پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں !

برلن: جرمنی نے ایران کے تنازع سے پیدا ہونے والے توانائی کے جاری بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر عارضی ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

جرمن چانسلر فریڈرک مارش نے کہا کہ صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے دو ماہ کی مدت کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر لگ بھگ 17 یورو سینٹ فی لیٹر ٹیکس کم کیا جائے گا۔

دریں اثنا، جرمن وزارت اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے اقتصادی اثرات 2026 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

یہ اقدام امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی خرابی اور ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، ناکام مذاکرات کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کی وجہ سپلائی میں خلل پڑنے اور علاقائی کشیدگی بڑھنے کے خدشات ہیں۔

برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا مربن کروڈ بھی 98 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تناؤ بڑھتا رہا تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے عالمی معیشتوں میں افراط زر کے دباؤ میں شدت آئے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *