تحریر۔نظام الدین
موجودہ عالمی سیاست اور خاص طور پر مغربی ایشیا کے مسلم ممالک پر مسلط جنگی صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے صرف عسکری کارروائیوں یا عام سفارتی بیانات کو دیکھنا کافی نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بیانیے کو بھی سمجھنا ضروری ہوتا ہے جس کے ذریعے جنگ کو معنی دیے جاتے ہیں۔ الفاظ اور اصطلاحات محض لغوی تعبیرات نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایک مخصوص سیاسی اور تہذیبی تصورِ دنیا کو ظاہر کرتی ہیں۔ جنگ کے دوران استعمال ہونے والی اصطلاحات جیسے صلیبی جنگ، اسلامی فریب پر مبنی پیش گوئیاں، اسلامی انتہا پسندی، عمالیق، جبر و استبداد، آزادی، قوم سازی اور جمہوریت سازی کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف سادہ سیاسی یا مذہبی الفاظ نہیں بلکہ ایک خاص استعماری تصورِ دنیا کے نمائندہ بیانیے ہیں۔
قرآن کریم انسانی تاریخ کے اس پہلو کو بہت گہرائی سے بیان کرتا ہے کہ طاقت ور اقوام ہمیشہ اپنے عمل کو اخلاقی جواز دینے کے لیے زبان اور بیانیے کا سہارا لیتی ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
“اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے لوگوں کو مجرم بنایا تاکہ وہ وہاں مکر و فریب کریں۔”
(سورۃ الانعام: 123)
یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ طاقت اور اقتدار کے ساتھ اکثر ایک ایسا فکری ڈھانچہ بھی پیدا کیا جاتا ہے جو ظلم کو بھی ایک جائز اور ضروری عمل کے طور پر پیش کرتا ہے۔
جدید عالمی سیاست میں جنگ کو براہِ راست استعمار یا تسلط کے نام پر پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے اخلاقی اور تہذیبی جواز کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ اس بیانیے میں ایک فریق کو آزادی، جمہوریت اور تہذیب کا نمائندہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے فریق کو انتہا پسندی، مذہبی جنون اور پسماندگی کی علامت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی انتہا پسندی یا اسلامی فریب پر مبنی پیش گوئیوں جیسی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد محض کسی خاص گروہ کی تنقید نہیں ہوتا بلکہ اسلام کو بطور ایک تہذیبی قوت مشکوک اور غیر معقول ثابت کرنا ہوتا ہے۔
قرآن اس نفسیاتی اور فکری جنگ کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے:
“وہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کیے بغیر نہیں رہے گا۔”
(سورۃ الصف: 8)
یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ نظریاتی اور فکری محاذ بھی انسانی تاریخ کی جنگوں کا اہم حصہ رہا ہے۔
اسی طرح صلیبی جنگ اور عمالیق جیسی اصطلاحات مذہبی تاریخ اور بیانیے کو موجودہ سیاست میں شامل کرنے کی مثال ہیں۔ صلیبی جنگیں دراصل گیارہویں صدی میں شروع ہونے والی وہ عسکری مہمات تھیں جن میں یورپی عیسائی طاقتوں نے مشرقی دنیا خصوصاً بیت المقدس پر قبضے کے لیے جنگیں کیں۔ ان جنگوں کو بھی اس وقت مذہبی اور اخلاقی مشن کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ یورپ کے عوام کو بتایا گیا کہ یہ جنگ ایک مقدس فریضہ ہے جس کے ذریعے “مقدس سرزمین” کو آزاد کرایا جا رہا ہے۔ لیکن تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ان جنگوں کے پیچھے سیاسی طاقت، تجارتی راستوں پر کنٹرول اور مشرقی دنیا پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کی خواہش بھی کارفرما تھی۔
اسی طرح عمالیق بائبلی روایت میں ایک ایسی قوم کا استعارہ ہے جسے مکمل طور پر ختم کر دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ جب جدید سیاسی بیانیے میں یہ اصطلاح استعمال ہوتی ہے تو اس کا مقصد مخالف فریق کو ایک ایسا دشمن ثابت کرنا ہوتا ہے جس کے ساتھ کوئی انسانی یا اخلاقی رعایت ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ اس طرح مذہبی علامتوں کو سیاسی جنگ کے جواز میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
تاریخ میں اس طرزِ فکر کی مثالیں بہت ملتی ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں یورپی طاقتوں نے ایشیا اور افریقہ پر قبضے کو “تہذیب لانے کا مشن” قرار دیا تھا۔ برطانوی سلطنت ہندوستان میں اپنی حکمرانی کو “امن، قانون اور ترقی” کا ذریعہ قرار دیتی تھی، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک واضح استعماری نظام تھا جس کا مقصد وسائل اور دولت کا حصول تھا۔
اسی طرح قرآن فرعون کے طرزِ اقتدار کو بیان کرتے ہوئے ایک اہم اصول بتاتا ہے:
“بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور وہاں کے لوگوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا۔”
(سورۃ القصص: 4)
یہ آیت اس سیاسی حکمتِ عملی کو بیان کرتی ہے جس کے ذریعے طاقت ور حکومتیں معاشروں کو تقسیم کر کے ان پر اپنا کنٹرول قائم رکھتی ہیں۔
موجودہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل اسی طرح کے بیانیے کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک طرف فلسطینی مزاحمت کو اسلامی انتہا پسندی یا مذہبی جنون کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیلی ریاستی کارروائیوں کو دفاع، آزادی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے نام پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس طرح عالمی میڈیا اور سفارتی زبان میں ایک ایسا فکری فریم پیدا کیا جاتا ہے جس میں ایک فریق کا تشدد “دفاع” اور دوسرے فریق کا ردِ عمل “دہشت گردی” بن جاتا ہے۔
قرآن اس حقیقت کو ایک اور زاویے سے بیان کرتا ہے:
“اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار! یہی لوگ دراصل فساد کرنے والے ہیں لیکن انہیں شعور نہیں ہوتا۔”
(سورۃ البقرہ: 11-12)
یہ آیات اس نفسیاتی اور سیاسی تضاد کو ظاہر کرتی ہیں جس میں ظلم کو بھی اصلاح کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ دنیا ابھی تک مکمل طور پر مابعد استعماری دور میں داخل نہیں ہوئی۔ استعمار کی شکلیں ضرور بدل گئی ہیں، لیکن اس کا فکری اور بیانیاتی ڈھانچہ ابھی تک موجود ہے۔ ماضی میں استعمار براہِ راست فوجی قبضے اور نوآبادیاتی حکومتوں کے ذریعے کام کرتا تھا، جبکہ آج یہ زیادہ تر بیانیوں، عالمی میڈیا، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی زبان کے ذریعے اپنی موجودگی برقرار رکھتا ہے۔
اس لیے موجودہ جنگ کو سمجھنے کے لیے صرف میدانِ جنگ کو دیکھنا کافی نہیں بلکہ اس فکری اور لسانی ڈھانچے کو سمجھنا بھی ضروری ہے جس کے ذریعے جنگ کو معنی اور جواز دیا جاتا ہے۔ جب تک ان بیانیوں کا تنقیدی مطالعہ نہیں کیا جائے گا، تب تک جنگ صرف توپ و تفنگ کی لڑائی نہیں رہے گی بلکہ ذہنوں، تصورات اور بیانیوں کی جنگ بھی جاری رہے گی۔ اور شاید یہی جدید دنیا کی سب سے پیچیدہ حقیقت ہے کہ آج کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ زبان، فکر اور شعور کی دنیا میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