بھارت سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا: دی نیشنل انٹرسٹ

واشنگٹن(ڈیلی جستجو) معروف امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت قانونی طور پر سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔

رپورٹ کے مطابق 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والا یہ معاہدہ بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ ہے اور کسی ایک فریق کو اسے من مانے طریقے سے معطل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے اور بھارت یا پاکستان میں سے کسی بھی ملک کی جانب سے اس کی خلاف ورزی خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ معاہدے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا معطلی صرف باہمی رضامندی یا طے شدہ قانونی طریقۂ کار کے تحت ہی ممکن ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر دباؤ ڈالنے کے بیانات سیاسی نوعیت کے ہیں، تاہم عملی اور قانونی سطح پر ایسا اقدام ممکن نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *