وزیرِ اعظم نریندر مودی کی خصوصی ہدایات کے بعد پاکستان کا پانی روکنے کے معاملے پر زمین پر عملی کام تیزی سے جاری ہے؛ سی آر پاٹل کی بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2026ء) بھارتی وزیرِ بلدیات و آبی وسائل سی آر پاٹل کا کہنا ہے کہ بھارت پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہیں جانے دے گا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کا پانی مکمل طور پر روکنے کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے کا اعتراف کر لیا ہے، بھارتی وزیر سی آر پاٹل نے بھارتی خبر رساں ادارے ‘اے این آئی’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی خصوصی ہدایات کے بعد پاکستان کا پانی روکنے کے معاملے پر زمین پر عملی کام تیزی سے جاری ہے، آنے والے برسوں میں بھارت سے پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہیں جانے دی جائے گی۔ بھارت کا یہ جارحانہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی نے گزشتہ سال یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا دعویٰ کیا تھا، 1960ء میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان چھ دریاؤں کے پانی کے استعمال کو منظم کرتا ہے، ان دریاؤں کا منبع اگرچہ بھارت میں ہے، لیکن یہ بہتے ہوئے پاکستان آتے ہیں اور پاکستان کے کروڑوں عوام اور ملکی زراعت کی بقا کا واحد ذریعہ ہیں، یہ دریا کشمیر کے انتہائی حساس اور متنازع خطے سے گزرتے ہیں۔ خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آبی کشیدگی گزشتہ سال سے عروج پر پہنچ چکی ہے، مئی 2025ء میں مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے ایک حملے کا مضحکہ خیز الزام پاکستان پر لگا کر بھارت نے اس عالمی معاہدے میں اپنی شمولیت معطل کرنے کا یکطرفہ اعلان کیا تھا، جس کی پاکستان نے سختی سے تردید کی تھی، رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان نے نئی دہلی پر پانی کو بطورِ ہتھیار استعمال کرنے کا باقاعدہ الزام عائد کیا، بھارت نے دریائے چناب کے پانی کا رخ موڑنے کے لیے دو بڑے اور خطرناک منصوبوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ بھارت کے سرکاری ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے مئی میں ایک ہولناک سرنگ منصوبے کا ٹینڈر جاری کیا، جس کا مقصد چناب کا پانی پاکستان آنے سے روک کر اسے بیاس بیسن کی طرف منتقل کرنا ہے، اس کے علاوہ دریائے چناب پر واقع سلال پاور اسٹیشن میں بھی مبینہ تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جب کہ بھارتی گیدڑ بھبکیوں کے جواب میں پاکستان نے عالمی برادری اور بھارت پر اپنا قانونی اور دفاعی مؤقف پوری قوت سے واضح کر دیا ہے۔ پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ سرحد پار سے آنے والے پانی کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا تبدیلی کو پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگی اقدام تصور کیا جائے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا، 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ ایک عالمی ضابطہ ہے اور یہ اب بھی پوری طرح نافذ العمل ہے، اس معاہدے کے اندر ایسا کوئی قانون یا شق موجود ہی نہیں جس کے تحت کوئی بھی ملک اس سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہو سکے یا اسے معطل کر سکے۔
