آج کل پاکستان چومکھی لڑائی لڑرہا ہے،عالمی حالات سے،مشرق ومغرب کے ہمسائیوں سے،اندرونی دہشتگردی سے اورسیاسی خلفشارسے،اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین۔ ان شدید حالات میں گوکہ پاکستان،عالمی منظرنامے پرایک مضبوط ومستحکم مقام پرنظر آرہا ہے،لیکن اندرونی طورپرسیاسی ناپختگی اورصرف عالمی تناظرمیں ملک کودیکھنے والے یاعالمی سیاست کے مہرے ہمارے سیاسی لیڈران قوم وملک کے لیے نئے نئے بیانیے لیے قوم میں ہیجان وانتشار برپا کررہے ہیں۔ملک کے دوصوبوں اور ایک زیرِ انتظام علاقے میں انارکی چل رہی ہے،اورحکومت اس سے نپٹنے میں مصروف ہے،لیکن ساتھ ہی نئے صوبوں کا واویلاشروع ہوگیا ہے،جس سے اتحادی حکومتی پارٹی سب سے زیادہ سیخ پاہے،موجودہ سال کا آدھاحصہ توایران امریکہ مصالحت میں حکومت نے گزار دیا،ملکی حالات پرتوجہ جیسے کہ حالات کا تقاضہ تھا،حکومت نہ دے سکی،بنابریں اندرونی دہشت گرد آگ وخون کی ہولی کھیل رہے ہیں،اوراب صوبوں کی بازگشت نے نئے اختلافات کوجنم دینا شروع کردیا ہے۔قابلِ غور بات یہ ہے کہ جن لوگوں سے چار صوبے متحدنہیں رکھے جاسکتے،وہ بارہ پندرہ صوبوں کوکیسے متحدرکھیں گے،جس ملک میں نسلی،لسانی اورعلاقائی تعصب ہی لوگوں کی پہچا ن ہے،سندھی،بلوچی، پشتون اورپنجابی ہی جن کی شناخت ہے،وہ پاکستانی صرف ملک سے باہرہی رہ کرکہلاتے ہیں کہ پاسپورٹ پرپاکستانی لکھا ہوتا ہے،اب اس میں چنداورصوبے بناکرکیاعوام کوچنداورتعصب دیئے جائیں گے۔بزرجمہروں کاخیال ہے کہ جتنے چھوٹے یونٹ ہوں گے،اتنے انتظامی اورترقیاتی کام بہتر ہوں گے،جیسے بعض لوگ کہتے ہیں کہ بلدیاتی نظام سے اختیارات نچلی سطح پرمنتقل ہوگئے ہیں،لیکن اس سے عوام کوکیا فائدہ ہوا،فائدہ توصرف انہیں کاہے جواختیارات کی اوپروالی سطح تک نہیں پہنچ سکتے تھے،اوروہ اوپروالی سطح والوں کی غلام گردشوں میں پھرتے رہتے تھے۔نچلی سطح پراختیارمنتقل ہونے کاعوام کوفائدہ یہ ہوا کہ عوام پران اختیار والوں کا بوجھ بھی اٹھانا لازم ہوگیا،جس کے تحت ان کے ٹیکس میں اضافہ ہوگیا،اورجوبجٹ پہلے اوپرکی سطح کے بااختیارلوگ استعمال کرتے تھے،اب اس بجٹ کاکچھ حصہ نچلی سطح پربھی تقسیم ہونے لگا،یعنی پہلے اگرکسی گاوں یا محلے میں اوپرکی سطح سے بچے ہوے بجٹ سے کوئی گلی یا سڑک بن سکتی تھی اب نچلی سطح سے بچے ہوے بجٹ سے صرف نالی وغیرہ ہی بن سکتی ہے۔لیکن عوام کو ان بااختیار لوگوں کے اختیار کو قائم رکھنے کے لیے ٹیکس دینا لازم ہے۔لہذانظام یونٹ بڑھانے سے یا ادارے بڑھانے سے بہترنہیں ہوتا بلکہ نظام اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے سے بہتر ہوتا ہے،عوام صرف الیکشن لڑکرجیت جانے والے لوگ یاسرکاری ملازم ہی نہیں ہوتے،بلکہ عوام وہ لوگ ہیں جواپنے خون پسینے سے اس ملک کوچلارہے ہیں،اورووٹ سے ان حکومتوں کو بناتے ہیں،توکیاوہ ان لوگوں کواس لیے بناتے ہیں کہ یہ لوگ بھی عالمی استعمار کے ماتحت ہوکرسرمایہ کاروں اورسرکاری اہل کاروں کی غازہ گری میں لگ جائیں۔عوام کو کسی یونٹ یا صوبے کے بننے سے کوئی فائدہ نہیں،بلکہ ان کے سرپربوجھ بڑھ جائے گا،اس کا فائدہ چندسیاسی خاندانوں،سرمایہ داروں،اوران سیاسی کارکنوں کوہوگا،جوان یونٹوں میں سرکاری ملازمتیں اورسیاسی فائدے اٹھائیں گے۔عوام کے لیے فائدہ اس میں ہے کہ مہنگائی،بے روزگاری اورناانصافی سے ان کونجات دلائی جائے،لہذاحکومت وسیاسست قوم کے جذباتی پن سے فائدہ اٹھانے کے بجائے،غریب عوام کے لیے مہنگائی،بے روزگاری اورناانصافی ختم کرکے ان کے لیے آسانیاں پیداکریں،سرکاری اہل کاروں کوعوام کی تذلیل سے روکا جائے،کسی سرکاری عہدے داراورکسی مزدورمیں انسانی عزت برابر ہونی چاہیے، انصاف اسلامی اصولوں کے تحت ہونا چاہیے،کسی سیاسی یا عالمی اصول کے تحت نہیں۔اسلامی خلافت اس کاایک نمایاں نقشہ موجود ہے،تین برِ اعظموں پرپھیلی ہوئی حکومت نے کوئی صوبے نہیں بنائے،کوئی انتظامی یونٹ نہیں بنائے،لیکن ایک ننگے پاوں بدواورایک خلیفہ وقت میں امتیازنہیں کیا جاتا تھا،کسی حکومتی اہل کار کوکسی عام آدمی پرکوئی فضیلت نہ تھی،حضرتِ خالد بن ولید جوجرنیلِ لشکرتھے،ان کوجب منکرینِ زکواۃ کے خلاف جنگ کے لیے بھیجاگیاوہاں انہوں نے ایک صحابی کوقتل کردیاجس کے خلاف صحابہ نے اعتراض کیا توآپ کوواپس بلایا گیا اور آپ سے باقاعدہ تفتیش کی گئی جس پر آپ نے تسلیم کرلیا کہ یہ ان سے اجتہادی غلطی ہوئی ہے جس پر دربارِ خلافت سے آپ کو بری کردیا گیا، لیکن جوابدہی سے پہلے یہ نہیں کہاکہ اسلامی فتوحات کاایک روشن ستارہ جنرل ہے اس نے جوکیا وہ اس کوحق حاصل ہے۔لہذاعوام کوتقسیم درتقسیم کے بجائے،مساوات وانصاف سے مطمئن کریں۔ورنہ یہ وہی بات ہوگی کہ کسی بادشاہ کے ظلم پر خاموش رہنے والی عوام کو چڑانے کے لیے بادشاہ نے عوام کے کام پرجانے والے راستے میں پڑنے والے پل پراختیار نچلی سطح پرمنتقل کرکے کہا کہ جوگزرے اسے دوجوتے مارو،اب وہ پاکستانی قسم کے لوگ اختیار کونچلی سطح پردیکھ کرخوشی سے جوتے کھاتے رہے،لیکن نچلی سطح پراختیار والے تھوڑے تھے اورعوام زیادہ اب عوام کوجوتے کھانے کی باری میں دیرکی وجہ سے کام پردیر ہونے لگی توعوام نے بادشاہ کے محل کے سامنے احتجاج کیا بادشاہ نے پوچھاکہ تمہاراکیا مطالبہ ہے،توانہوں نے یک زبان ہوکرکہاعالی جاہ یہ نچلی سطح پراختیار والے تھوڑے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں کام پرجاتے دیرہوجاتی ہے،لہذا مہربانی فرما کر ان میں اضافہ فرمایا جائے کہ ہمیں کام پرجاتے دیر نہ ہو۔لہذاحکمرانوں سے اپیل ہے،اختیار کونچلی سطح پرنہ لائیں،بلکہ اختیار والوں کونچلی سطح پرلائیں،کہ انہیں بھی معلوم ہوکہ نچلی سطح پر رہنے والوں کاکیا حال ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ پاکستان کواندرونی وبیرونی سازشوں سے محفوظ فرمائے آمین،وماعلی الاالبلاغ۔
صوبائی تعصب اورنئے صوبے
