مفادِ عامہ (قسط دوم)

ترتیب
نظام الدین

گزشتہ قسط میں ہم نے کراچی میں زمین کے معاملات سے متعلق مختلف اداروں، الاٹمنٹ، لیز، ٹرانسفر اور انتقال کی بنیادی معلومات بیان کی تھیں۔ آج ہم جائیداد کے ایک ایسے پہلو پر بات کریں گے جو بسا اوقات خرید و فروخت کے معاملات میں انتہائی اہم بن جاتا ہے۔
وہ ہے مختیار نامہ، یعنی پاور آف اٹارنی۔
مختیار نامہ کیا ہے؟
مختیار نامہ ایک قانونی دستاویز ہے جس کے ذریعے ایک شخص دوسرے شخص کو اپنے مخصوص یا عمومی معاملات میں اپنی نمائندگی کرنے اور مقررہ اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دے سکتا ہے۔
اسے انگریزی میں پاور آف اٹارنی کہا جاتا ہے۔
لیکن جائیداد خریدنے والے کے لیے یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہر مختیار نامہ اپنے حامل کو جائیداد فروخت کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ اصل دستاویز میں درج اختیارات کا متن دیکھنا ضروری ہے۔
جنرل پاور آف اٹارنی
جنرل پاور آف اٹارنی میں مختلف معاملات کے لیے نسبتاً وسیع اختیارات دیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مالک کسی شخص کو اپنے بعض مالی، انتظامی یا جائیداد سے متعلق معاملات انجام دینے کا اختیار دے سکتا ہے۔
لیکن یہ سمجھنا خطرناک ہے کہ ہر جنرل پاور آف اٹارنی لازماً جائیداد فروخت کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ اگر فروخت، منتقلی، رہن یا کسی دوسرے مخصوص کام کا اختیار واضح طور پر موجود نہ ہو تو صرف جنرل پاور آف اٹارنی کے نام سے یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ اٹارنی ہولڈر کو ہر قسم کا اختیار حاصل ہے۔اسپیشل پاور آف اٹارنی
اسپیشل پاور آف اٹارنی کسی مخصوص کام، مخصوص جائیداد یا مخصوص مقصد کے لیے دی جاتی ہے۔ “مثلاً کسی خاص دفتر سے دستاویز وصول کرنا، کسی مخصوص مقدمے میں نمائندگی کرنا یا کسی مخصوص جائیداد کے متعلق بیان یاکارروائی کرنا۔اس کے اختیارات وہی ہوں گے جو دستاویز میں واضح طور پر درج کیے گئے ہوں۔قابلِ منسوخی اور ناقابلِ منسوخی مختیار نامہ
مختیار نامے کو اس کی شرائط اور قانونی حیثیت کے مطابق منسوخ کیا جا سکتا ہے، جبکہ بعض حالات میں اس کے ساتھ ایسا مفاد وابستہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے قانونی صورتِ حال مختلف ہو جاتی ہے۔اس لیے صرف یہ لکھا ہونا کہ مختیار نامہ ناقابلِ منسوخی ہے، بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ مالک ہر صورت میں اسے منسوخ نہیں کر سکتا۔
اگر کسی مختیار نامے کو کسی مفاد یا لین دین کے تحفظ کے لیے ناقابلِ منسوخی قرار دیا گیا ہو تو اس کی قانونی حیثیت دستاویز، لین دین اور متعلقہ قانون کی روشنی میں طے کی جائے گی۔ جائیداد کے معاملے میں ایسی دستاویز پر دستخط کرنے یا اسے قبول کرنے سے پہلے ماہر وکیل سے قانونی رائے لینا انتہائی ضروری ہے۔
بیرونِ ملک مقیم مالک کا مختیار نامہ اگر جائیداد کا مالک بیرونِ ملک رہتا ہو اور پاکستان میں کسی شخص کو اپنے معاملات انجام دینے کا اختیار دینا چاہتا ہو تو بیرونِ ملک تیار کیے گئے مختیار نامے کی تصدیق اور پاکستان میں اس کے استعمال کا طریقہ متعلقہ ملک، پاکستانی سفارتی مشن اور پاکستان کے متعلقہ قوانین کے مطابق ہو سکتا ہے۔
ایسی دستاویز استعمال کرنے سے پہلے موجودہ تصدیقی اور رجسٹریشن تقاضے متعلقہ پاکستانی سفارت خانے، قونصل خانے اور متعلقہ رجسٹریشن اتھارٹی سے معلوم کرنا چاہیے۔
مختیار نامہ کب ختم ہو سکتا ہے؟
مختیار نامے کی مدت اور خاتمے کا انحصار اس کی شرائط اور متعلقہ قانون پر ہوتا ہے۔عام طور پر مخصوص مقصد کے لیے دیا گیا مختیار نامہ مقصد مکمل ہونے پر ختم ہو سکتا ہے۔ منسوخی، مدت پوری ہونے یا کسی دوسری قانونی وجہ سے بھی اس کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔مالک کی وفات کے بعد ایجنسی کے اختیارات کے بارے میں عمومی اصول یہ ہے کہ ایجنسی ختم ہو جاتی ہے، تاہم کسی مخصوص دستاویز یا اس سے وابستہ مفاد کی قانونی صورتِ حال الگ سے دیکھی جا سکتی ہے۔
اس لیے جائیداد خریدتے وقت صرف مختیار نامہ دیکھنا کافی نہیں بلکہ اس کی موجودہ قانونی حیثیت بھی جانچنا ضروری ہے۔جعلی مختیار نامے سے ہوشیار رہیں جائیداد کے معاملات میں جعل سازی کا ایک طریقہ جعلی یا مشکوک مختیار نامے کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص اصل مالک کے بجائے اٹارنی ہولڈر بن کر جائیداد فروخت کر رہا ہو تو خریدار کو مزید احتیاط کرنی چاہیے۔
سب سے پہلے تصدیق کریں کہ، مختیار نامہ واقعی اصل مالک نے جاری کیا تھا۔اس کی رجسٹریشن یا تصدیق متعلقہ سرکاری ریکارڈ سے ہو سکتی ہےاٹارنی ہولڈر کو فروخت اور منتقلی کا واضح اختیار حاصل ہے۔
اصل مالک کی موجودہ قانونی حیثیت معلوم ہے۔جائیداد پر کوئی مقدمہ، رہن، حکمِ امتناعی یا دوسرا دعویٰ تو موجود نہیں۔
چائنا کٹنگ سے ہوشیار رہیں کراچی میں غیر قانونی طور پر پارک، کھیل کے میدان، گرین بیلٹ، رفاہی و فلاحی مقاصد کے پلاٹ یا دیگر مخصوص استعمال کی زمین کو چھوٹے پلاٹوں میں تقسیم کرکے فروخت کرنے کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔
خریدار کو صرف پلاٹ نمبر دیکھ کر مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔
اصل ماسٹر پلان، لے آؤٹ پلان اور متعلقہ ادارے کے سرکاری ریکارڈ سے یہ تصدیق ضروری ہے کہ پلاٹ قانونی طور پر موجود ہے اور اس کا استعمال بھی قانونی ہے۔
گوٹھ اور مضافاتی زمین کراچی کے مضافاتی علاقوں میں گوٹھ، زرعی زمین، دیہی زمین اور مختلف سرکاری و نجی اراضی موجود ہے۔ ایسی زمین کی خریداری میں عام رہائشی پلاٹ سے زیادہ احتیاط ضروری ہے۔
اگر کوئی شخص گوٹھ آبادکاری، زرعی زمین یا کسی دوسرے قانونی عنوان کے تحت حاصل شدہ زمین کو بڑی ہاؤسنگ اسکیم کے نام پر فروخت کر رہا ہو تو سب سے پہلے اس زمین کی اصل ملکیت، قانونی حیثیت، تبدیلیٔ استعمال، منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور متعلقہ اداروں کی منظوری کی تصدیق کریں۔صرف یہ کہنا کہ “یہ زمین گوٹھ کی ہے” یا “یہ حکومت سے منظور شدہ ہے” قانونی ملکیت کا مکمل ثبوت نہیں۔ فلیٹ، دکان یا پورشن خریدتے وقت
اگر آپ فلیٹ، دکان یا پورشن خرید رہے ہیں تو صرف زمین کے کاغذات دیکھنا کافی نہیں۔یہ بھی دیکھیں کہ،عمارت کا منظور شدہ نقشہ موجود ہے۔
تعمیر کی اجازت حاصل کی گئی ہے۔
متعلقہ ادارے کی منظوری موجود ہے۔
استعمال کی اجازت قانونی ہے۔زمین کی لیز یا سب لیز موجود ہے۔
بلڈر کو تعمیر اور فروخت کا قانونی حق حاصل ہے۔خریدار کے حق میں کون سی دستاویز جاری ہوگی۔
جہاں ضروری ہو، سیل اینڈ ایڈورٹائزمنٹ این او سی موجود اور اصل ہو۔جائیداد خریدتے وقت کیا کریں؟جائیداد خریدنے سے پہلے جلد بازی نہ کریں۔پہلا قدم، اصل مالک اور اس کی شناخت کی تصدیق کریں۔دوسرا قدم الاٹمنٹ، لیز، سب لیز، سیل ڈیڈ، ٹرانسفر اور دیگر اصل دستاویزات دیکھیں۔تیسرا قدم: متعلقہ ادارے کے دفتر یا سرکاری ریکارڈ سے دستاویزات کی تصدیق کریں۔چوتھا قدم، معلوم کریں کہ جائیداد پر کوئی مقدمہ، رہن، حکمِ امتناعی یا دوسرا دعویٰ تو موجود نہیں۔
پانچواں قدم، سوسائٹی یا منصوبے کا منظور شدہ نقشہ اور زمین کا ماسٹر پلان دیکھیں۔چھٹا قدم اگر معاملہ پیچیدہ ہو تو جائیداد کے معاملات کے ماہر وکیل سے دستاویزات کی قانونی جانچ کروائیں۔
ساتواں قدم: بڑی رقم نقد دینے کے بجائے قابلِ دستاویز بینکاری ذریعے سے ادائیگی کریں اور ہر ادائیگی کا ثبوت محفوظ رکھیں۔
آٹھواں قدم: جہاں مناسب ہو، خریداری سے پہلے قانونی طریقے کے مطابق عوامی نوٹس کے ذریعے ممکنہ دعووں اور اعتراضات کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔آخری اور سب سے اہم بات
زمین یا گھر خریدنا زندگی کا ایک بڑا فیصلہ ہے۔ اس میں انسان کی برسوں کی محنت اور جمع پونجی شامل ہوتی ہے۔چند ہزار روپے بچانے، جلدی قبضہ حاصل کرنے یا پراپرٹی ڈیلر کی میٹھی باتوں میں آکر دستاویزات کی جانچ پڑتال چھوڑ دینا مستقبل میں بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔
یاد رکھیے”کاغذ پکا تو جائیداد پکی۔”لیکن صرف کاغذ دیکھنا کافی نہیں۔کاغذ اصلی، متعلقہ ادارے کے ریکارڈ میں درست، قانونی اختیار کے تحت جاری شدہ اور موجودہ حیثیت میں قابلِ عمل بھی ہونا چاہیے۔زمین خریدنے سے پہلے مکمل تحقیق، سرکاری ریکارڈ کی تصدیق اور قانونی مشورہ ہی شہری کو جعل سازی، غیر قانونی الاٹمنٹ، جعلی مختیار نامے اور اراضی کے دوسرے فراڈ سے محفوظ رکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔
عوام کو چاہیے کہ جائیداد خریدنے سے پہلے پیسہ نہیں، پہلے کاغذات دیکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *