ڈانسنگ پلز، ہیپی پلز اور ہماری نوجوان نسل: ایک خاموش تباہی

تحریر: محمد منصور ممتاز

کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ یہی نوجوان مستقبل کے معمار، سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سیاستدان اور معاشرے کے رہنما بنتے ہیں۔ لیکن جب یہی نوجوان نشے اور ذہنی تباہی کا شکار ہونے لگیں تو صرف ان کا مستقبل ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں بالخصوص اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات میں “ڈانسنگ پلز”، “ہیپی پلز” اور دیگر نشہ آور گولیوں کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ گولیاں مختلف ناموں سے فروخت کی جاتی ہیں اور اکثر نوجوانوں کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ ان کے استعمال سے خوشی، ذہنی سکون، خود اعتمادی، توانائی اور تفریح کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ بعض نوجوان انہیں پارٹیوں، موسیقی کی محفلوں، دوستوں کی صحبت یا محض تجسس کے تحت استعمال کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ وقتی خوشی دراصل ایک ایسی دلدل کا آغاز ہوتی ہے جس سے نکلنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈانسنگ پلز اور ہیپی پلز دماغ کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ ابتدا میں استعمال کرنے والا خود کو غیر معمولی خوش، پرجوش اور بے فکر محسوس کرتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا ذہنی توازن متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بے خوابی، چڑچڑاپن، یادداشت کی کمزوری، شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن، خوف، بے چینی اور بعض اوقات خودکشی کے خیالات تک جنم لینے لگتے ہیں۔ جسمانی طور پر دل کی دھڑکن تیز ہونا، بلڈ پریشر میں اضافہ، گردوں اور جگر کی خرابی اور اعصابی نظام کی کمزوری جیسے خطرناک مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان گولیوں کا استعمال صرف صحت تک محدود نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ نوجوانوں کے اخلاق، کردار اور معاشرتی رویوں کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ نشے کی حالت میں بہت سے نوجوان غلط فیصلے کرتے ہیں، والدین اور اساتذہ سے بدتمیزی کرتے ہیں، تعلیمی سرگرمیوں سے دور ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات جرائم کی دنیا کی طرف بھی قدم بڑھا دیتے ہیں۔ چوری، لڑائی جھگڑے، سڑک حادثات اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ بھی ہے۔ آج کے مصروف دور میں بہت سے والدین اپنے بچوں کی جسمانی ضروریات تو پوری کر دیتے ہیں لیکن ان کی ذہنی اور جذباتی ضروریات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نوجوان جب تنہائی، دباؤ، مایوسی یا احساسِ محرومی کا شکار ہوتے ہیں تو وہ غلط صحبت یا نشہ آور اشیاء کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کے دوستوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات اور نشہ آور ادویات کے خلاف آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں۔ طلبہ کے لیے کونسلنگ مراکز قائم کیے جائیں تاکہ وہ ذہنی دباؤ اور دیگر مسائل کا مثبت حل تلاش کر سکیں۔ اساتذہ کو بھی طلبہ کے رویوں میں آنے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر توجہ دینی چاہیے تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں، محکمہ صحت، اینٹی نارکوٹکس فورس اور متعلقہ حکام کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ ان گولیوں کی غیر قانونی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے، میڈیکل سٹورز کی نگرانی سخت کی جائے اور تعلیمی اداروں کے اطراف خصوصی چیکنگ کا مؤثر نظام بنایا جائے۔ سوشل میڈیا اور آن لائن ذرائع کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی خرید و فروخت کو روکنے کے لیے بھی سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ جس طرح میڈیا معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتا ہے، اسی طرح نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے اس خطرناک رجحان کو بھی بھرپور انداز میں سامنے لانا چاہیے۔ صرف سنسنی خیزی نہیں بلکہ آگاہی، رہنمائی اور اصلاح پر مبنی مہمات وقت کی ضرورت ہیں۔
مذہبی رہنما، سماجی کارکن، ماہرینِ نفسیات، اساتذہ اور والدین اگر مشترکہ طور پر اس مسئلے کے خلاف جدوجہد کریں تو نوجوان نسل کو اس تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کو کھیل، مطالعہ، فنی سرگرمیوں، سماجی خدمات اور مثبت مشاغل کی طرف راغب کرنا بھی اس مسئلے کے حل کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی مسئلہ تصور کریں۔ کیونکہ جب ایک نوجوان نشے کا شکار ہوتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک خاندان، ایک تعلیمی ادارہ اور بالآخر پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔
اگر آج ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو کل ہماری نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تباہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ آئیں عہد کریں کہ اپنی نئی نسل کو ڈانسنگ پلز، ہیپی پلز اور ہر قسم کے نشے سے محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے، کیونکہ محفوظ نوجوان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہیں۔
یہ کالم اخباری اشاعت کے معیار کے مطابق سماجی، اصلاحی اور عوامی بیداری کے انداز میں تیار کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *