سب رجسٹرار جمشید ٹاؤن (II) کراچی میں مبینہ بدعنوانی کے سنگین الزامات
تحقیقاتی رپورٹ: نظام الدین
کراچی: حکومت سندھ کی جانب سے شہریوں کو شفاف، تیز رفتار اور باعزت سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے قائم کیے گئے “عوامی سہولت مراکز” کے دعوے اس وقت سوالیہ نشان بن گئے جب سب رجسٹرار جمشید ٹاؤن (II) کے دفتر کے دورے کے دوران مبینہ طور پر رشوت ستانی، ایجنٹ مافیا کی سرگرمیوں اور شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کے متعدد واقعات دیکھنے میں آئے،رپورٹر کی جانب سے کیے گئے موقع پر مشاہدے کے مطابق دفتر میں غیر معمولی رش، بےترتیب نظام اور پریشان حال سائلین کی لمبی قطاریں موجود تھیں۔ متعدد شہریوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود ان کے کام اس وقت تک آگے نہیں بڑھتے جب تک متعلقہ عملے یا ایجنٹوں کو غیر قانونی ادائیگی نہ کی جائے۔ تحقیق کے دوران سب سے افسوسناک منظر ایک ضعیف، بیمار اور لاچار خاتون کا تھا جو اپنے جائز کام کے لیے کئی گھنٹوں سے دفتر میں موجود تھیں۔ عینی مشاہدے کے مطابق خاتون بار بار متعلقہ افسران سے درخواست کرتی رہیں لیکن ان کے مسئلے پر کوئی مؤثر توجہ نہیں دی گئی۔
صورتحال کی سنگینی دیکھتے ہوئے راقم نے صحافتی ذمہ داری کے تحت سب رجسٹرار جمشید ٹاؤن (II) سے ملاقات کی، اپنا صحافتی کارڈ پیش کیا اور مذکورہ خاتون کا معاملہ ان کے نوٹس میں لایا، تاہم مبینہ طور پر اس پر بھی کوئی فوری کارروائی نہیں کی گئی۔
رپورٹر کے مطابق کچھ دیر بعد اچانک اسی خاتون کی فائل تیزی سے آگے بڑھ گئی اور ان کا کام مکمل کر دیا گیا۔ موقع پر موجود افراد نے دعویٰ کیا کہ یہ پیش رفت مبینہ طور پر رشوت کی ادائیگی کے بعد ممکن ہوئی ، اس مشاہدے نے دفتر کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات ضرور کھڑے کر دیے۔
دورے کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ دفتر کے باہر سرگرم بعض ایجنٹ شہریوں کو یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ اضافی رقم ادا کرنے کی صورت میں رجسٹری اور دیگر امور کم وقت میں مکمل کروا دیے جائیں گے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم متعدد سائلین نے ایسے الزامات دہرائے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی سرکاری دفتر میں جائز کام کے لیے شہریوں کو رشوت دینے پر مجبور ہونا پڑے تو یہ نہ صرف انسدادِ بدعنوانی قوانین بلکہ عوامی خدمت کے بنیادی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے، کیا سب رجسٹرار دفاتر میں مؤثر نگرانی اور احتساب کا نظام موجود ہے؟
ایجنٹ مافیا سرکاری دفاتر کے اندر یا باہر کس کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے؟
شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے قائم نظام کیوں مؤثر دکھائی نہیں دیتا؟
اگر ایک ضعیف اور بیمار خاتون کو اپنے جائز حق کے لیے مبینہ طور پر رشوت دینا پڑے تو عام شہری کس قدر مشکلات کا شکار ہوتا ہوگا؟ یہ تحقیق حکومت سندھ، بورڈ آف ریونیو سندھ، محکمہ اینٹی کرپشن اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سب رجسٹرار جمشید ٹاؤن (II) میں مبینہ بدعنوانی، رشوت ستانی اور ایجنٹ مافیا کی سرگرمیوں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افسران، اہلکاروں اور سہولت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔
(نوٹ اس رپورٹ میں بیان کیے گئے بعض نکات موقع پر کیے گئے مشاہدات اور سائلین کے بیانات پر مبنی ہیں۔ متعلقہ حکام کا مؤقف دستیاب ہونے پر اسے بھی شائع کیا جائے گا تاکہ خبر کا دوسرا پہلو بھی عوام کے سامنے آسکے۔)
عوامی سہولت یا رشوت کا مرکز؟
