دینی تعلیم پرجدیدتعلیم والوں کے اعتراضات
لارڈ میکالے کے نصابِ تعلیم کے سرکاری طورپرنافذہونے اوراس کے ساتھ ہی سرکاری نوکریاں صرف سرکاری نصابِ تعلیم والوں کودینے کے قوانین کے نٖفاذکے بعد سے آج تک ملک کے اندردوفرقے بنادئیے گئے ہیں ایک سرکاری یا جدید تعلیم والے دوسرے مذہبی تعلیم والے۔یہ فرقے اس قدر مستحکم اورمضبوط ہوگئے ہیں کہ ملک میں یکجہتی اورہم آہنگی نہ ہونے کے برابررہ گئی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری محکمہ جات اورسیاسی پارٹیاں جدیدتعلیم کے ماتحت ہوگئیں،چندبجھتی ہوئی مذہبی جماعتیں ملک کے اندرمذہب کے نام کوباقی رکھنے کے لیے آٹے میں نمک رہ گئیں ہیں۔اوراسی طرح عدالتوں میں قاضی،مفتی،شرعی مسائل نمٹانے کے لیے رکھے گئے لیکن ان کے لیے بھی مذہبی کے ساتھ جدیدسرکاری تعلیم لازم کردی گئی ہے۔جبکہ ایک اسلامی ریاست کے تمام صاحبانِ اختیارواقتدارکوجدیدتعلیم کے علاوہ مذہبی تعلیم یافتہ ہونا ضروری قرار دیاجاناچاہیے تھا۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔کسی جج کواسلامی حوالہ دیا جائے تووہ کہتا ہے،ہم انگریزی قانون کے ججزہیں آپ اسے شرعی عدالت میں لے جائیں۔باقی محکموں کی توبات ہی چھوڑیں۔ اب ایسے حالات میں عام لوگ دین کی تعلیم کیوں حاصل کریں گے؟کہ نااس سے سرکاری ملازمت ملتی ہے ناکوئی کاروبارچلتاہے بیرون ملک حتیٰ کہ سعودی عرب میں بھی جدیدتعلیم والوں کوہی کام ملتا ہے۔توبندہ چاہے مسلمان ہی ہوروزگار،عزت ووقارتواسے چاہیے ہی ہوتا ہے نا۔لہذاروزی روٹی عزت ووقار کے لیے بڑے بڑے دینی گھرانوں نے بھی بچوں کوجدیدتعلیم میں جھونک دیااوراس کے ساتھ ایک دل کو خوش رکھنے والے خیال کو پالتے رہے کہ اسے ہماری مذہبی تربیت اورخاندانی مذہبی مقام گمراہ نہیں ہونے دے گاحالانکہ تعلیم ہی وہ واحدذریعہ ہے،جس سے انسان ہدایت یا گمراہی میں چلا جاتا ہے، اسے کوئی نسب ونام کام نہیں دیتا۔پاکستانی قوم روزِ اول سے ہی اس مخمصے کا شکارہے کہ پاکستان میں مذہبی نہیں سیکولرتعلم ونظام ہونا چاہیے۔اوراب دوسری نسل اس پختہ جدیدیت کے ساتھ ملک وقوم کوجکڑچکی ہے۔دوسری طرف مذہبی تعلیم جوکچھ خالصتاًمذہبی گھرانوں کے لوگ نسل درنسل اسے اپناوقارو روزگاربنائے چلے آرہے ہیں اورکچھ موجودہ زمانے میں جب جدید تعلیم عام انسان کی پہنچ سے باہرہوگئی ہے تومفت حاصل ہونے والی مذہبی تعلیم جوچاہے اکثرمذہبی علماء کا ذریعہ معاش ہی سہی لیکن غریب بچوں کے لیے ایک آسراہے۔ باوجود اس کے مذہبی تعلیمی اداروں یعنی مدرسوں پرمذہبی تعلیم کے ساتھ کاروباری تعلیم یعنی طبعی یا سائنسی علوم پڑھانے پرپابندی ہے۔کیوں کہ طبعی علوم جیسے طب وجراحت،اشیاء سازی،یعنی مکینیکل تربیت دینے پرپابندی ہے،حالانکہ تمام مسلمان سائنسدان مذہبی تعلیمی اداروں سے ہی پڑھے ہوے تھے،انہوں نے فلسفے اورہیئت وریاضی،لاگرتھم کے علاوہ سائنسی ایجادات کی بنیادیں رکھیں،ہندوستان میں دورِ غلامی میں بھی مدارس نے اپنے نصاب میں فلسفہ، ہیئت،ریاضی،فلکیات،تقویم،وطب کوشامل رکھا،بلکہ پاکستان بننے تک درسِ نطامی میں فلسفہ، طب وتقویم لازمی مضامین تھے۔علماء کا قصوریہ ہے کہ انہوں نے انگریزوں کے دورمیں توان طبعی علوم کواپنے نصاب میں رکھالیکن پاکستان بنتے ہی جوچیز انگریز ان سے منوانہ سکے وہ انگریزکے تابعداروں کے ذریعے انہوں نے علمائے اسلام کوماننے پرمجبورکرلیا،علماء جن میں شعورِ دینی جومعاشرتی ضروریات سے مزین ہوتاوہ نہیں تھا۔انہوں نے بھی سوسالہ غلامی میں رہتے ہوے تدریجاًاپنے شعور کولارڈمیکالے کے تابع کرلیاہواتھا۔لہذاانہوں نے حکومت کے کہنے پراپنے نصاب کوقومی کے بجائے عالمی نصاب بنانے کے لیے جدیدیت کے تڑکے لگانا شروع کردئیے۔ جس کی ایک مثال یہ کہ جامعات کویونیورسٹیاں لکھاجانے لگا،علماء علامہ کے بجائے ڈاکٹرکہلانے میں فخرمحسوسکرنے لگے۔ مذہبی تعلیمی نصاب سکڑکرصرف قران وحدیث تک رہ گیا،اب کوئی بندہ تبرکایامذہباًحافظِ قران بن جائے تووہ اصل تعلیم جوتربیت وشعور کاذریعہ ہے وہ انگلش اور لارڈمیکالے کے نصاب سے حاصل کرتا ہے،کہ اسے سرکاری نوکری،روزگاراوروقار حاصل ہوتواب اگرشعورمیں لارڈمیکالے ہوتو یادداشت میں قران کیا فائدہ دے گا۔جدیدیت کے علامے لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ علماء نے کیا کیا؟حالانکہ جدید علوم والوں نے سرکاری نوکریوں اورعالمی کاروباری کمپنیوں کے سیل مین بننے کے علاوہ قوم وملک کے لیے کیا کیا ہے۔کوئی سائنسی ایجاد حتیٰ کہ میڈیکل میں بھی کوئی چیزپاکستانی جدیدسائنس دانوں نے ایجادکی ہو،کہتے ہیں جراحی کے آلات بڑاعرصہ پہلے سیالکوٹ کے یورپ میں استعمال کیے جاتے تھے،لیکن وہ جدید سائنس دانوں کے بنائے ہوے نہیں تھے۔وہ بھی ان پرانے لوگوں کی کارگزاری تھی۔اب دنیا کمپیوٹرکے دورمیں ہے،ہمارے سائنسدان صرف وہیں تک کمپیوٹرجانتے ہیں جتنایورپ والے ان کے لیے مناسب سمجھ کردیتے ہیں۔ہمارے ملک کے سائنسدانوں نے ابھی تک اپنی زبان میں کمپیوٹرکی ونڈوزتک نہیں بنائی کہ وہ بھی امریکہ والے بنا کردیں گے۔البتہ ہمیں ان پرطنزکے بجائے مذہبی علماء سے گزارش کرنا ہے کہ خداراآپ لوگ بھی ہواکے رخ پرنہ چلیں،بلکہ اس وقت پاکستانی قوم کوواقعی کسی حقیقی راہنما کی ضرورت ہے،جوملک وقوم کوصحیح سمت پرچلاسکے،توخدارااس وقت اس قوم وملک کے لیے دین اسلام کے منشورکوعالمی استعماری منشورکے مقابلے میں لائیں اپنے تعلیمی اداروں میں تمام شعبہ ہائے تعلیم کواپنی مذہبی اورقومی زبان میں مروج کریں،جسطرح خلافتِ اسلامیہ کے ادوارمیں تھا۔ اس کے لیے آپ کواگرحکومتی امدادنہ بھی ملے تورکیں نا۔تعلیم کے ساتھ صحت و صنعت وحرفت کی تعلیم مذہبی اورقومی زبان میں دیں۔تاکہ مذہبی طبقہ انگلش کے مقابلے میں اپناکردار ثابت کرسکے۔اللہ تعالیٰ اس قوم وملک میں اسلام کی حقیقی نشاۃِ ثانیہ کاظہورفرمائے آمین وماعلی الاالبلاغ۔