طب پرسوال کیوں اٹھتے ہیں؟

دنیا میں ہرعلم وفن کی بقااس کے بنیادی اصولوں کی بقاکے ساتھ جڑی ہوتی ہے،جب تک بنیادی اصول باقی ہیں علم وفن باقی رہتا ہے،جب بنیادی اصول توڑدیئے جائیں یاان میں کسی نئے علم وفن کے اصول ضم کردیئے جائیں تووہ علم وفن اپنی اہمیت وافادیت کھودیتا ہے،اور وہ اسی کھوئی کھوئی سی ہی حالت میں مرجاتا ہے۔فنون وپیشوں کی بہت سی چیزیں آج انسانوں کے ہاتھوں سے نکل چکی ہیں،اورمشینوں کے دامن سے وابستہ ہیں،جیسے تمام اشیاء جوانسان استعمال کرتے تھے برتن جوتے کپڑے وغیرہ آج سب کے سب مشینی دستیاب ہیں،دستی نہیں،لیکن مشینی اوردستی میں بہتراورکمترکا فرق آج بھی موجودہے،اسی طرح کھانے پینے کی اشیاء جیسے زمین کی فصلیں،جانوروں اورپرندوں مچھلیوں کا گوشت وغیرہ،یہ چیزیں بھی کیمیائی دراندازی کی وجہ سے کہیں زیادہ پیدواردے رہی ہیں،لیکن وہ قدرتی طریقہ سے پیداہونے والی اشیاء جیسی صلاحیت نہیں رکھتیں،لیکن چونکہ انسان کوعجلت پسنداورکثرت پسند بنایا گیا ہے،لہذاانسان اس جلد حصول کے پیچھے پڑگیا،اوراس جلدی جلدی میں خودبھی جلدی کی راہ پکڑلی،کہ اب انسان کی اوسط عمرزیادہ سے زیادہ ساٹھ سال ہے،جوکبھی ایک سوبیس سال ہواکرتی تھی۔انسان کی تمام ضرورتوں سے زیادہ صحت کی ضرورت ہے،جوفطری اورقدرتی خوراک کے ہوتے بھی امراض کا شکارہوجاتی ہے، اس لیے انسانوں کوانبیاء کے ذریعے ہی علاج ودواکا علم بھی دیا گیا،اوریہ علم ہردورمیں انسان کی حرص مال وجاہ یاعجلت پسندی کی دلدل میں ڈوب گیا،اوراس میں کئی قسم کی طبعی اورغیرطبعی قسم کی پیوند کاریاں کی جاتی رہیں،جس سے وہ ربانی علوم کہیں معدوم ہوگئے،کہیں آفسانوی علوم بن گئے۔ آخری نبی کریم ﷺجس طرح اللہ کی طرف سے آخری دین مکمل کے آخری رسول ہیں،اور آپ کے بعد آپ ﷺ کے دین کی تفسیرو تشریح آپ کے علماء امت کی ذمہ داری ہے،ایسے ہی طب وعلاج میں بھی علمائے طب کویہ واجب ہے کہ وہ طبِ نبوی کی تشریح وتفسیرمیں تحقیق وعلاج کووسعت دیں،جس کے لیے اسلامی محققینِ طب نے اپنے اپنے ادوارمیں بڑے ضخیم ذخیرے چھوڑے ہیں جن میں بوعلی سینا ایک مشہورنام ہے،حالانکہ ان کے علاوہ بھی بہت سے حکماء نے طب میں بہت کام کیا حتیٰ کہ امامانِ امت بلکہ اکثرعلمائے امت طب وصحت میں ضرور علم رکھتے تھے،ایک صدی پہلے تک دینی تعلیم کے نصاب جسے درسِ نظامی کہتے ہیں اس میں باقاعدہ فلسفہ،منطق، ہیئت، ریاضی،فلکیات،اورطب پڑھائے جاتے تھے،اسی لیے اکثرطبیب وحکماء مولوی حضرات ہی تھے،لیکن انگریزوں کے ہندوستان پرقبضے کے دوران،درسِ نظامی کوکمترقرار دینے کے لیے لارڈ میکالے کے نظامِ تعلیم کوہندوستان میں نافذکیا گیا جواس چابکدستی سے تھاکہ خودمسلمانوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کے لیے چندے مانگے اوراسے بنادیا،کرتے کرتے مدرسوں میں بھی انگریزکے جانے کے بعددرسِ نظامی کی بھی توڑپھوڑشروع کردی گئی،پاکستان میں ہرمدرسے کا اپنا نظام بن گیا،اور لارڈ میکالے کے نصاب کے مطابق مدرسوں میں انگلش تعلیم شامل کی گئی،اس کی وجہ سے مولوی نے مدرسے سے طب اورمنطق وفلسفہ کونکال باہرکیا،اب مولوی صرف انگلش بول سکتا ہے،اورمسائلِ عبادات وعقائد جانتااور بتاتاہے، اسے نہ صحت کا علم ہے نہ کلام کا،مساجد کی زیب وزینت کلیسا کی