عالم اسلام اسرائیلی حملے کی مذمت نہیں بلکہ ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرے : مفتی عرفان الحق نقشبندی

) ڈیرہ غازی خان بیوروچف چوھدری احمد )

درویش کوہ سلیمان عظیم مذھبی و روحانی اسکالر علامہ مفتی محمد عرفان الحق نقشبندی نے دارالعلوم حنفیہ رضویہ سیمنٹ فیکٹری ڈیرہ غازیخان میں ایک افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ھم ایران پر اسرائیلی اور امریکی بربریت و یلغار کی بھرپور مذمت کرتے ہیں آج اگر ایران کی باری ھے تو کل سعودی عرب یا پاکستان کی باری ہو سکتی ھے، مفتی محمد عرفان الحق نقشبندی اپنے بیان میں کہا ھے کہ عالم اسلام ایران پر اسرائیل کے جارحانہ حملے کی صرف مذمت نہ کرے بلکہ ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرے ۔
ان کا کہنا تھاکہ ھم جنگ کے حامی نہیں، امن کے حامی ہیں لیکن امن کا مطلب بزدلی نہیں۔ اور ھماری اس خواہش کو ھماری کمزوری مت سمجھا جائے اگر ضرورت پڑی تو ھم مادر وطن اور اسلام کی سربلندی کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ ھمارا ایک ایک کارکن میدان عمل میں نظر آئے گا،
ان کا کہناتھاکہ اسرائیل عرب دنیا میں نہیں بلکہ اسلامی دنیا میں ناسورکی حیثیت رکھتا ھے، اسرائیل کو اپنا خون چاٹنا پڑے گا، اسرائیل دو سال سے مسلسل غزہ میں بمباری کررہا ہے 80 ہزار لوگ شہید کر دیے، اقوام متحدہ کی کون سی قرارداد ھے جو اس طرح انسانیت کو قتل کرنے کی اجازت دیتی ھے؟ اقوام متحدہ آج امریکا کی لونڈی ھے، جیسا امریکا ہانکے ویسے ہی فیصلے کرتی ھے۔
مفتی عرفان الحق نقشبندی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر عالم اسلام میں ایک نیا ولولہ اور جوش و جذبہ پیدا کر دیا ان کی شہادت پر پورے عالم اسلام کو فخر ھے، یہ ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا قتل ھے، ایک قوم کی نسل کشی کرنا کیا انسانی اور جنگی جرم نہیں؟ نیتن یاہو ایک جنگی مجرم ھے اور عالمی عدالت نے گرفتار کرنے کا حکم دیا ھے، نیتن یاہو امریکا یورپ جاتا ھے لیکن کوئی بھی عالمی عدالت کے حکم پر عمل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی نوبل پرائز انعام کا حقدار نہیں بلکہ ایک فاشسٹ دہشت گرد ھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کویت پر صدام حسین قبضہ کرتا ھے تو امریکا، یورپ لاؤ لشکر کے ساتھ اتر جاتا ھے اسے پھانسی پر لٹکاتے ہیں، کب تک انسانیت سوتی رہے گی؟ ، آج اگر ایران کی باری ھے تو کل سعودی عرب یا پاکستان کی باری ہو سکتی ھے۔ انہوں نے افغانستان اور طالبان حکومت کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا ھے کہ خوارج کی سرپرستی بند کرکے ایک ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دیں ورنہ آخری دہشت گرد کے زندہ رہنے تک ان کا تعاقب کیا جائے گا اور بھرپور جواب دیا جائیگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *