مولانا فضل الرحمان سے چند مؤدبانہ سوالات: قومی یکجہتی، سیاسی اصول اور وقت کا تقاضا

تحریر: طارق خان ترین

مولانا فضل الرحمان پاکستان کی ان سیاسی و مذہبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں پارلیمانی سیاست، مذہبی قیادت اور قومی معاملات پر اثرانداز ہونے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی سیاسی بصیرت، گفتگو کا انداز، مختلف سیاسی قوتوں سے رابطے کی صلاحیت اور مشکل حالات میں اپنے مؤقف پر قائم رہنے کی عادت ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔ موجودہ سیاسی و سماجی انتشار میں اگر مولانا فضل الرحمان کو پاکستان میں سیاسی و مذہبی اتحاد کی ایک بڑی علامت قرار دیا جائے تو یہ مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ یہی مقام اور وقار ان کی ذمہ داریوں کو بھی عام سیاسی رہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ اہم بنا دیتا ہے۔

تاہم، جب کسی رہنما کو قوم کی رہنمائی کی صلاحیت حاصل ہو تو اس سے سوالات بھی زیادہ سنجیدگی اور احترام کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ مقصد کسی شخصیت کی تضحیک یا سیاسی کردار کی نفی نہیں، بلکہ ان کے تجربے، اثرورسوخ اور قومی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جاننا ہے کہ آیا ہماری سیاسی قیادت اپنے اصولوں کو تمام سیاسی جماعتوں پر یکساں طور پر لاگو کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔

مولانا صاحب! آپ کی سیاسی جدوجہد اپنی جگہ قابلِ مطالعہ ہے، لیکن جمعیت علمائے اسلام (ف) کی داخلی جمہوریت، قیادت کی منتقلی اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر بھی گفتگو ہونی چاہیے۔ 1980 کی دہائی سے جماعت کی قیادت مسلسل آپ کے ہاتھ میں ہے اور ستمبر 2024 میں بھی آپ بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ دسمبر 2020 میں مولانا گل نصیب خان، مولانا شجاع الملک اور دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف جماعتی کارروائیوں نے بھی اندرونی اختلافِ رائے اور تنظیمی طریقۂ کار کے بارے میں سوالات پیدا کیے۔ ان معاملات پر جماعت کا مؤقف سننا یقیناً ضروری ہے۔ کیا جے یو آئی (ف) اپنے داخلی انتخابات، پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم، اہم سیاسی فیصلوں اور مالی حسابات کی شفافیت پر کھلی بحث کے لیے تیار ہے؟ مذہبی اور رفاہی مقاصد کے لیے جمع ہونے والے عطیات کے معاملے میں بھی شفافیت اور قانونی جانچ کا یکساں معیار تمام تنظیموں پر لاگو ہونا چاہیے۔ یہ سوالات کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ اس اصول کے حق میں ہیں کہ مذہبی تقدس اور سیاسی حیثیت کسی بھی تنظیم کو جواب دہی سے بالاتر نہیں کر سکتے۔

مولانا صاحب! آپ نے ہمیشہ آئین، پارلیمان اور جمہوری اقدار کی بات کی ہے۔ اسی لیے یہ توقع بھی بجا ہے کہ آپ سیاسی اختلافات اور اتحاد کے معاملات میں اصولوں کی یکسانیت کو اہمیت دیں گے۔ تحریک انصاف کے ساتھ آپ کے سیاسی اختلافات بھی رہے ہیں اور مختلف مواقع پر تعاون کی صورتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ سیاسی مفادات اور حالات کے تحت اتحاد بنانا جمہوری سیاست کا حصہ ہے، لیکن قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ ایسے فیصلوں کی اصولی بنیاد کیا ہوتی ہے۔ کیا سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون صرف کسی مشترکہ سیاسی مقصد کے لیے ہوتا ہے، یا اس میں ان کے ماضی کے طرزِ عمل، آئینی مؤقف اور قومی معاملات پر کردار کا جائزہ بھی شامل ہونا چاہیے؟

سائفر کے معاملے پر تحریک انصاف کی سیاسی مہم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی، سفارتی تعلقات اور داخلی سیاست میں ایک شدید تنازع پیدا کیا۔ اس معاملے میں مختلف الزامات اور قانونی و سیاسی مؤقف اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا کسی حساس سفارتی معاملے کو سیاسی مقبولیت کے لیے استعمال کرنے سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا نہیں ہوا؟ اسی طرح 9 مئی 2023 کے واقعات میں فوجی تنصیبات، سرکاری عمارتوں اور قومی املاک پر حملوں نے پورے ملک کو صدمے سے دوچار کیا۔ ان واقعات کی مذمت، ذمہ داروں کے تعین اور انصاف کے تقاضوں پر کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے۔ ایسی جماعت جو اقتدار کے حصول کیلئے ملک میں انتشار اور انارکی پھیلاتی ہو کیا ایسی جماعت کیلئے احتساب کے اصول واضح نہیں ہونے چاہیے؟

