کوہِ سلیمان کا میلہ ’زندہ پیر‘—رونقیں، خطرات اور انتظامی بے حسی

( ​ڈیرہ غازی خان تحریر چوھدری احمد )

​جنوبی پنجاب کی تپتی دھوپ میں جب کوہِ سلیمان کی ٹھنڈی ہوائیں شادن لُنڈ کے میدانوں کو چھوتی ہیں، تو ایک خاص پیغام لاتی ہیں— یہ پیغام ہے ’زندہ پیر‘ کے سالانہ میلے کا۔ شادن لُنڈ سے مغرب (پچادھ) کی سمت تقریباً 15 کلومیٹر اور سیمنٹ فیکٹری سے اتنے ہی فاصلے پر واقع کوہِ سلیمان کے دامن میں بسا یہ خوبصورت علاقہ، دربار اور چشمہ اپنی مثال آپ ہیں۔ آج سے اس میلے کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے، جہاں ہر سال کی طرح ہزاروں زائرین اور سیاح جوق در جوق اپنی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور پیدل قافلوں کی صورت میں پہنچ رہے ہیں۔

​میلے کی رونقیں اور عوامی جوش
​زندہ پیر کا میلہ صرف ایک مذہبی یا ثقافتی اجتماع نہیں، بلکہ یہ اس پسماندہ علاقے کے لوگوں کے لیے خوشی اور تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ بزدار، کھوسہ اور لُنڈ قبائل سمیت پورے جنوبی پنجاب کے لوگ یہاں ’انجوائے منٹ‘ کے لیے آتے ہیں۔ چشمے کا ٹھنڈا پانی اور پہاڑوں کا سحر انگیز منظر زائرین کی تھکن اتار دیتا ہے۔ اس میلے سے مقامی معیشت کو بھی بڑا سہارا ملتا ہے؛ عارضی دکانیں، کھانے پینے کے اسٹالز اور جھولے جہاں بچوں کی توجہ کا مرکز ہیں، وہیں لاکھوں روپے کی آمدنی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔

​بدامنی کا سایہ اور ڈکیتوں کا خوف
​لیکن اس خوبصورتی کے پیچھے کچھ تلخ حقائق بھی چھپے ہیں۔ جہاں ہزاروں لوگ محبتیں بانٹنے آتے ہیں، وہاں کچھ شر پسند عناصر اور ڈکیت گروہ بھی سرگرم نظر آتے ہیں۔ راستوں کی کٹھن مسافت کے ساتھ ساتھ زائرین کو لوٹنے کی وارداتیں ایک سنگین سوالیہ نشان ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنے بڑے عوامی اجتماع کے باوجود سیکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش نہیں ہیں۔

​بی ایم پی (BMP) فورس کا کردار
​بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) جس کی ذمہ داری ان علاقوں میں امن و امان قائم کرنا ہے، اس کی کارکردگی میلے کے دوران ’معیاری‘ نظر نہیں آتی۔ فورس کی نفری کی کمی یا حکمتِ عملی کی کمزوری کی وجہ سے زائرین خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔ ڈکیتوں کی موجودگی اور جرائم پیشہ افراد کا بے خوف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ انتظامیہ کو اپنی ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان راستوں پر بروقت گشت اور سیکیورٹی پوائنٹس قائم نہ کیے گئے، تو یہ میلہ خوشیوں کے بجائے خوف کی علامت بن سکتا ہے۔

​ایک دردمندانہ اپیل
​میں اپنے علاقے کے غیور قبائل—بزدار، کھوسہ اور لُنڈ—سے گزارش کرتا ہوں کہ یہ میلہ ہمارے علاقے کی پہچان ہے۔

​ہوائی فائرنگ اور جھگڑوں سے پرہیز کریں: اپنی خوشی کو کسی دوسرے کے لیے سوگ نہ بنائیں۔
​امن کا پیغام دیں: ہم نے ثابت کرنا ہے کہ کوہِ سلیمان کے باسی مہمان نواز اور پرامن لوگ ہیں۔
​بچوں کا خیال رکھیں: اپنے بچوں کو محفوظ ماحول میں تفریح فراہم کریں اور انتظامیہ پر نظر رکھیں کہ وہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سرانجام دے رہی ہے یا نہیں۔
زندہ پیر کا میلہ ہماری ثقافت کا حسن ہے، اسے ڈکیتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حکومتِ وقت اور اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ بی ایم پی فورس کو متحرک کریں تاکہ دور دراز سے آنے والے زائرین محفوظ طریقے سے اپنی یادیں سمیٹ کر واپس جا سکیں۔

حکومت کو چاہیے کہ یہاں پر زائرین اور اہل علاقہ کے لیے پینے کا صاف میٹھا پانی بھی میسر کریں جو زندگی کی اہم بنیادی اکائی جذ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *