تحریر۔نظام الدین
سچ لکھنے کا حوصلہ خبر کا ہے سلیقہ
صحافی کے لہو سے زندہ ہے یہ پیشہ
بروز ہفتہ 28 مارچ 2026
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فضائی حملہ کرتے ہوئے صحافیوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں دیگر افراد کے ساتھ المنار ٹی وی کے رپورٹر على شعيب اور المیادین ٹی وی کی نمائندہ فاطمه فتوني جان سے گئے۔
فاطمہ فتوني کے بھائی، جو ایک کیمرہ مین تھے، وہ بھی اس حملے میں مارے گئے۔ صحافت کی دنیا میں یہ کوئی پہلا واقع نہیں ہے ،صحافی تو سچ کی تلاش، خطرات، جذباتی کشمکش اور سماجی ذمہ داری کا ایک مرکب ہوتا ہے، جوکبھی بہادری کی داستان بنتا ہے تو کبھی معاشی و سماجی دباؤ میں سچ بولنے کی جدوجہد میں سچائی کو چھپانے کے لیے دباؤ موت تشدد اور گالی کا سامنا کرتا ہے۔ المنار ٹی وی کے علی شعیب اور المیادین کی فاطمہ فتونی اب خبریں نہیں سنائیں گے، بلکہ خود ایک المناک خبر بن گئے ہیں، اسرائیل کے فضائی حملے نے ان دو چراغوں کو تو گل کر دیا، لیکن اس کے ساتھ ہی ان تمام بین الاقوامی دعووں کی قلعی بھی کھول دی ہے جو ‘صحافتی آزادی’ اور ‘انسانی حقوق’ کے نام پر کیے جاتے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی بوسیدہ کتابوں میں صحافی کو ایک ‘عام شہری’کے درجے میں رکھا گیا ہے۔ جنیوا کنونشن کا آرٹیکل 79 ہو یا اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، سب یہ ہی راگ الاپتے ہیں کہ صحافی پر حملہ ایک عام شہری پر حملے کے مترادف ہے؟ اور اسے جنگی جرم مانا تو جائے گا۔ مگر ایک عام شہری کی حیثیت میں ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک صحافی واقعی ایک ‘عام شہری’ کی زندگی گزارتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب دنیا بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہوتی ہے، تو صحافی ہی وہ واحد فرد ہوتا ہے جو محفوظ پناہ گاہوں کے بجائے محاذِ جنگ کی سمت قدم بڑھاتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی اور امریکی صحافیوں نے ہوائی حملوں کے بیچ سے رپورٹنگ کی، لیکن تب بھی انہیں ‘غیر جنگجو’ قرار دے کر محض سویلین مراعات دی گئیں۔ ویتنام کی جنگ میں، جہاں 60 سے زائد عالمی صحافی لقمہ اجل بنے، وہاں بھی بین الاقوامی قانون خاموش رہا۔ کیا ہم بھول سکتے ہیں کہ 2003 میں بغداد کے ‘فلسطین ہوٹل’ پر امریکی ٹینک کے گولے نے رائٹرز اور ہسپانوی ٹی وی کے صحافیوں کو خاک میں ملا دیا تھا؟ وہاں بھی یہ ہی عذر پیش کیا گیا کہ “غلطی سے نشانہ بن گئے”۔
ایک عام شہری جنگ کے بادل دیکھ کر گھر کی راہ لیتا ہے، اپنے بال بچوں کو گولیوں کی تڑتڑاہٹ اوربم دھماکوں سے دور لے جاتا ہے۔ لیکن صحافی؟ وہ تو موت کے سائے تلے، بارود کی بو میں سانس لیتے ہوئے حقائق کی کھوج میں نکلتا ہے۔ وہ تو اس وقت بھی قلم ؤ کیمرہ نہیں جھکاتا جب سامنے سے ٹینک کا دہانہ اس کی سمت مڑا ہوا ہوتا ہے،وہ تو انسانیت کی آنکھ اور دنیا کا کان ہوتا ہے۔ پھر اسے ایک عام راہگیر کے درجے میں رکھ کر اس کے خون کی قیمت اتنی ارزاں کیوں کر دی گئی ہے؟جب ایک صحافی کو محض ‘سویلین’ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے، تو جارح قوتوں کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ”یہ تو کولاٹرل ڈیمج ہے”یا “وہ غلط وقت پر غلط جگہ موجود تھا”نہیں! صحافی غلط جگہ پر نہیں، بلکہ عین اس جگہ پر تھا جہاں اسے ہونا چاہیے، یعنی سچائی کی سرحد پر۔
اگر ریڈ کراس کے رضاکاروں کو ان کے مخصوص نشان کی بدولت ایک منفرد قانونی تحفظ حاصل ہو سکتا ہے، تو ‘پریس’ لکھی ہوئی جیکٹ پہننے والے کو کیوں نہیں وہ تحفظ حاصل ہوتا؟ وقت آ گیا ہے کہ عالمی سطح پر اس تفریق کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ صحافی کو سویلین نہیں، بلکہ ‘خصوصی تحفظ یافتہ منصب’
ملنا چاہیے۔ اس پر ہونے والا حملہ کسی فرد پر نہیں، بلکہ بین الاقوامی برادری کے ‘حقِ آگاہی’ پر حملہ تصور کیا جانا چاہیے۔ جب تک صحافی کی وردی اسے سفارتی استثنیٰ جیسا تحفظ فراہم نہیں کرے گی، تب تک غزہ سے لبنان تک اور یوکرین سے شام تک، بھارت سے پاکستان تک قلمکار یون ہی نشانہ بنتے رہیں گے۔
اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف کو اب محض مذمتی بیانات سے نکل کر ‘جرنلسٹ پروٹیکشن کنونشن’ جیسے سخت قوانین کی طرف آنا ہوگا۔ اور یہ باور کرانا ہوگا کہ صحافت کوئی عام پیشہ نہیں، بلکہ ایک مقدس فریضہ ہے، اور اس فریضے کی ادائیگی کے دوران بہنے والا خون کسی عام حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ عالمی عدل کے نظام کی ناکامی ہے۔ یہ ہلاکتیں
میدان جنگ میں رپورٹنگ کے دوران ہی نہیں ہوتیں بلکہ سماج میں ہونے والے جرائم کی کہانیاں منظر عام پر لانے والے صحافی کی جان کو خطرے لاحق ہوتا ہے، اسی طرح صحافیوں کے خلاف سرحد پار جاکر یعنی دوسرے ملک میں جا کر نشانہ بنانا بھی ایک سنگین عالمی مسئلہ بن چکا ہے جسے بین الاقوامی اصطلاح میں
(ماورائے ریاست قتل) کہا جاتا ہے ، جیسے سعودی عرب کے جمال خاشقجی کو ترقی میں غائب کرکے قتل کیا گیا، صحافی ہنری لیو جو تائیوان سے امریکا منتقل ہوگئے تھے انہیں کیلیفورنیا میں قتل کر دیا گیا اس واقعے سے تائیوان اور امریکہ کے تعلقات میں شدی تناؤ پیدا ہوگیا تھا ، پاکستان کے صحافی ارشد شریف کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا اس طرح کے واقعات کے باوجود جلاوطن صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی عالمی قوانین نہیں بنائے گئے جس کی وجہ سے ایک ریاست کسی دوسری ملک کی خودمختاری کو پامال کرکے صحافی کی آواز کو خاموش کرجاتے ہیں؟ اور ان حملوں کے حقیقی ذمہ داروں کو سزا بھی نہیں ملتی دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد سچ کی تلاش میں بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں زبانی بدسلوکی، قانونی دھمکیاں، جسمانی حملے، قید اور تشدد جیسے جرائم شامل ہیں۔
صحافیوں کے خلاف جرائم کے ذمہ داروں کو سزا نہ ملنا صرف متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہی نہیں بلکہ یہ اظہار رائے کی آزادی پر حملہ، مزید تشدد کی دعوت اور جمہوریت کے لیے خطرہ بھی بناتا جارہا ہے ؟؟؟