آپ ایک ممتاز عالمِ دین ہیں، اس لیے دینی شعائر اور مذہبی مقدسات کے احترام کے حوالے سے بھی قوم آپ سے خصوصی رہنمائی کی توقع رکھتی ہے۔ اپریل 2022 میں مسجدِ نبوی ﷺ میں پیش آنے والے واقعے نے پاکستانی معاشرے میں شدید ردِعمل پیدا کیا تھا۔ اس واقعے میں ملوث افراد کا تعلق کس جماعت سے تھا؟ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ سیاسی اختلاف کو مقدس مقامات کے احترام پر غالب کیوں آنے دیا جائے۔ اسی طرح سیاسی شخصیات کی جانب سے مذہبی علامات یا اسلامی شعائر کے بارے میں توہین آمیز گفتگو پر بھی یکساں اصول اپنانا ضروری ہے۔ کسے نہیں معلوم کہ بانی پی ٹی ائی نے بارہا اسلامی تعلیمات کی توہین اپنے تقاریر میں نہیں کی؟ یقینی طور پر اسلامی شعائر کی توہین کرنا کسی بھی مسلمان کیلئے ناقابل قبول ہے تو آج آپکی انکے حمایت میں بات کرنا کن اصولوں کی بنیاد پر ہے؟ اپ کی رہنمائی سیاسی مقابلے کا ہتھیار بننے کے بجائے اسے اخلاق، رواداری اور اجتماعی ذمہ داری کی بنیاد بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مولانا صاحب! خیبر پختونخوا کے عوام بھی آپ کی توجہ کے مستحق ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے پر طویل عرصے تک حکمرانی کی ہے۔ اس عرصے میں ترقیاتی منصوبوں، صحت، تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور امن و امان کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ صوبائی بجٹ کی مجموعی مالیت سینکڑوں ارب روپے سے بڑھ کر ہزاروں ارب روپے تک پہنچی، مگر اصل سوال بجٹ کے حجم کا نہیں، عوام کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی کا ہے۔ اگر گزشتہ تیرہ برس کے ترقیاتی وسائل مؤثر منصوبہ بندی، شفاف اخراجات اور مضبوط نگرانی کے ساتھ استعمال کیے جاتے تو آج صوبے کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورتِ حال میں کہیں زیادہ نمایاں بہتری ممکن تھی۔ لیکن اس کے پیچھے موجود بنیادی سوال نہایت سنجیدہ ہے کہ اتنے بڑے مالی وسائل کے باوجود عوام کو امن، روزگار، معیاری تعلیم اور بہتر صحت کی سہولتیں مطلوبہ پیمانے پر کیوں میسر نہیں آ سکیں؟

آج خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع دہشت گردی، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ہمارے سکیورٹی اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کے جنازے محض ایک خاندان کا غم نہیں، پوری قوم کے لیے قربانی، ذمہ داری اور یکجہتی کا امتحان ہوتے ہیں۔ سیاسی قیادت کی موجودگی، شہداء کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور ان کی قربانیوں کا اعتراف عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ تمام سیاسی رہنما دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کی قربانیوں کو سیاسی اختلافات سے بلند ہو کر خراجِ تحسین پیش کریں اور اس قومی جدوجہد میں یکساں طور پر شریک ہوں؟

گورنر راج کے معاملے پر بھی یہی اصولی طرزِ فکر درکار ہے۔ اگر خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال کی بنیاد پر گورنر راج کی تجویز پیش کی جاتی ہے تو اس کے آئینی جواز، عملی ضرورت اور ممکنہ نتائج پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ اسی معیار کو بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کے لیے بھی یکساں طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات، حکومتی اقدامات اور انتظامی صلاحیتوں میں فرق کو نظرانداز کرکے محض سیاسی مماثلت کی بنیاد پر ایک ہی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خلاف وفاق اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کس حد تک مؤثر تعاون کر رہی ہیں، عوام کے تحفظ کے لیے کیا عملی اقدامات اٹھا رہی ہیں اور شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ان کا طرزِ عمل کیا ہے۔ جہاں حکومتیں مؤثر اقدامات کر رہی ہوں، ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے؛ جہاں کوتاہیاں ہوں، وہاں شواہد کی بنیاد پر جواب طلب کیا جانا چاہیے۔

اسی تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ تقریباً 35 ہزار افراد کی افغانستان سے واپسی اور سابقہ قبائلی اضلاع میں ان کی آبادکاری کے فیصلوں کے وقت کس کی حکومت تھی؟ جنکی آبادکاری سے آج پورا ملک بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان متاثر ہے، کیا اس کے باوجود بھی اپ کے تقریروں میں انکا دفاع ضروری ہے جس سے آپ اور آپکی جماعت بھی براہراست متاثر رہیں ہے؟

