( ڈیرہ غازی خان (بیوروچیف چوہدری احمد سے)
ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ مارکیٹ میں ایل پی جی مبینہ طور پر 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی، جبکہ مقررہ قیمت تقریباً 280 روپے فی کلو بتائی جا رہی ہے۔ دونوں قیمتوں میں نمایاں فرق نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
آخر عوام کہاں جائیں؟
مہنگائی کے ہاتھوں پہلے ہی پریشان شہریوں کے لیے کھانا پکانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ غریب مزدور، دیہاڑی دار طبقہ اور محدود آمدن والے خاندان آخر اپنے بچوں کا پیٹ پالیں یا روز بروز بڑھتے اخراجات برداشت کریں؟
شہریوں کے ذہنوں میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کہاں ہیں؟ متعلقہ محکموں کے افسران اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کہاں ہیں؟ کیا دکانداروں کو اپنی مرضی کے نرخ مقرر کرکے عوام کو لوٹنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے؟
شہریوں کا ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ ایل پی جی کی فروخت کے نرخوں کی فوری جانچ پڑتال کی جائے، سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کروائے جائیں اور مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری صرف نرخ مقرر کرنا نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد یقینی بنانا بھی ہے۔ اگر مارکیٹ میں سرکاری نرخوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو اس کا جواب کون دے گا؟
آخر غریب عوام کو ریلیف کون دے گا؟ مہنگائی کے اس طوفان میں عوام کی داد رسی کون کرے گا؟
