(رپورٹ نظام الدین)
(ہوم ڈیپارٹمنٹ سندھ) اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ
جمشید ٹاؤن (ڈی سی) اسلحہ لائسنس پرائچ میں کرپشن رشوت ستانی اور جعل سازی کا ایک گہرا گٹھ جوڑ پایا جاتا ہے،جہاں شہر کا سب سے بڑا سائلنٹ کرائم نیٹ ورک چل رہا تھا۔ یہ کہانی کسی کلاسک فلمی گینگسٹر کی نہیں، بلکہ جدید دور کے “ڈیجیٹل وائٹ کالر کرائم” کی ہے، جہاں ہتھیاروں سے زیادہ ہولناک کھیل فائلوں، کی بورڈز اور بائیومیٹرک اسکینرز کے ذریعے کھیلا جا رہا تھا۔اس گٹھ جوڑ کا ماسٹر مائنڈ کوئی بڑا مافیا ڈان نہیں، بلکہ ڈپٹی کمشنر ایسٹ کے دفتر سب ڈویژن کے اندر مختیار کار حامد” کو جب لائسنس برانچ کا اضافی چارج دیا گیا تو اسے ڈیجیٹل سسٹم کی ہر وہ کمزوری معلوم تھی جسے عام لوگ نہیں سمجھ سکتے تھے۔ اس کا نیٹ ورک تین حصوں پر مشتمل تھا فرنٹ مین (ایجنٹس) جو سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر “فاسٹ ٹریک ارمز لائسنس” کے اشتہارات چلا کر گاہک پھانستے تھے۔اندرونی عملہ (کلرک) جو بیک اینڈ ریکارڈ، نادرا ڈیٹا بیس کی انٹریز اور پرنٹنگ فائلوں کو مینیپولیٹ کرتے تھے۔سہولت کار
(اعلیٰ افسران) جو فائلوں پر بغیر دیکھے دستخط کرنے کی بھاری قیمت وصول کرتے تھے۔کھیل انتہائی جدید تھا۔ اگر کوئی عام شہری قانونی طریقے سے لائسنس لینے آتا، تو اسے “سسٹم ڈاؤن ہے”، “پولیس ویریفکیشن ادھوری ہے” یا “کوٹہ ختم ہو چکا ہے” جیسے بہانے بنا کر مہینوں خوار کیا جاتا۔ لیکن جیسے ہی کوئی گاہک حامد کے نیٹ ورک کو لاکھوں روپے کی “سپیڈ منی” (رشوت) دیتا، راتوں رات جادو ہو جاتا۔ جدید ترین نادرا انٹیگریٹڈ سسٹم کے باوجود، بیک ڈیٹڈ انٹریز کی جاتی تھیں، اور کوٹہ لسٹ میں ایسے ناموں کا اضافہ کر دیا جاتا جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا تھا۔ یہ لائسنس صرف شوقین افراد کو نہیں، بلکہ شہر کے پوشیدہ جرائم پیشہ عناصر اور ٹارگٹ کلرز کو بھی کروڑوں روپے کے عوض فروخت کیے گئے، سینکڑوں ہائی کیلیبر گنز کے لائسنس ایسے وقت میں سسٹم میں اپ لوڈ کیے گئے جب دفتر سرکاری طور پر بند ہوتا اور رات کے اندھیرے میں سرکاری آئی ڈیز (IDs) استعمال کر کے نادرا کے سسٹم میں جعلی بائیومیٹرک ڈیٹا فیڈ کیا جاتا ، یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ کرپشن اب صرف فائلوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ڈیجیٹل دور میں یہ ایک ہائی ٹیک نیٹ ورک بن چکی ہے، جسے پکڑنے کے لیے اب روایتی تفتیش نہیں بلکہ ڈیجیٹل فرانزک کی ضرورت ہے۔
