عمرکوٹ سندھ: بیوروچیف زیب بنگلانی۔
پاکستان پیپلزپارٹی ہاری ونگ عمرکوٹ کی جانب سے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں کارکنوں اور عہدیداروں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر وفاقی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور عوامی مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی مظاہرے میں ہاری ونگ کے ضلعی صدر واحد سمون، منٹھار آریسر، گھنشام بجیر، نورجہاں گیلہڑو، نندلال میگھواڑ، عبداللہ کھوسو، امین پلی، ہری رام گوئل، چیتن کولہی، شوڏان، کانجی میگھواڑ، آمی بھیل، محمد یوسف سمیت بڑی تعداد میں پارٹی عہدیداران، کارکنان اور ہاریوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب، مزدور اور محنت کش طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس، پیٹرول اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، جس کے باعث غریب عوام ذہنی اذیت اور معاشی بحران کا شکار ہیں۔
مقررین کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیاں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں اور ان کا براہِ راست بوجھ عام عوام برداشت کر رہی ہے، جبکہ ہاری، مزدور اور محنت کش طبقہ مسلسل نظرانداز ہونے کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے سے وابستہ افراد بھی سنگین بحران سے گزر رہے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے ان کے مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آتی۔
مظاہرین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر فوری قابو پایا جائے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ ضلع سے بڑھا کر صوبائی اور ملکی سطح تک وسیع کیا جائے گا۔ احتجاج کے دوران کارکنوں نے وفاقی حکومت کے خلاف زوردار نعرے بازی کرتے ہوئے عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔
پیپلزپارٹی ہاری ونگ کا مہنگائی، بے روزگاری اور وفاقی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
