مسلسل استعمال سے مسوڑھوں کی سوزش ، خون آنا ، دانتوں کے درمیان خلا اور جراثیم کی افزائش سے بیماریوں کا خدشہ
ٹوتھ پک کے بجائے ڈینٹل فلاس، انٹرڈینٹل برش اور واٹر فلاسر کا استعمال زیادہ محفوظ اور مؤثر ہے؛
ڈاکٹر فریحہ ارشد(ڈینٹل سرجن)
لاہور (محمد منصور ممتاز)
ڈینٹل سرجن ڈاکٹر فریحہ ارشد نے خبردار کیا ہے کہ ٹوتھ پک کا غیر محتاط اور بار بار استعمال مسوڑھوں اور دانتوں کے لیے خاموش خطرہ بن سکتا ہے، جو وقت کے ساتھ دانتوں کے نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ بسا اوقات احتیاط سے ٹوتھ پک استعمال کرنا نقصان دہ نہیں ہوتا، تاہم روزانہ اور زور لگا کر اس کا استعمال مسوڑھوں کو زخمی کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں سوزش، خون آنا اور مسوڑھوں کا سکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر فریحہ ارشد کے مطابق مسوڑھوں کے سکڑنے سے دانتوں کو سہارا دینے والی ہڈی بھی متاثر ہوتی ہے، اور یہ کیفیت آگے چل کر دانتوں کے کمزور ہونے اور ہلنے کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹوتھ پک کے سخت استعمال سے دانتوں کے درمیان خلا پیدا ہو جاتا ہے، جہاں خوراک پھنسنے اور جراثیم کے جمع ہونے سے مسوڑھوں کی بیماری بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسوڑھوں کی بیماری کی ابتدائی علامات میں خون آنا، سوجن اور منہ سے بدبو شامل ہیں، جنہیں نظرانداز کرنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے مریض اور سگریٹ نوش افراد اس حوالے سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر فریحہ ارشد نے ٹوتھ پک کے بجائے ڈینٹل فلاس، انٹرڈینٹل برش اور واٹر فلاسر کے استعمال کو زیادہ محفوظ اور مؤثر قرار دیتے ہوئے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی روزمرہ صفائی کے معمولات میں ان جدید طریقوں کو شامل کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی کو مسوڑھوں سے خون آنا، دانتوں میں خلا بڑھنا یا دانت ہلنے جیسی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر مستند ڈینٹسٹ سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت علاج کے ذریعے مزید نقصان سے بچا جا سکے۔