آج کل دنیا سائنس کے تابع ہوچکی ہے،اورسائنس مادہ اوراس کے احوال کے بغیرکسی چیز کو نہیں مانتی،اسی لیے علاج ومعالجہ میں بھی سائنس نے کئی طرح کی چیزوں سے منہ موڑلیا،سائنس نے امراض کووائرس اورجرثومہ سے لازم کردیا،اورتقریباًہرمرض کے علاج کے لیے جراثیم کش ادویات کوایجاد کرلیا۔اسی طرح انسانوں کوزہریلے جانوروں کے کاٹنے پرعلاج بالمثل کے طورپرانہیں زہریلے جانوروں کے زہرسے ویکسین بناکراس کا علااج کرناشروع کردیا۔مشہورِ ززمانہ زہریلے جانورسانپ اوربچھوجوشاید ازل سے انسان کے ساتھ ہیں اوراس کے لیے نقصان اورتکلیف کا باعث ہیں۔پرانے زمانے میں بھی سانپ اوربچھوکاٹے کاعلاج ادویات اوردیسی جڑی بوٹی سے کیا جاتا تھا۔لیکن اس کا ایک علاج جھاڑپھونک سے بھی کیا جاتاتھا،جوشاید اتنامشہورتھا کہ لوگ سانپ بچھوکے کاٹتے ہی جھاڑنے والے کی تلاش کرتے اورمریض کوسیدھا اس کے پاس لے جاتے،اورسوائے قضائے مبرم کے باقی اکثرمریض ٹھیک ہوجاتے۔ہندوستان کے اندرتویہ ایک باقاعدہ فن تھا کہ دوابوٹی اورمنترکرنے والے جوگی اکثرنسل درنسل اس فن کے مالک ہوتے۔ہندومذہب میں سانپ کی پوجھا بھی کی جاتی تھی جس کی بنا پرہندومنتروں میں اکثرسانپوں یا ان کے گرووں سے منت وسماجت کی جاتی تھی،کہ مریض سے زہرنکال دیں۔سانپوں کے حوالے سے ہندووں کے ہاں گوگاپیرمشہورسانپوں کا بادشاہ یا گرو مانا جاتا ہے،اکثرجھاڑنے میں اس کا نام ضرورلیا جاتا ہے۔اسلام میں بھی دم ورقیہ کی باقاعدہ اجازت ہے،اوراحادیث میں موجودہے کہ نبی پاک ﷺکے دورمیں قران پاک کی سورہِ فاتحہ کے ساتھ صحابہ نے ڈسے ہوے بندے کودم کیا،اوروہ درست ہوگیا،لیکن اس کے باوجودموجودہ دورکے سادہ لوح یاناسمجھ مسلمان جن میں خودساختہ توحیدی کہلانے والے سرِ فہرست ہیں وہ اس دم کرنے کوکبھی شرک کہتے ہیں کبھی توہم پرستی،چونکہ اس جدید دورکی یہودنصاریٰ کی ترتیب دی ہوئی تعلیم چاہے وہ اسلام کی ہی ہو،سے مزین تمام لوگوں کوغیرمرئی اثرات واشیاء کاانکارسکھایا گیا ہے،اگرذراگہرے سوچیں توآج کامسلمان ایمانِ بالغیب کامنکرہے،علامہ اقبال نے اسی لیے فرمایا تھا”خردنے کہہ بھی دیا لاالہ توکیا حاصل۔دل ونگاہ مسلماں نہیں توکچھ بھی نہیں“۔ ہرمذہب میں چاہے وہ سچامذہب ہے یاباطل مذہب ہے اس میں دم یاجھاڑنے سے علاج مروج ہے،جیساکے اسلام میں بھی ہے،لیکن جھاڑپھونک صرف کسی مذہب کی مقدس کتاب ہی پڑھ کرنہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس کے لیے کسی کا”اِذن“ہونا ضروری ہے،جیسے انبیاء اللہ سے ماذون ہوتے ہیں،حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں،وابریء الاکمہ والابرص واحیی الموتیٰ باذن اللہ۔یعنی میں پیدئشی اندھے اوربرص والے کوشفادیتا ہوں اورمردے زندہ کرتاہوں اللہ کے اذن سے۔