میٹا اور یوٹیوب کو ایک اہم عدالتی فیصلے میں سوشل میڈیا کے “عادی بنانے والے ڈیزائن” کے باعث ایک صارف کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے، جسے ٹیک کمپنیوں کے خلاف ایک تاریخی پیش رفت کہا جا رہا ہے۔
جیوری نے قرار دیا کہ پلیٹ فارمز کے فیچرز، جیسے انفینیٹ اسکرول اور الگورتھمک سفارشات، ایک نوجوان صارف کی ذہنی صحت پر منفی اثرات کا سبب بنے۔
عدالت نے میٹا کو 42 لاکھ ڈالر جبکہ یوٹیوب کو 18 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
یہ مقدمہ 20 سالہ خاتون کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سگریٹ یا جوئے کی طرح لت لگ جانے والے انداز میں ڈیزائن کیے گئے، جس کے نتیجے میں بے چینی، ڈپریشن اور باڈی ڈسمارفیا جیسے مسائل پیدا ہوئے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہزاروں مقدمات سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف زیر سماعت ہیں، جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ پلیٹ فارمز خاص طور پر کم عمر صارفین کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ دیگر مقدمات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے اور مستقبل میں ٹیک کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کے ڈیزائن میں تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔
کمپنیاں فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اپیل پر غور کر رہی ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے مزید فیصلے سامنے آئے تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے قوانین مزید سخت ہو سکتے ہیں۔