آپ آئین کے دفاع اور پارلیمانی بالادستی کے علم بردار رہے ہیں۔ اسی لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب صدر عارف علوی نے اپریل 2022 میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری منظور کی، تو ان کے اس قدم کے آئینی جواز اور سیاسی اثرات پر آپ کا اصولی مؤقف کیا تھا؟ یقینا آپ نے ہمیشہ سے ائین کے تحفظ اور دفاع کیلئے ایک ٹھوس موقف رکھے رکھا ہے مگر جس جماعت کے سربراہ نے ایک ڈکٹیٹر بن کر ائین کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا، کیا اس پر ان کا محاسبہ نہیں ہونا چاہیے؟

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ تحریک انصاف اور اس کے بعض حامیوں کی جانب سے ماضی میں آپ کی ذات، مذہبی حیثیت اور سیاسی کردار پر طنز و تمسخر کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن کسی بزرگ عالمِ دین یا سیاسی مخالف کی تضحیک جمہوری تہذیب کے شایانِ شان نہیں۔ ایسے حالات میں جب آپ اسی جماعت کے حق میں سیاسی مؤقف اختیار کرتے ہیں تو عوام کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہونا فطری ہے۔ یقیناً سیاسی اتحاد مستقل دشمنیوں یا دوستیوں کا نام نہیں، مگر اگر کسی جماعت کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہو تو قوم یہ جاننا چاہے گی کہ کیا یہ تعاون کسی واضح قومی ایجنڈے، آئینی اصولوں اور عوامی مفاد پر مبنی ہے؟ آپ کی سیاسی بصیرت سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ آپ اس ابہام کو دور کریں گے۔

مولانا صاحب! یہ تحریر آپ کی سیاسی خدمات کی نفی کے لیے نہیں، بلکہ آپ کے مقام و مرتبے کے اعتراف کے ساتھ ایک مؤدبانہ گزارش ہے۔ پاکستان کو اس وقت محض سیاسی اتحادوں کی نہیں، بلکہ اصولی اتحاد، فکری ہم آہنگی اور قومی اعتماد کی ضرورت ہے۔ مذہبی قیادت، سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے اور عوام اگر ایک دوسرے کو مستقل حریف سمجھتے رہیں گے تو اس کا فائدہ ان عناصر کو ہوگا جو پاکستان کے داخلی اختلافات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ بیرونی مخالف قوتوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے کی کوششوں کا مقابلہ بھی اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب ہماری اپنی سیاسی قیادت اختلاف کے باوجود قومی مفاد پر متحد ہو۔

آپ ان شخصیات میں شامل ہیں جن کی آواز مذہبی حلقوں، سیاسی جماعتوں اور عوام کے ہر طبقے تک پہنچتی ہے۔ جب آپ قومی یکجہتی کی بات کرتے ہیں تو بہت سے لوگ آپ کی بات سننے کے لیے متوجہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قوم آپ سے صرف سیاسی حکمتِ عملی نہیں، بلکہ اخلاقی رہنمائی اور اصولی وضاحت کی بھی توقع رکھتی ہے۔ اگر آپ تحریک انصاف یا کسی دوسری جماعت کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو اس تعاون کو قومی سلامتی، آئین کی بالادستی، مذہبی احترام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور عوامی فلاح کے واضح اصولوں سے وابستہ کیجیے۔ اگر کسی جماعت کے اقدامات قابلِ مذمت ہوں تو ان پر مؤدبانہ مگر دوٹوک مؤقف اختیار کیجیے، اور اگر اس جماعت کے کسی جائز سیاسی مطالبے کی حمایت ہو تو اس کی بنیاد بھی قوم کے سامنے رکھیے۔

پاکستان کو تقسیم کرنے والی سیاست سے نکال کر ایک ایسے قومی مکالمے کی طرف لے جانا وقت کی ضرورت ہے جس میں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، احتساب ہو مگر انتقام نہ ہو، مذہب کا احترام ہو مگر اس کا سیاسی استحصال نہ ہو، اور ریاست کی سلامتی کے ساتھ شہریوں کے حقوق بھی محفوظ ہوں۔ مولانا صاحب! آپ کی سیاسی بصیرت اور مذہبی حیثیت اس قومی مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ قوم کو آپ جیسے تجربہ کار رہنماؤں سے توقع ہے کہ وہ اپنے سیاسی اثرورسوخ کو قومی مفاہمت، آئینی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کریں گے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام، ترقی اور باہمی احترام کی دولت سے مالا مال فرمائے، ہمارے شہداء کی قربانیوں کو قبول فرمائے، دہشت گردی کے خاتمے اور قومی یکجہتی کے لیے ہماری کوششوں کو کامیاب کرے، اور ہمارے رہنماؤں کو ذاتی و جماعتی مفادات سے بلند ہو کر ملک و قوم کے حق میں فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *