اسلام آباد (نیوز ڈیسک)حکومت نے پٹرول اورڈیز ل کی قیمت میں 55،55روپے اضافہ کردیا،وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ خطے میں جاری جنگی صورتحال اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے بحران کے باعث توانائی کی فراہمی اور قیمتوں پر شدید دباؤ پیدا ہو گیا ہے، تاہم حکومت پاکستان ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ موجودہ بحران ابتدا میں ایک ہمسایہ ملک سے شروع ہوا تھا مگر اب اس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بحران کب تک جاری رہے گا، اس بارے میں واضح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور متبادل سپلائی ذرائع پر کام شروع کر دیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی طلب کے مطابق سپلائی برقرار رکھی گئی اور موجودہ ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے سپلائی چین کو فعال رکھا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بعض عناصر نے ناجائز منافع خوری کی کوشش کرتے ہوئے پٹرول پمپس بند کر کے شہریوں کو پریشان کرنے کی کوشش کی، خصوصاً لاہور میں پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس پر وزیراعظم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹریز کو ہدایت جاری کی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا ہے اور خطے میں کشیدگی کے باعث وہاں جہاز رانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت متبادل راستوں اور ذرائع سے تیل کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق اس وقت دو بڑے آئل کارگو پاکستان کی جانب روانہ ہیں جن میں سے ایک فجیرہ کی بندرگاہ کی طرف سے آ رہا ہے، جو پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے دوست ممالک کے ساتھ بھی رابطے تیز کر دیے ہیں اور بڑے آئل ٹینکرز کے ذریعے خام تیل کی فراہمی کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ ان کے مطابق یکم مارچ کو جب قیمتوں کا جائزہ لیا گیا تو اس وقت عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت تقریباً 78 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی، تاہم اب ان قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کا اولین مقصد ملک میں ایندھن کی مسلسل فراہمی کو برقرار رکھنا ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی عالمی صورتحال بہتر ہوگی اور قیمتیں کم ہوں گی، حکومت اسی رفتار سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بھی کرے گی۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی آ رہی ہے، اسی لیے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزے کا دورانیہ بڑھا کر ہفتہ وار کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے تاکہ حالات کے مطابق فوری فیصلے کیے جا سکیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی سطح پر جاری بحران جلد ختم ہو گا اور پاکستان کی معیشت اور عوام کو درپیش دباؤ میں کمی آئے گی۔