عمرکوٹ سندھ بیوروچیف زیب بنگلانی۔ چھوٹے قرضے دینے والے ادارے کی جانب سے بھرے بازار میں تاجر کی تذلیل قرض کی عدم ادائیگی پر کارندوں کے ذریعے سلائی کڑھائی کی مشینوں اور دیگر قیمتی آلات کو زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے تاجر فاقہ کشی پر مجبور اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
آج کنری میں چھوٹے قرضے دینے والی سماجی تنظیم کی جانب سے صدر بازار میں ایک پیکو سینٹر کے خلاف کی جانے والی کارروائی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے اور یہ واقعہ ایک لمحۂ فکریہ بن گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق قرض کی وصولی کے سلسلے میں متعلقہ ادارے نے ڈنڈے بردار کارندوں کے ہمراہ شہر کے صدر بازار میں پیکو سینٹر پر کارروائی کرتے ہوئے وہاں موجود سلائی کڑھائی کی مشینیں اور دیگر قیمتی اوزار اپنے قبضے میں لے لیے۔ اس اقدام پر مقامی افراد اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ قرض کی وصولی اپنی جگہ ضروری عمل ہے، تاہم اس کا طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے جس سے غریب محنت کش کی روزی روٹی متاثر نہ ہو۔ اگر کسی شخص کے روزگار کے ذرائع ہی چھین لیے جائیں گے تو وہ نہ صرف اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے سے قاصر ہو جائے گا بلکہ قرض کی ادائیگی بھی ممکن نہیں رہے گی۔
سماجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے انسانی ہمدردی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کریں جو ایک طرف قرض کی وصولی کو یقینی بنائیں اور دوسری طرف غریب افراد کے معاشی استحکام کو بھی برقرار رکھیں۔واضع رہے کہ سندھ میں بڑھتی ہوئی خودکشیاں بھی چھوٹے قرضے کی عدم ادائیگی اور تذلیل کی وجہ ہیں جس پر اعلیٰ حکام کو نوٹس لینا چاہئے