بھارت اور یورپی یونین کے تجارتی معاہدے کے بعد پاکستان کو 9 ارب ڈالرز نقصان کا خدشہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 جنوری2026ء) پاکستان میں 1 کروڑ ملازمتیں خطرے میں پڑ گئیں، بھارت اور یورپی یونین کے تجارتی معاہدے کے بعد پاکستان کو 9 ارب ڈالرز نقصان کا خدشہ۔ تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور معروف کاروباری شخصیت گوہر اعجاز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ “یورپی یونین کو گزشتہ سال 9 ارب ڈالر کی برآمدات جنہیں صفر ٹیرف کی سہولت حاصل تھی، اب اس رعایتی دور کا خاتمہ ہو چکا ہے، کیونکہ یہی صفر ٹیرف سہولت اب یورپ میں علاقائی حریف ممالک (بھارت) کو بھی حاصل ہو چکی۔حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ صنعت کو خطے کے دیگر ممالک کے برابر توانائی، ٹیکس اور مالیاتی اخراجات پر مقابلے کے قابل بنائے۔ صنعت اب نظام کی نااہلیوں کا بوجھ مزید برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
فیصلہ آج کرنا ہوگا، کیونکہ یورپی یونین کو 9 ارب ڈالر کی برآمدات اور ایک کروڑ ملازمتیں خطرے میں ہیں۔” واضح رہے کہ حال ہی میں بھارت اور یورپی یونین نے طویل عرصے سے زیرِ التوا ایک بڑے اور تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے مدر آف آل ڈیلز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے کروڑوں عوام کے لیے بڑے معاشی مواقع پیدا کرے گا۔ نریندر مودی کے مطابق تقریبا دو دہائیوں سے جاری وقفے وقفے کی بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت بھارت اپنی وسیع مگر محفوظ مارکیٹ کو 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے لیے فری ٹریڈ کے تحت کھولے گا۔یورپی یونین اس وقت بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔بھارتی وزیر اعظم اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن نئی دہلی میں ہونے والے بھارت۔یورپی یونین سمٹ میں معاہدے کی تفصیلات کا مشترکہ اعلان کریں گے۔ مالی سال 2025 کے اختتام تک بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.5 ارب ڈالر رہا۔بھارتی حکام کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط قانونی جانچ پڑتال کے بعد کیے جائیں گے، جس میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ اس پر عمل درآمد ایک سال کے اندر متوقع ہے۔