پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ کسی قسم کی عارضی جنگ بندی موجود نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق عید کے موقع پر صرف تین روز کا وقفہ دیا گیا تھا، جو اب ختم ہو چکا ہے، لہٰذا موجودہ صورتحال کو جنگ بندی قرار دینا درست نہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان-افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق افغانستان کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی اور دراندازی کی کوششیں مسلسل جاری رہیں، اور مارچ میں پاکستان کی جانب سے جنگ بندی جیسے اقدام کے باوجود حملے بند نہیں ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ اور دہشتگرد کارروائیوں کے نتیجے میں 52 شہری جاں بحق جبکہ 84 زخمی ہوئے۔ ترجمان کے مطابق افغانستان کی جانب سے شہری ہلاکتوں سے متعلق لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور غیر مصدقہ ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے سرحد پار دراندازی کی متعدد کوششیں ناکام بنائیں اور اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کی اصل وجوہات کو نظرانداز کرنا غیر متوازن مؤقف کو ظاہر کرتا ہے۔ ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے کی صورتحال اور پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کرے۔