ٹرمپ انتظامیہ (Trump Administration)نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے مزید فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری درکار نہیں رہی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس قانونی مؤقف کا مقصد وائٹ ہاؤس کو اس پابندی سے بچانا ہے جس کے تحت کسی بھی طویل فوجی کارروائی کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری لینا لازمی ہوتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے دونوں جانب کوئی براہِ راست جھڑپ یا فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وار پاورز ریزولوشن 1973 کے تحت صدر کو 60 دن سے زائد جاری رہنے والی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی اجازت لینا ہوتی ہے، اور ایران سے متعلق کارروائی کو 60 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ تاہم انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ چونکہ جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے، اس لیے یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔
ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی 7 اپریل کی جنگ بندی کے بعد عملاً ختم ہو گئی، کیونکہ اس کے بعد کسی قسم کا براہِ راست تصادم دیکھنے میں نہیں آیا۔
اگرچہ آبنائے ہرمز میں ایران کی موجودگی بدستور برقرار ہے اور امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی تیل بردار جہازوں پر نگرانی اور روک تھام کی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس ان اقدامات کو فعال جنگ کا حصہ تسلیم نہیں کر رہا۔