ڈسٹرکٹ جیل ٹھٹھہ میں قیدی کی موت کے معاملے میں ایک اہم قانونی پیش رفت سامنے آ گئی ہے

ٹھٹھہ بیروچیف ایم اعجازچانڈیو مھرانوی:
ڈسٹرکٹ جیل ٹھٹھہ میں قیدی کی موت کے معاملے میں ایک اہم قانونی پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ ٹھٹھہ کے نوجوان وکیل قربان ہالو نے اپنی وکلاء ٹیم کے ہمراہ ایک شہری جاوید میر بحر کی جانب سے دفعہ 22-اے کے تحت سیشن کورٹ ٹھٹھہ میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں ڈسٹرکٹ جیل سپرنٹنڈنٹ حماد چانڈیو سمیت جیل انتظامیہ کے خلاف قیدی کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
سیشن جج ٹھٹھہ کی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دو دن قبل ڈسٹرکٹ جیل ٹھٹھہ میں قیدی علی بخش ملاح تشدد کے باعث جاں بحق ہوا، جس کا ذمہ دار جیل سپرنٹنڈنٹ حماد چانڈیو اور دیگر متعلقہ جیل عملہ ہے۔ درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جیل انتظامیہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا جائے اور معاملے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کروا کر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب ایس ایس پی ٹھٹھہ کی جانب سے سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ ٹھٹھہ کو ارسال کردہ خط میں بالکل مختلف مؤقف سامنے آیا ہے۔ ایس ایس پی ٹھٹھہ کی رپورٹ کے مطابق قیدی علی بخش عرف بیگ ملاح کو 21 دسمبر کو ڈسٹرکٹ جیل ٹھٹھہ منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ جیل کے اندر اسپتال میں زیر علاج تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واقعے والے دن دوپہر کے بعد قیدی نے جیل اسپتال کے واش روم میں جا کر خودکشی کر لی۔
ایس ایس پی کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ واقعے کے بعد قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا، جس کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ جیل ٹھٹھہ میں قیدی علی بخش ملاح کی موت کا واقعہ دو روز قبل پیش آیا تھا، جو ٹھٹھہ سمیت پورے ضلع میں سوشل میڈیا، فیس بک اور الیکٹرانک میڈیا پر نمایاں رہا۔ واقعے پر مختلف سوالات اٹھائے گئے اور شہری حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اب سیشن کورٹ ٹھٹھہ میں دفعہ 22-اے کے تحت درخواست دائر ہونے کے بعد معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جبکہ عدالت کی آئندہ کارروائی اور تحقیقات کے نتائج ہی اس بات کا تعین کریں گے کہ قیدی کی موت خودکشی تھی یا تشدد کا نتیجہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *