ترتیب .نظام الدین
اکثر میرے خیر خواہ دوست میرے لکھے کالموں کا مطالعہ کرنے کے بعد کہتے ہیں، “نظام بھائی! لکھنے میں ہاتھ تھوڑا ہلکا رکھا کرو” اپنے دوستوں کے اس مخلصانہ مشورے پر جب غور کرتا ہوں، تو میرا ذہن ماضی کی جانب لوٹ جاتا ہے۔
جب میں پیدا ہوا،تو میرے دادا نے میرا نام ‘نظام الدین’ رکھا۔ اسی دورِ طفولیت میں میرے ماموں نے مجھے تحفے میں ایک ‘فولٹن پین’ دیا، جس پر پاکستان کا پرچم بنا ہوا تھا اور میرا نام مع تاریخِ پیدائش کندہ تھا۔ جب میں کچھ سمجھدار ہوا، تو اکثر سوچتا تھا کہ جب میں لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتا تھا، تو ماموں نے مجھے کسی کھلونے کے بجائے پاکستانی پرچم والا فولٹن پین ہی کیوں تحفے میں دیا؟ تب خیال آتا کہ شاید یہ پاکستان سے محبت کے اظہار کا ایک منفرد انداز تھا۔ میں یہ بھی سوچتا کہ دادا نے میرا نام اس وقت کے کسی مروجہ ہیرو کے بجائے ‘نظام الدین’ ہی کیوں منتخب کیا؟
ان سوالوں کے حقیقی جوابات مجھے 80 کی دہائی میں اس وقت ملے، جب میں اپنے آباؤ اجداد کے مسکن ‘بدایوں’ (انڈیا) گیا، جو حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی جائے پیدائش تھا، اور میرے دادا نے میرا نام ان ہی کی نسبت سے رکھا تھا۔ بدایوں اپنے دور میں علم، ادب اور تصوف کا ایک عظیم مرکز مانا جاتا تھا، جو ملا عبدالقادر بدایونی جیسی دیگر نامی گرامی ہستیوں کا مسکن تھا،
حضرت نظام الدین اولیاءؒ چشتیہ سلسلے کے عظیم صوفی تھے۔ ان کا دورِ حیات غیاث الدین بلبن سے لے کر غیاث الدین تغلق تک کے سلاطین پر محیط تھا، لیکن انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی بادشاہ کی چوکھٹ پر قدم نہیں رکھا۔ تاریخ کی ایک مشہور روایت ہے کہ جب سلطان علاؤ الدین خلجی نے آپ سے ملاقات کی شدید خواہش اور اصرار کیا، تو آپ نے جواباً فرمایا “میری خانقاہ کے دو دروازے ہیں، اگر بادشاہ ایک سے داخل ہوگا تو میں دوسرے سے باہر نکل جاؤں گا۔” چشتیہ صوفیاء کا یہ پختہ اصول تھا کہ وہ ‘شغلِ سلاطین’ یعنی بادشاہوں کی قربت سے پرہیز کرتے تھے، کیونکہ دربار سے وابستگی روحانیت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ اسی بے نیازی کی وجہ سے قطب الدین مبارک شاہ اور غیاث الدین تغلق جیسے جابر سلاطین آپ سے شدید نالاں رہتے تھے، مگر آپ نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
دوسری طرف، ملا عبدالقادر بدایونی مغل شہنشاہ اکبر کے دور کے ایک جید عالم، مترجم اور مؤرخ تھے۔ وہ اکبر کے دربار سے وابستہ تو تھے، لیکن ان کی شخصیت بڑی سحر انگیز اور پیچیدہ تھی۔ انہوں نے دربار میں رہتے ہوئے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب “منتخب التواریخ” انتہائی رازداری سے لکھی۔ یہ کتاب اس لحاظ سے منفرد ہے کہ درباری ماحول میں رہنے کے باوجود انہوں نے اکبر کی مذہبی پالیسیوں (دینِ الٰہی) اور ابوالفضل و فیضی جیسے درباری حاشیہ برداروں پر سخت ترین تنقید کی۔اگرچہ انہوں نے بادشاہ کے حکم پر ‘مہابھارت’ اور ‘رامائن’ کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا، لیکن اپنے نظریات پر آنچ نہیں آنے دی۔ وہ جانتے تھے کہ اگر اکبر کو ان کی اس تحریر کا علم ہو گیا تو ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اسی لیے انہوں نے اسے اپنی زندگی میں ظاہر نہیں کیا اور یہ کتاب جہانگیر کے دور میں منظرِ عام پر آئی۔ ان ہی جلیل القدر ہستیوں کے پڑوس میں میرے اجداد صدیوں سے آباد ہی نہیں تھے، بلکہ رشتوں کی ڈور سے بندھے ہوئے بھی تھے۔
اگر سائنسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، تو ڈی این اے (DNA) وہ مادہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ ایک جغرافیائی خطے سے دوسرے خطے میں ہجرت کے باوجود خلیات کے اندر موجود جینیاتی کوڈ تبدیل نہیں ہوتے۔ جدید سائنس کہتی ہے کہ ماحول ڈی این اے کی ساخت کو تو تبدیل نہیں کرتا، لیکن یہ ضرور طے کرتا ہے کہ کون سے ‘جینز’ فعال ہوں گے اور کون سے نہیں۔ ہجرت کے بعد نئے حالات، معاشی مشکلات اور اجنبی ماحول جبلت کے کچھ حصوں کو مزید ابھار دیتے ہیں یا دبا دیتے ہیں، مگر بنیادی جوہر اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔
تاریخی اور صوفیانہ روایات میں ایک تصور ‘خونی یادداشت’کا ہے۔ یہ وہ جبلت ہے جو ہمیں اپنے اسلاف سے وراثت میں ملتی ہے۔ میرے نزدیک حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی بے نیازی اور ملا بدایونی کی تنقیدی حس اسی جینیاتی ورثے کا حصہ ہے، جو ہجرت کے سفر میں گم نہیں ہوتا؛ بلکہ اکثر اوقات ہجرت کے دکھ، کرب اور نئے ماحول کی اجنبیت اس موروثی جبلت کو مزید جلا بخش دیتے ہیں۔ بدایوں کی مٹی نے صدیوں تک ایسے ذہن پیدا کیے جو حاکمِ وقت کے سامنے سر جھکانے سے عاری تھے۔ چنانچہ، کالموں کے ذریعے معاشرتی ناانصافیوں اور بے چینی پر بے باکی سے لکھنا، دراصل میری اسی موروثی جبلت کا شاخسانہ ہے۔
ہجرت انسان کو ‘بقا کی جنگ’ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جب میرے مخلص دوست مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ “ایسا مت لکھو جس سے پریشانی ہو”، تو وہ دراصل مجھے ہجرت زدہ ذہنیت کی مصلحت پسندی سکھا رہے ہوتے ہیں؛ یعنی: “ہم یہاں نئے ہیں، ہمیں محتاط رہنا چاہیے”۔ لیکن میری جبلت اس مصلحت کو قبول کرنے سے قاصر ہے۔ صدیوں کا یہ فاصلہ صرف جسمانی اور جغرافیائی ہے، نظریاتی نہیں۔ جو تڑپ ملا عبدالقادر بدایونی کے قلم میں تھی، وہی آج میرے کالموں میں ‘معاشرتی بے چینی’ کی صورت میں بیدار نظر آتی ہے۔ یہ جبلت ہجرت سے ختم نہیں ہوئی، بلکہ کراچی کے مخصوص حالات، ماحول اور مسائل نے میرے قلم کو ایک نیا میدانِ عمل دے دیا ہے۔
