آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت ،سپریم لیڈر کے بنکر میں غدار کون تھا،لوکیشن کس نے بھیجی؟

تہران (نیوز ڈیسک) عالمی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو یکم مارچ 2026 کو ایک پیچیدہ اور انتہائی خفیہ آپریشن کے دوران شہید کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ نہ صرف ایرانی دفاعی نظام بلکہ دنیا کے مضبوط ترین زیرِ زمین بنکرز کو بھی ناکام بنا گیا۔

ذرائع کے مطابق امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) اور اسرائیل کی یونٹ 8200 نے سگنل انٹیلی جنس اور سائبر وائر فنگ کے ذریعے خامنہ ای کے زیرِ زمین بنکر کا مقام ٹریس کیا۔ زیرِ زمین فائبر آپٹک کیبلز میں ایک ڈیجیٹل وائرس داخل کیا گیا جس نے سپریم لیڈر کے خصوصی سیٹلائٹ فون کی لوکیشن بالکل درست طور پر معلوم کر لی۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی اوپری قیادت میں موجود ایک مبینہ جاسوس نے اسرائیل کے لیے کام کرتے ہوئے ایک بیکن ڈیوائس ایکٹیویٹ کی، جس سے F-35 سٹیلتھ طیاروں کو بنکر کی صحیح لوکیشن فراہم ہوئی۔ اس آپریشن کا نام “آپریشن ایپک فیوری” رکھا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے 50 سے زائد F-35 طیارے اردن اور عراق کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایران میں داخل ہوئے اور بنکر بسٹر GBU-72 بم استعمال کر کے 100 فٹ گہری کنکریٹ تہوں کو تباہ کیا گیا۔ دھماکے سے تہران میں 4.5 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا اور بنکر مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

تہران میں حملے کے بعد انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے حملے سے پہلے کی تمام کالز اور پیغامات کا ڈیٹا اسکین کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ ایئرپورٹ پر غیر ملکیوں اور دوہری شہریت رکھنے والے افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

عالمی میڈیا اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق بنکر کے اندر کسی نے ڈیجیٹل مارکر ایکٹیویٹ کیا، جس سے مخبر کی موجودگی سپریم لیڈر کے قریب ثابت ہوتی ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس کے اعلیٰ افسران کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان پر امریکہ اور اسرائیل کو معلومات فراہم کرنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ آپریشن مشرق وسطیٰ کے انٹیلی جنس اور دفاعی نظام کے لیے ایک سنگین دھچکا سمجھا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر اس کے سیاسی اور فوجی اثرات زیرِ غور ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *