پاکستان میں کامرس ایجوکیشن، موجودہ صورت حال اور مستقبل کے تقاضے

خطابیات
عمرخطاب

کامرس ایجوکیشن کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور مالیاتی استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ طلبہ کو اکاؤنٹنگ، بزنس مینجمنٹ، فنانس اور تجارت کے عالمی نظام کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔ پاکستان میں اس شعبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے حال ہی میں نیشنل کوالیفیکیشن فریم ورک کے مطابق کامرس کے نصاب پر نظرثانی کی ہے تاکہ اسے مارکیٹ کی جدید ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اس عمل میں خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں جیسے قائداعظم کالج آف کامرس (یونیورسٹی آف پشاور) اور یونیورسٹی آف مالاکنڈ کے ماہرین نے نصاب سازی کی کمیٹیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان میں کامرس ایجوکیشن کے حصول کے لیے بی بی اے اور بی کام دو بڑے تعلیمی راستے موجود ہیں، جن کے اخراجات اور ملازمت کے مواقع میں واضح فرق ہے۔ بی بی اے چار سالہ ڈگری ہے جس کے ایک سمسٹر کی فیس زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے اور یہ گریڈ سترہ کی ملازمت کے لیے راہ ہموار کرتی ہے، جبکہ دو سالہ بی کام کی فیس محض بیس ہزار روپے کے لگ بھگ ہوتی ہے اور اس کے بعد عام طور پر گریڈ چودہ کی ملازمتیں میسر آتی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اب ڈگری کے حصول کے لیے تین کریڈٹ آورز کی انٹرن شپ اور تین کریڈٹ آورز کے کیپ اسٹون پراجیکٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے تاکہ طلبہ میں عملی مہارتیں پیدا ہو۔

پیشہ ورانہ سطح پر پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان اور انگلینڈ کے معتبر ادارے کے درمیان ہونے والا حالیہ معاہدہ ہے، جس نے پاکستانی اکاؤنٹنٹس کے لیے بین الاقوامی سطح پر عالمی ملازمتوں اور کریڈٹ ایگزمپشنز کے دروازے کھول دیے ہیں۔ تاہم، ملک میں ای کامرس کی صورتحال اب بھی چیلنجنگ ہے جہاں انٹرنیٹ ریٹیل کے شعبے میں فی کس سالانہ خرچ صرف صفر اعشاریہ چھ صفر ڈالر ہے، جبکہ جنوبی کوریا میں یہ شرح آٹھ سو اکہتر ڈالر ہے۔ ستمبر دو ہزار سترہ کے اختتام تک پاکستان میں ای کامرس کے اداروں کی تعداد محض چار سو تھی جو کل کاروباری اداروں کا صرف صفر اعشاریہ چار چار فیصد بنتی ہے، اور ای کامرس کے عالمی استعمال میں پاکستان کا ایک سو بیسواں نمبر ہے۔

جدید تحقیق بتاتی ہے کہ تہتر فیصد پیشہ ور افراد فنانس گریجویٹس کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی لٹریسی کو ناگزیر قرار دیتے ہیں، اور اس ٹیکنالوجی کی تعلیم اور ملازمت کے حصول کے درمیان صفر اعشاریہ سات آٹھ کی مضبوط مثبت شرح پائی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان روابط کی کمی ایک اور بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے تعلیمی معلومات اور صنعتی ضروریات کے درمیان خلیج پیدا ہوتی ہے اور گریجویٹس کو ملازمتوں کے حصول میں دشواری ہوتی ہے۔

پاکستان میں کامرس ایجوکیشن کی مزید بہتری کے لیے تجاویز یہ ہیں کہ جی ڈی پی کا مناسب حصہ تعلیم کے لیے مختص کیا جائے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ نصاب سے غیر ضروری مضامین نکال کر جدید دور کے تقاضوں جیسے فنانشل ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیٹکس اور ڈیجیٹل کامرس کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومتِ پنجاب کا چھہتر پبلک سیکٹر کامرس کالجز کو سترہ یونیورسٹیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ تعلیمی معیار اور انتظام کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اساتذہ کی تربیت کے لیے فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرامز کا آغاز کیا جانا چاہیے اور تحقیقی فنڈز کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ پاکستان کے طلبہ عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بن سکیں۔
وہ طلبہ جو خالصتاً اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ طویل ڈگریوں میں وقت لگانے کے بجائے کامرس ایجوکیشن اور عملی تجربہ حاصل کریں تاکہ وہ اپنے بزنس پر زیادہ بہتر توجہ دے سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *