ترتیب .نظام الدین
پاکستان میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کو عمومی طور پر تین بنیادی زمروں میں تقسیم کیا جاتا رہا ہے۔ پہلے زمرے میں وہ 14 لاکھ مہاجرین شامل تھے جو اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے پاس باقاعدہ رجسٹرڈ تھے۔ دوسرے زمرے میں وہ افغان شہری جنہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ‘افغان سٹیزن کارڈ’جاری کیے گئے تھے،اور ان کی تعداد تقریباً 8 لاکھ 80 ہزار بتائی جاتی تھی۔ تیسرے زمرے میں وہ 5 لاکھ مہاجرین شامل تھے جن کے پاس ‘پروف آف رجسٹریشن’ تھا اور نہ ہی’افغان سٹیزن کارڈ’ تاہم، ان تینوں زمروں کے علاوہ ایک ‘چوتھا زمرہ’ بھی موجود ہے جو لاکھوں کی تعداد میں ان مشکوک اور جعلی پاکستانی شناختی کارڈز پر مشتمل ہے جو غیر قانونی طور پر افغانی شہریوں کو بنانا کردیے گئے ہیں،
1980اور 1990 کی دہائیوں میں،جب کاغذی (دستی) شناختی کارڈز کا نظام رائج تھا، تب” بھی کچھ افغان شہریوں نے مقامی سطح پر جعلی کارڈز بنوا لیے تھے۔ مگر نادرا کے ڈیجیٹل نظام کے قیام کے بعد، رشوت خور ایجنٹوں اور نادرا کے بعض فاسد عناصر کی ملی بھگت سے افغان شہریوں کو اصل پاکستانی خاندانوں کے ریکارڈ (فیملی ٹری) میں شامل کر کے جعلی کارڈز جاری کیے جاتے رہے۔ ان کے خلاف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) اور سیکیورٹی ادارے مسلسل کریک ڈاؤن کرتے رہے ، جس کے نتیجے میں لاکھوں جعلی شناختی کارڈ منسوخ بھی کیے گئے، مگر “تحقیق سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ افغان باشندوں کو پاکستانی شناختی کارڈز کا اجرا محض ایک مالیاتی جرم یا انتظامی بدعنوانی کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ ہائبرڈ وارفیئر کے موجودہ دور میں، جب بھارت براہِ راست پاکستان پر عسکری حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، تو وہ پاکستان کی اندرونی کمزوریوں اور انتظامی نقائص کا فائدہ اٹھا کر ‘شناخت کی جعل سازی’ کو بطورِ ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ کالعدم تنظیموں کے کمانڈروں کو قانونی دستاویزات کی فراہمی اور نادرا کے قومی ڈیٹا بیس میں غیر ملکیوں کا اندراج دراصل پاکستان کے دفاعی و سیکیورٹی نظام کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی ایک گہری سازش کا حصہ ہے۔ یورپی ڈس انفولیب نے 2019 اور 2020 میں ایک وسیع نیٹ ورک کی تحقیقات شائع کیں تھیں جس کے مطابق اس نیٹ ورک میں سیکڑوں جعلی یا مشتبہ میڈیا ویب سائٹس، متعدد این جی اوز اور تھنک ٹینکس شامل تھے، اور اس کا ایک نمایاں ہدف پاکستان کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر منفی بیانیہ پیدا کرنا تھا۔ رپورٹ میں 750 سے زائد جعلی میڈیا ذرائع اور 10 سے زیادہ اقوام متحدہ سے منسلک این جی اوز کے نیٹ ورک کا ذکر کیا گیا تھا
2019 کی اسی تحقیق میں یورپی ڈس انفولیب نے 65 سے زیادہ ممالک میں 265 مربوط جعلی مقامی میڈیا ویب سائٹس کا سراغ لگانے کا دعویٰ بھی کیا تھا، جنہیں بھارت نواز اور پاکستان مخالف بیانیے کو پھیلانے کے لیے استعمال کیے جانے کا انکشاف تھا، 2023 میں اسی ادارے نے مزید تحقیق میں ایسے مبینہ جعلی ماہرین، صحافیوں اور اداروں کا ذکر کیا جن کے حوالے بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کی بعض خبروں میں دیے گئے اور جن کے وجود یا حیثیت پر تحقیق نے سوال اٹھائے۔ رپورٹ نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا گیا تھا کہ بھارت دنیا بھر میں سینکڑوں جعلی میڈیا ویب سائٹس اور این جی اوز کا نیٹ چلانے کا واحد مقصد پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنا ہے۔ان جعلی این جی اوز کے ذریعے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اجلاسوں اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر پاکستان مخالف تقاریر کروانے کے لیے بھارت کو ایسے مہروں کی ضرورت ہوتی ہے جو شکل و صورت، خدوخال اور زبان کے لحاظ سے مقامي پاکستانی معلوم ہوں۔ یہ افغان باشندے، جو جعلی پاکستانی پاسپورٹ حاصل کر چکے ہوتے ہیں، ان عالمی فورمز پر “پاکستانی شہری” بن کر بولتے ہیں۔ اس سے دنیا کو یہ گمراہ کن تاثر دیا جاتا ہے کہ خود پاکستان کے شہری اپنی ریاست کے مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ مزید برآں،جب دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز بڑی تعداد میں غیرقانونی سرگرمیوں، ویزا اوور سٹے، یا سیاسی پناہ کے جعلی کیسز میں ملوث پائے جاتے ہیں، تو اس کا مستقیم اثر پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ پر پڑتا ہے۔ اس کا خمیازہ ان اصل اور محبِ وطن پاکستانی شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے جنہیں بیرونِ ملک ملازمتوں، اعلیٰ تعلیم اور ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا ہوتا ہے،اور یوں پاکستان عالمی سطح پر معاشی و سفارتی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس سنگین صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور نادرا نے بڑے پیمانے پر حتمی کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ جدید ارٹیفیشل انٹیلی جنس اور سمارٹ سافٹ ویئرز کی مدد سے اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد مشکوک شناختی کارڈز بلاک یا منسوخ کیے ہیں۔ علاوہ ازیں،الیکٹرانک ریورس انجینئرنگ اور ڈیجیٹل فارنزک کے ذریعے نادرا کے ان تمام افسران و ملازمین کو ٹریس کر کے گرفتار کیا جا رہا ہے جنہوں نے چند لاکھ روپوں کے ذاتی لالچ میں ملک کی سلامتی اور قومی شناخت کا سودا کیا۔حاصلِ کلام یہ کہ بھارت کو ہر غریب افغان شہری کو براہِ راست خریدنے کی ضرورت نہیں پڑتی؛ وہ صرف اس کرپٹ نظام کے پیدا کردہ مہروں کو حاصل کرتا ہے اور انہیں اپنے اسٹریٹجک و جیو پولیٹیکل مقاصد کے لیے دنیا بھر میں استعمال کرتا ہے۔
کیونکہ شناختی کارڈ ایک کاغذ یا پلاسٹک کا ٹکڑا نہیں؛ یہ ریاست کی طرف سے کسی شخص کے پاکستانی ہونے کا اعلان ہے۔اس اعلان کو جعلی بنانے والا کوئی بھی شخص،خواہ افغان ہو، پاکستانی ہو یا کسی بیرونی نیٹ ورک کا حصہ,قانون کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے،،
