پاکپتن(ڈسٹرکٹ بیورو چیف)تفصیلات کے مطابق معروف جرنلسٹ قاری خواجہ فیض فرید پیرزادہ کا کہنا ہے کہ 03 مئی کو دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ صحافت کو کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاتا ہے، جو معاشرے کی تعمیر و ترقی اور استحکام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر تھامس جیفرسن نے ایک بار کہا تھا: “اگر مجھے یہ فیصلہ کرنا ہو کہ ہمیں حکومت چاہیے یا اخبارات، تو میں ایک لمحے کے لیے بھی اخبارات کے بغیر رہنے کا نہیں سوچوں گا”۔ یہ قول ثابت کرتا ہے کہ ایک آزاد میڈیا ہی وہ طاقت ہے جو عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کا رشتہ استوار کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آزادیِ صحافت کو ہمیشہ ملک و قوم کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ صحافت کا شعبہ کسی تبلیغ سے کم نہیں ہے۔ جس طرح ایک داعی اور مبلغ قوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے، ایک صحافی کو بھی اپنے قلم کا استعمال اسی جذبے کے ساتھ کرنا چاہیے۔ صحافی کا قلم صرف الفاظ نہیں لکھتا بلکہ قوم کی تقدیر لکھتا ہے، اس لیے ہمیں خبر کی “قبر” کھودنے کے بجائے اسے سچائی کے نور سے منور کرنا چاہیے۔ سنسنی خیزی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر قوم کی فکری آبیاری صرف “تنبیہ اور خیر خواہی” والے اسلوب سے ہی ممکن ہے۔یہاں یہ تجویز دینا بھی وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت کو ہمیشہ آزادیِ صحافت کے تحفظ کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ ایک آزاد میڈیا ہی حکومت کا بہترین مشیر ہوتا ہے۔
آج کا دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم صرف ایک دن کی رسم منا رہےہیں۔آزادیِ صحافت کا مقصد انتشار نہیں بلکہ وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو ختم کرے۔ یاد رکھیے، جب قلم مصلحت سے پاک ہو کر ملک کی تعمیرِ نو کا خواب دیکھتا ہے، تبھی معاشرے میں حقیقی انقلاب برپا ہوتا ہے۔
آزادیِ صحافت قومی تعمیر اور صحافتی ذمہ داری کا عالمی دن