پاکستان تحریک انصاف (PTI) خیبرپختونخوا میں اندرونی اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے نتیجے میں صوبائی جوائنٹ سیکرٹری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق صوبائی صدر کے ساتھ اختلافات کے باعث انجینئر خائستہ محمد نے جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے پارٹی قیادت پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انجینئر خائستہ محمد کا کہنا ہے کہ پارٹی میں اس وقت “ڈکٹیٹرشپ” کا ماحول ہے اور اہم فیصلے کابینہ کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق تنظیمی معاملات اور پارٹی پالیسیوں میں بھی کابینہ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی صدر کی جانب سے ملاکنڈ ریجن کے عہدیداروں کے نوٹیفکیشن بھی کابینہ سے مشاورت کے بغیر جاری کیے گئے، جو تنظیمی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام فیصلے ایک ہی شخص نے کرنے ہیں تو پھر کابینہ کی موجودگی بے معنی ہو جاتی ہے۔
انجینئر خائستہ محمد نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے نظریے کے مطابق اختیارات کسی ایک فرد کے پاس نہیں بلکہ پوری کابینہ کے پاس ہونے چاہئیں، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی واضح یا سنجیدہ حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی تقریباً تین سال سے قید میں ہیں لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس معاملے پر خاموش ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پارٹی میں فیصلے فرد واحد کی جانب سے کیے جا رہے ہیں، اسی وجہ سے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