ساتھ ظلم کا عادی ہی نہیں وہ اپنا سارا انتظام آپ رکھتا ہے۔۔ایسے ہی پٹرول و گیس کے ساتھ کیا جائے،مطلب جس چیز کے نرخ اُس کی اوقات میں لانے ہیں اس کا استعمال ترک کر دیا جائے۔ ایک قوم کی طرح متفق اور متحد ہو کر ہی ہم مسائل کو دفنا سکتے ہیں اور پھر ہمارا آئین بھی تو ہمیں سول نافرمانی کی اجازت دیتا ہے سوچو اگر ہم ناجائز ٹیکس پر مبنی اشیاء کی خریداری سے انکار کر دیں تو اس کی کیا اوقات رہ جائے گئی؟اس کے بعد پتا ہے کیا ہوگا؟کیا ہوگا؟ اشرفیہ عوام سے لوٹا ہوا سرمایہ سمیٹ کراس ملک سے فرار ہو جائے گئی۔۔۔اگر نہ ہوئی تو؟ ارے بھئی یہ اشرفیہ اپنے دور حاضر کے ظالمانہ سلوک سے ثابت کر چکی ہے کہ یہ محب عوام تو ہے ہی نہیں۔۔مگر اس سے بھی بڑا سچ تو یہ ہے کہ محب وطن بھی نہیں ہے۔۔وہ کیسے؟ یہ اس ملک کو چلانے کے لیے اپنا لوٹا ہوا پیسہ کبھی خرچ نہیں کرئے گئی۔۔نہ باہر سے واپس لائے گئی۔یہ نہ لیڈر ہیں نا سیاست دان۔۔۔وہ کیسے؟ دیکھو لیڈر اپنا نہیں اپنی عوام کا سوچتا ہے۔۔ٹھیک۔۔ہاں ٹھیک۔۔۔اور سیاست دان بھی وہ ہوتا ہے جو اپنی زہنی قابلیت و عمل سے عوام کے لیے وسائل پیدا کرئے۔۔۔یہ اس میں بھی ناکام۔۔۔یہ وہ تاجر ہیں جنہیں اقتدار کی سہولت درکار ہے۔۔۔انہوں نے اقتدار نہیں سنبھالا بلکہ اپنی نسلوں اور ساتھیوں کا مالی مستقبل سنبھالا ہوا ہے
دیکھو آج بھی یہ امیر سے امیر تر ہیں اور ہمارے محب وطن غریب۔۔۔ان کے پاس محب وطنی کے سوا ہے ہی کچھ نہیں۔۔نہ یہ ملک چھوڑ سکتے ہیں نہ غداری کر سکتے ہیں یہ بچارے جینے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔۔۔اب ان کے پاس اشرفیہ کو مارنے کے سوا کیا راستہ بچتا ہے؟۔۔۔اس ملک کا غریب حکومتی وسائل کے بغیر مزدوری کرکے اپنا گزارہ کر سکتا ہے تو مہنگی تنخواہیں لینے والے کیوں مراعات کے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے ان کی محب وطنی،نچلے درجے کے عوامی معیار زندگی پر جینا گناہ و سزا سمجھتی ہے؟
آپ کیا کہتے ہیں؟
اس ملک کی عوام پاکستان کے نام پر آدم خور اشرفیہ کے نوالے بنتے رہیں یا ناجائز ٹیکس و مہنگائی کی خریداری بند کرکے انہیں مار دیں؟
عوام مار نظام کی موت کا واحد حل