طرح،عقائدکی مڈبھیڑ روزروز،لیکن انسانوں کی فلاح وبہبودسب کی سب انگریزویہودکے مرہونِ منت ہے،کوئی شیخ الا سلام،کوئی مجددِ دین،کوئی غوث دوران،کوئی حکیم الامت اس بات سے آگاہ نہیں کہ امت صرف افرادکے مجموعے کو نہیں کہتے،امت صرف عقائدکے بندھن سے نہیں بنتی،بلکہ امت کھانے پینے سے لے کر رہن سہن تک ہر چیزمیں مخصوص عقائدوعلم کے تابع رہنے والے لوگوں کو کہتے ہیں،توجولوگ عقائدمیں تومسلم ہوں اوررہن سہن میں ہندوہوں اورکاروبارِ میں یہودی ہوں توکیا وہ امتِ مسلمہ ہیں۔ بقول علامہ اقبال”وضح میں ہوتم نصاریٰ توتمدن میں ہنود،یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کرشرمائیں یہود“۔طب ہرقوم ومذہب کااپناپناورثہ رہاہے،اسی طرح اسلام کا بھی اپنا ورثہ تھاجس کوسابقہ صدی سے اس امت کے حرص وحسد کے کوٹھوں نے ایلوپیتھک کا چربہ بنادیا،اپنی تحقیق کواپنے اصولوں کو چھوڑکرایلوپیتھک تحقیق کواپنا قبلہ بنالیا،طب کے اصولِ تشخیص ومزاج کوچھوڑ کرایلوپیتھک طرزپرجراثیم اوروائیرس،بلڈ پریشر وغیرہ کی تشخیص کی راہ اپنا لی،اور انگریزوں کے کہنے پرطبیہ کونسل بنا لی جوطبیب یاحکیموں کو رجسٹر کرے گی،پہلی کھیپ میں ہرمرہم ساز،حجام وجوگی کورجسٹر طبیب بنادیا،پھرکالجزبنائے جن میں نصاب طب لارڈمیکالے کی طرزکا بنایا،اورپھرطبی تعلیم کے لیے میٹرک سائنس،پھرایف اے سائنس،لاگوکیا گیا،کیا یہ لارڈمیکالے کا نصاب نہیں،جبکہ سائنس میں نہ مزاج شناسی ہے،نہ نبض شناسی، بلکہ وہ تو اسے دھوکہ کہتے ہیں،لیکن ہوس پرستوں نے مال بنانے کی ہوس میں سب کچھ قبول کیا،اوردوسرے اکثرکالجزکے اطباء جن کو خود بھی نبض شناسی بس دھوکے کی حدتک ہی تھی،وہ حکماء سے سیکھنے والے حکیموں کو حسدمیں اپنی رجسٹریشن کے بل بوتے ذلیل کرتے رہے،اوراپنے بڑے بڑے دواخانے چلا لیے،جوان کی نسلوں کے لیے ذریعہ زورگارہیں۔لیکن یہودی تھیک ٹینک اپنے کام پرسست روی سے گام زن رہا،اوراب جاکے پہلے ادویات کی رجسٹریشن فارم سیون کے نام سے کی گئی،جس میں چھوٹے موٹے دواخانے کاروبار سے باہرہوگئے،بڑے دواخانوں نے بغلیں بجائیں کہ اب انہیں کا کاروبار چلے گا، لیکن ہیلتھ کئیر کمیشن نے دوا خانوں کے لیے جوایس او پی بنائے ہیں،وہ ان دواخانوں کے لیے بھی چیلنج ہوگئے ہیں،اس کے ساتھ ہی حکومت نے ایک تجویزچلائی کہ طب اورہومیوپیتھک کونسل کو ختم کرکے ایک آلٹر نیٹوکونسل بنائی جائے،تواب جاکرجب اپنا کاروبار بندہوتا دکھائی دیا توطب بچاومہم شروع کی گئی،لیکن پھربھی یہ ان کے لیے ہے جوطبیہ کالجزکے لوگ ہیں طب کے لیے نہیں،طب تب بچے گی جب طب کسی حکیم سے سیکھے ہوے طبیب کو بھی حق دے گی، کیونکہ طب کوئی صرف لٹریچرنہیں یہ ایک فن ہے،اورفن کتابوں میں نہیں ہوتا ہاتھوں میں ہوتا ہے۔لہذاطبیہ کونسل کوایک توخوداپنے کالجزکا نصاب بھی خالص طبی بناناہو گا،اوردوسرے ہراس طبیب کوجوکسی استادِ طب سے سیکھ کرطبیب بنا ہواسے تحفظ دینا ہوگا،او رکالجز میں داخلے کے لیے اردوپڑھا لکھا ہونا تسلیم کرناہوگا،میٹرک،اورسائنس کی کنڈیشنزختم کردیں،ورنہ طب کا کریا کرم ہونے والا ہے،اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پاکستان کوعلم وحکمت سے نوازے آمین وماعلی الاالبلاغ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *