تحریر: محمد منصور ممتاز
یہ صرف ایک خبر نہیں… یہ ایک پیغام ہے۔
ایک ایسا پیغام جو سرحدوں سے نکل کر دنیا تک جاتا ہے کہ پاکستان آج بھی اپنی روایات، ذمہ داری اور مہمان نوازی میں زندہ اور مضبوط ہے۔
327واں عالمی وساکھی میلہ اسی پیغام کا عملی اظہار بننے جا رہا ہے، جہاں حکومتِ پنجاب نے 26 ہزار سے زائد سکھ یاتریوں کی میزبانی کے لیے جس انداز میں تیاری کی ہے، وہ محض انتظامات نہیں بلکہ ریاستی سنجیدگی اور مثبت سوچ کا آئینہ دار ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب میں ہونے والا اعلیٰ سطح کا اجلاس اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ میلہ محض ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ خواجہ سلمان رفیق اور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی قیادت میں ہونے والے اس اجلاس میں جس طرح ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، وہ ایک منظم اور فعال حکومتی نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔
10 سے 19 اپریل تک جاری رہنے والے اس میلے میں دنیا بھر سے آنے والے یاتری لاہور، ننکانہ صاحب، حسن ابدال، ایمن آباد، فاروق آباد اور کرتارپور جیسے مقدس مقامات کا دورہ کریں گے۔ یہ صرف سفر نہیں ہوگا بلکہ ایک ایسا تجربہ ہوگا جو پاکستان کے بارے میں ان کے تاثرات کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
سکیورٹی کے فول پروف انتظامات، رہائش کے معیاری بندوبست، جدید ٹرانسپورٹ، بلا تعطل بجلی، اور میڈیکل سہولیات—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اپنے مہمانوں کو صرف خوش آمدید نہیں کہتا بلکہ انہیں عزت، تحفظ اور سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
خاص طور پر سینئر سٹیزن کاؤنٹرز، اضافی واش رومز، لنگر کے وسیع انتظامات، ایف آئی اے کے مزید کاؤنٹرز اور کرنسی ایکسچینج جیسی سہولیات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ انتظامیہ نے ہر چھوٹی بڑی ضرورت کو مدنظر رکھا ہے۔ یہ وہ تفصیلات ہیں جو کسی بھی ملک کے مثبت امیج کو عالمی سطح پر مضبوط بناتی ہیں۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ اس میلے میں غیر ملکی سفارتکاروں کی شرکت متوقع ہے، جو پاکستان کے لیے ایک نادر موقع ہے کہ وہ اپنی امن پسندی، مذہبی آزادی اور ثقافتی ہم آہنگی کو دنیا کے سامنے پیش کرے۔ سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی جانب سے یاتریوں کے مذہبی تقاضوں کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اقلیتوں کے حقوق کو اہمیت دی جاتی ہے۔
اداروں کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن، فوکل پرسنز کی تعیناتی، اور لیسکو کو بلا تعطل بجلی فراہمی کی ہدایات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ریاستی مشینری پوری طرح متحرک اور ذمہ دار ہے۔ سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی ہدایات اس امر کو مزید تقویت دیتی ہیں کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔
یہ میلہ دراصل ایک موقع ہے—اپنی پہچان کو دنیا کے سامنے نئے انداز میں پیش کرنے کا۔
یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں پاکستان یہ ثابت کر سکتا ہے کہ وہ صرف خبروں میں آنے والا ملک نہیں، بلکہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو امن، رواداری اور مہمان نوازی کی حقیقی مثال ہے۔
اگر یہی سنجیدگی، یہی منصوبہ بندی اور یہی جذبہ دیگر شعبوں میں بھی برقرار رکھا جائے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا بھر میں ایک مضبوط حقیقت کے طور پر ابھرے گا۔
وساکھی میلہ… ایک تہوار سے بڑھ کر، پاکستان کا عالمی تعارف بننے جا رہا ہے۔