اسی طرح جن کوانبیاء نے اذن دیا وہ بھی دم کرکے علاج کرسکتے ہیں،جیسے صحابہ کومیرے آقاﷺنے سورہ فاتحہ کے بارے میں فرمایاتھا کہ یہ رقیہ بھی ہے،اب یہ انہیں اذن حاصل ہوگیا،اوریادرہے کہ اذن وہ ہوتا ہے جوکسی کی زبان سے خوداپنے کانوں سے سناہو،یہ نہیں کہ کتابوں میں لکھا دیکھااوراسے پکڑلیا جیسے آج کل ہمارے کچھ غیرمقلدین لوگ ہیں جواپنی نفس پرستی کے لیے لوگوں سے دعوے کرتے ہیں کہ ہم قران سے دم کرتے ہیں،اہلسنت جواذن لیتے ہیں یہ توشرک کرتے ہیں،جبکہ اللہ نے فرمادیا ہے کہ قران میں شفاء ہے توپھرکسی ماذون سے اذن لینے کی کیا ضرورت ہے،اوربالخصوص اس دورمیں توہرنتھوخیرے نے اپنے چینل چلارکھے ہیں جن پرعوام الناس کوکئی قسم کی جائزاورناجائزادعیہ ووظائف سکھائے جارہے ہیں،لیکن عوام دن بدن مصائب اور مشکلات کاشکارہورہے ہیں،عام اورادووظائف کوچھوڑکرآج صرف زہریلے جانوروں سے ڈسے کادم سے علاج کے بارے میں عرض کروں گا۔ہمارے علاقے میں آستانہ عالیہ فیض پورشریف جوچار نسلوں سے تعلیم وتبلیغ ِدین کے ساتھ ساتھ لوگوں کے لیے روحانی علاج گاہ بھی ہے،اس میں مدرسے کے اکثرطلباء کوسانپ کادم بھی سکھایا جاتا ہے،آج بھی سال کے ایک دن جوبزرگوں سے اذن کی تاریخ چلی آرہی ہے اس پرطلباء اورعام لوگوں کودم سکھایا جاتا ہے اورساتھ میں زبانی ااس کااذن بھی دیا جاتا ہے۔سرکاری اورپرائیویٹ ہسپتالوں کا جال بچھنے سے پہلے موسمِ گرمامیں اس آستانہ کے صحن میں دن رات سانپ کے ڈسے مریضوں کولایا جاتا اوراذن والے طلباء ان کو جھاڑرہے ہوتے،اوریہ ساراکام فی سبیل اللہ کیا جاتا،کسی غریب امیرکواس میں کوئی امتیازبھی حاصل نہ تھا۔ ان کے دم کے اذن میں ایک یہ چیز بھی لازمی ہے کہ اگرکوئی سانپ سے ڈسے کودم کرنے کے لیے کسی صاحبِ اجازت کو بلانے آئے توآنے والاجیسے بتائے کہ فلاں بندے کوسانپ نے ڈساہے توآپ اسے جھاڑنے کے لیے چلیں تودم کے لوازم میں سے ایک یہ ہے کہ فوراوہ دم کرنے والااپنا جوتا اتارکراس اطلاع والے کو بغیرکچھ بتائے مارناشروع کردے،لہذاتمام لوگوں کواس کاعلم بھی دیا جاتاکہ اطلاع دیتے ہی آپ بھاگ جائیں،پھربھی دم کرنے والا جوتا اتار کراس کے پیچھے پھینکتاضرورہے، اس طرح سے دم کاپہلاقانون پوراہوجاتااورمریض کودم کرنے سے اس کا زہرفورااترجاتا۔آج کل لوگ اسے شاید پاگل پن سمجھیں لیکن جھاڑنے کے نیم (ہندی میں قانون کونیم کہتے ہیں)میں سے ایک یہ بھی ہے۔لہذاعلمائے اہل سنت سے گزارش ہے کہ اپنے محراب ومنبرسے دم اوردوادونوں کی تبلیغ کریں اورجیسے دواکے لیے کسی کوالیفائیڈ ڈاکٹرکا ہونا ضروری ہے ایسے ہی دم اوروحانی علاج کے لیے بھی کسی ماذون کاہونا ضروری ہے،اورجوماذون ہے،اس کادم دواسے جلدی اثرپذیرہوتا ہے۔لہذاماذون لوگوں سے رابطہ کرکے خودبھی ان سے اذن حاصل کریں اوراپنے طلباء کو بھی اس خدمت خلق کی تربیت دیں۔اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کواصل اسلامی تعلیم وایمان سے مزین فرمائے آمین وماعلی الاالبلاغ۔
غیرمرئی طریقہ علاج اوراس کے ذرائع