تحریر: ایم اعجاز چانڈیو مھرانوی
زندگی میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے دھارے میں بہہ تو جاتی ہیں، مگر ان کی خوشبو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ ڈاکٹر سکندر جوکھیو مرحوم بھی ایسی ہی ایک نایاب اور درویش صفت شخصیت تھے، جن کی یادیں آج بھی دلوں کو منور کرتی ہیں۔
وہ صرف ایک ڈاکٹر نہیں تھے، بلکہ انسانیت کے سچے خادم تھے۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، لہجے میں نرمی، اور دل میں دردِ انسانیت موجزن رہتا تھا۔ غریب، بے سہارا اور بیواؤں کے لیے وہ کسی مسیحا سے کم نہ تھے۔ وہ اکثر اپنے خرچ پر مریضوں کا علاج کرتے، بغیر کسی صلے کی تمنا کے—یہی ان کی اصل پہچان تھی۔
ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا ایک اور خوبصورت پہلو ان کی گھریلو محبت اور دعاؤں سے بھری زندگی تھی۔ وہ اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے، ان کے لیے دل سے دعائیں مانگتے اور ہمیشہ ان کی بھلائی کے لیے فکر مند رہتے۔ یہی نہیں، وہ دوسروں سے بھی اپنے لیے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے دعائیں کرواتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ دعا انسان کا سب سے بڑا سہارا ہے، اور یہی تعلق بندے کو اپنے رب سے جوڑتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا ایک روشن پہلو ان کی روحانیت تھی۔ درودِ پاک کی کثرت، بزرگانِ دین سے محبت، اور اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھ کر ذکرِ الٰہی کرنا ان کا معمول تھا۔ ان کے پاس بیٹھنے والا ہر شخص ایک عجیب سی روحانی کیفیت محسوس کرتا، جیسے دل کو سکون اور روح کو تازگی مل رہی ہو۔
وہ دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے الگ تھے—سادگی ان کا زیور، اور عاجزی ان کا وصف تھا۔ ان کی محفلیں علم، محبت اور ذکر سے مہکتی تھیں۔ وہ لوگوں کے زخم صرف دوائی سے نہیں، بلکہ اپنی محبت اور خلوص سے بھی بھرتے تھے۔
آج اگرچہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی یادیں، ان کی باتیں، اور ان کا اندازِ زندگی آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔ ایسے لوگ کبھی مرتے نہیں، بلکہ اپنی نیکیوں کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ڈاکٹر سکندر جوکھیو مرحوم کو اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور ہمیں بھی ان جیسے اخلاص، محبت اور خدمتِ خلق کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