یوکرین کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا اعلان

اسلا م آباد (نیوز ڈیسک) یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے،

جسے دونوں ممالک کے لیے مفید قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں بتایا کہ یوکرین اور سعودی وزارتِ دفاع کے درمیان تعاون کے اس معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، جو ان کی محمد بن سلمان سے ملاقات سے قبل طے پایا۔زیلنسکی کے مطابق یہ معاہدہ مستقبل میں مزید دفاعی شراکت داری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا، جس سے عالمی سطح پر یوکرین کی دفاعی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ یوکرین سعودی عرب کے ساتھ اپنی مہارت اور دفاعی نظام شیئر کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ یوکرین گزشتہ کئی برسوں سے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے، اور اسی نوعیت کے خطرات اس وقت مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کو بھی درپیش ہیں۔ ان کے بقول سعودی عرب کے پاس بھی ایسی دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں جو یوکرین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔صدر زیلنسکی نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ اس دوران خطے کی مجموعی صورتحال، روس کی جانب سے ایران کو ملنے والی ممکنہ حمایت، تیل کی عالمی منڈی اور توانائی کے شعبے میں تعاون جیسے امور پر بھی بات چیت ہوئی۔

دوسری جانب الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد ایران سے داغے گئے سینکڑوں ڈرونز اور متعدد میزائل ناکارہ بنائے جا چکے ہیں، جبکہ صرف ایک دن میں تقریباً 6 میزائل روکنے کی بھی اطلاع دی گئی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ روسی ڈرون حملوں کا سامنا کرنے والا یوکرین، مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کا خواہاں رہا ہے۔ اسی سلسلے میں حال ہی میں یوکرین نے 201 اینٹی ڈرون ماہرین کو خطے میں تعینات کرنے کا بھی ذکر کیا تھا۔یوکرین کی فضائی دفاعی فورسز کے نائب کمانڈر یوری چیرریواشینکو کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ڈرونز کو روکنا ریت کے طوفان جیسے چیلنجز کے باعث مشکل ہوتا ہے، تاہم کامیابی کا انحصار پائلٹس کی مہارت پر ہوتا ہے۔واضح رہے کہ یوکرین نے حالیہ برسوں میں کم لاگت مگر مؤثر انٹرسیپٹر ڈرونز تیار کیے ہیں تاکہ روسی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ 2024 کے اختتام سے روسی ڈرون حملوں میں شدت آئی ہے اور رواں موسمِ سرما کے دوران یوکرین پر 19 ہزار سے زائد ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *