عمران خان رہائی فورس بنانے کا آئیڈیا پارٹی کا نہیں بلکہ فیملی کی طرف سے آیا ہے

آئین قانون میں فورس کے نام سے باڈی بنانے کی گنجائش نہیں ہے، یہ فورس ٹرک کے دائیں جانب والی بتی ہے، ورکرز کو بس ڈیڑھ ماہ کیلئے اس بتی کے پیچھے لگایا جائے گا، رکن اسمبلی شیرافضل مروت
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 25 فروری 2026ء ) پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ علیمہ خانم نے جو بات کی وہ درست ہے کہ حامد خان سینیٹر بن کر غائب ہوگئے، علیمہ خانم نے جو آواز اٹھائی ہے یہ بات پہلے میں اکیلے بولتا تھا۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خانم نے جو بات کی وہ درست ہے کہ حامد خان سینیٹر بن کرغائب ہوگئے، اس بیان پر علیمہ خان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، علیمہ خانم نے جو آواز اٹھائی ہے اس سے پہلے میں اکیلے بولتا تھا، آج اگر پارٹی عہدیدار موجود نہیں تھے تو آئندہ انہیں حاضری لگانی چاہیئے۔وکلاء کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ ظلم کے خلاف انصاف کیلئے ٹکٹ دیئے گئے ہیں۔

بانی نے وکلاء کی ایماء پرقومی اسمبلی کے 70سے زائد ٹکٹ دیئے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر تمام گروپس کو ایم اجتماعی کمیٹی بنا لینی چاہئے، عمران خان رہائی فورس بنانے کا آئیڈیا پارٹی کا نہیں فیملی کا ہے، نئی فورس بنانے کا مطلب یہ ہے کہ یوتھ، آئی ایل ایف، آئی ایس ایف یا دیگر باڈیز پر عدم اعتماد کیا جارہا ہے، جس نے بھی نام چنا ہے انہوں نے پی ٹی آئی پر جو ماضی میں غلط الزامات لگے اس کو مدنظر رکھ کر نام نہیں چنا گیا۔آئین قانون میں کسی سیاسی جماعت کو فورس کے نام سے باڈی بنانے کی گنجائش نہیں ہے، ٹائیگرفورس پی ٹی آئی حکومت کے دور میں بنی، پاکستان کی تاریخ ہے کہ جس نے بھی فورس کے نام سے باڈی بنائی ، اس کو ریاست سے ٹکراؤ کی باڈی سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس کا نام خان رہائی تحریک کمیٹی رکھ دیا جاتا تو اس سے پی ٹی آئی کو ہمدردی ملتی اور مئوقف بھی واضح ہوتا۔ عمران خان رہائی فورس ٹرک کے دائیں جانب والی بتی ہے، اس بتی کے پیچھے ورکرز کو ڈیڑھ ماہ کیلئے لگایا جائے گا، پھر لیڈرشپ گالم گلوچ کھانے کیلئے بھی تیار ہوجائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *