آئی ٹی بورڈ کی جانب سے مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنا بند کیا جائے: پروفیسر شاہد ملک

پیپر لیس سسٹم نے مریضوں اور ڈاکٹروں کو مشکلات میں ڈال دیا: پروفیسر شاہد ملک

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر پروفیسر شاہد ملک نے کہا ہے کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز میں پنجاب آئی ٹی بورڈ کی جانب سے نافذ کیا گیا نام نہاد پیپر لیس سافٹ ویئر مریضوں اور ڈاکٹروں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے آؤٹ ڈور میں مریضوں کو اے فور سائز کی پرچی دی جاتی تھی جس پر ڈاکٹر مریض کا مکمل نسخہ تحریر کر دیتے تھے۔ تاہم اب اس نظام کو ختم کر کے تھرمل پرچی کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے جس کے باعث مریضوں کو نسخہ لکھوانے کے لیے باہر فوٹو کاپی کی دکانوں سے کاغذ خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
پروفیسر شاہد ملک کے مطابق نصب کیا گیا سافٹ ویئر انتہائی ناقص ہے، کمپیوٹر ہارڈویئر ناکافی ہے، متعدد مقامات پر انٹرنیٹ کی شدید خرابی ہے اور اس کے نتیجے میں آؤٹ ڈور میں مریضوں کی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں۔ فارمیسی میں ادویات کے اجرا میں بھی شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں جس کے باعث ایک چلتا ہوا نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیپر لیس سسٹم کے نام پر بغیر مناسب تیاری کے یہ نظام نافذ کرنے والے پنجاب آئی ٹی بورڈ کے ذمہ دار افسران کو فوری طور پر معطل کر کے تحقیقات کی جائیں۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز کا دورہ کریں اور مریضوں کی مشکلات کا جائزہ لیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مریضوں کی سہولت کے لیے تھرمل پرچی کے بجائے دوبارہ اے فور سائز کی پرچی کا نظام فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ مریضوں کو مناسب طریقے سے نسخہ لکھوانے کی سہولت میسر ہو سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *