سعودی عرب ایران فضائی حدود فیصلہ: ایران کے خلاف سرزمین، سمندر اور فضائی حدود استعمال نہیں ہوں گی

سعودی عرب ایران فضائی حدود فیصلہ کے بعد مشرق وسطیٰ میں اس اعلان کو اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ اس کی فضائی حدود، سمندر اور سرزمین ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔

ایران نے سعودی عرب کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے اس فیصلے پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

ایرانی سفیر کے مطابق سعودی عرب نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائی، بحری اور زمینی حدود ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی کر رہا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے بھی خطے کی صورتحال پر بات کی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکا کے کئی دورے کر کے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال دراصل نیتن یاہو کی جنگ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انہیں بغیر کسی رکاوٹ کے اقدامات کرنے کی آزادی حاصل ہو۔

سعودی عرب ایران فضائی حدود فیصلہ کو ماہرین خطے میں ممکنہ بڑے تنازع سے دور رہنے کی پالیسی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *