سرمایہ دارانہ نظام کے محافظ

عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام جواس وقت دنیا کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے،اوردنیا میں جمہوریت اسی نظام کے سائے میں چل رہی ہے،کسی بھی ملک کے عوام کو یہ دھوکہ دینا کہ جمہوریت ایک عوامی نظامِ حکومت ہے جو عوام سے عوام پر عوام کوحکمران بناتا ہے،بنا بریں تمام جمہوری ممالک کے لوگ زیادہ سے زیادہ پانچ سال کے لیے اپنے حکمران چنتے ہیں،جوشاید اس کے بعدچناومیں منتخب نہیں ہوپاتے،لہذاہر چناو کے دوران بے دریغ سرمایہ کاری کی جاتی ہے،جس سے چناوجیتا جاسکتا ہے،اورپھریونیورسل قانون کے تحت پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے،اورجیسا کہ اصول ہے کہ ہرسرمایہ کاری نفع کے لیے جاتی ہے،لہذایہ چناو کی سرمایہ کاری بھی منافع بخش ہی ہونی چاہیے،تواس کا منافع حاصل کرنے کا طریقہ بھی سرمایہ داروں نے ہی بنایا ہوا ہے،وہ اس طرح کہ اپنے مفاد کے لیے ملکی مفاد کے نام پر مالیاتی قوانین بنائے جاتے ہیں جن کے ذریعے سرمایہ کاروں کومفاد پہنچایا جاتا ہے،سونے چاندی اورشئیرز اورتیل اورگیس کی قیمتیں بڑھانا گھٹانا،یہ ان سرمایا کا جوالگانے والوں کے لیے ہوتا ہے جنہوں نے چناوکے دوران ان گھوڑوں پرجوا لگایا ہوتا ہے،ملکی ترقیاتی کاموں کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لیے جاتے ہیں،جن میں imfاورورلڈبینک وغیرہ ہیں،اورپھران اداروں کی شرائط پرملک کے اندرزندگی کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں طے کی جاتی ہیں،عوام پرٹیکس لگائے جاتے ہیں،ظاہرمیں یہ چیزیں کسی ملک کی بہتری کی خاطر کی جاتی ہیں،لیکن دراصل یہ کام اس ملک کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی زندگی بچانے کے لیے ہوتا ہے۔ جمہورہیت کے ہوتے ہرننھے پھنے کا دل چاہتا ہے کہ وہ بھی حکمرانی کی پینگ کا جھونٹالے،اورپھراس بے مہارجمہوریت”جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولانہیں کرتے“،بندوں کی گنتی پوری کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ڈنڈے سوٹے سے، مال سے،اختیار سے بندوں کو مجبورکرکے اپنی گنتی پوری کرلی جاتی ہے۔اورپھر ایسے بے مہار شترجب قوم کے باغ پر مسلط ہوجاتے ہیں توپھر باغ کے پھل کیا پتے بھی نہیں رہتے،توعوام کوبتایا جاتا ہے عالمی طورپرموسم بدل رہا ہے اس لیے بارشیں نہیں ہورہیں تویہ باغ اس لیے ویران ہورہے ہیں،توعوام بے چارے اللہ سے روروکرفریاد کرتے ہیں،تو بارشیں ہونے لگتی ہیں،اب بارشیں کیا ہوئیں باغ توباغ گاوں بھی صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں،سرمایہ دا روں کی نظریں اب اس پرہوتی ہیں کہ اب بیرونی دنیاسے پرامداد ملے گی تواس سے لوگوں کی مدد کریں گے،اورپھر حکومت بھی اور سارے سرمایہ دارعوام کے لیے لنگر خانے کھولتے ہیں،اورخودامدادی رقوم سے اپنے پلازے اورکمپلیکس کھڑے کرتے ہیں،اورعوام بے چارے اسی طرح چیونٹیوں کی طرح زمین میں بلیں بنا کر رہنے پر مجبور ہوتے ہیں،کھیتوں میں سارادن کام کرتے ہیں،بھٹوں پراینٹیں ڈھوتے ہیں،گلیوں میں جھاڑودیتے ہیں،اورشام کوسرمایہ دار سے مزدوری لے کرجب بچوں کے کھانے کے لیے کچھ خریدتے ہیں،توسیل ٹیکس دینے کے بعدان کے کھانا پیناحلال ہوتا ہے،کیوں؟ سیل ٹیکس کا مطلب ہوتا ہے بیچنے والے پر ٹیکس،اس سرمایہ داری نظام نے اسے خریدنے والے پرلگادیا ہے،خریدنے والا چیزکی قیمت بھی دے رہا ہے،اور اپنی قیمت کا ٹیکس بھی دے رہا ہے،کبھی اس جمہوری نظام کے کسی نمائندے نے اس بات پر غور فرمایا ہولیکن کون غورفرمائے،یہاں توالیکشن کی سرمایہ کاری کی ہی اسی لیے جاتی ہے،کہ اس سے منافع حاصل کیا جائے،اور منافع عالمی سرمایہ کاروں کی اشیربادسے ہی حاصل ہوسکتا ہے،اوران کی آشیرباد تب ہی ملتی ہے جب ان کے کہنے پرسرِ تسلیم خم رکھا جائے،آج کامسلمان اللہ اوررسولﷺ کے احکامات کونظرانداز کرسکتا ہے لیکن انگریزوں اور یہودیوں کے احکامات میں سرموبھی فرق نہیں کرسکتا، عالمی احکامات کے تحت جوکچھ بھی کہاجائے،اس کے بھلایابراہونے کاسوچنابھی ان زرپرستوں کے لیے موت ہوتاہے۔1960 کی دہائی میں دنیاکوقرض دینے والا ملک2022 میں کشکول لیے ہرجگہ پھرااسے کوئی ْمہنگے سودپربھی قرض نہیں دے رہاتھا،کیوں؟اس لیے کہ یہ قوم سرمایہ داری کاتحفظ کرتے کرتے اس مقام پرپہنچ گئی،کہ اب برادارن یوسف کی طرح اپنی گھٹیا پونجی پرخیرات مانگنے کے قابل بھی نہیں رہی،کیوں آگے سود خورہیں کوئی یوسف نہیں،کہ گھٹیا پونجی بھی واپس کردے اورخیرات بھی دے دے۔لہذاملک اورقوم کوبیچنے کے بجائے،اس کا بھلا اسی میں ہے کہ ملک کے اندر سرمایہ داری نظام کوتحفظ دینے کے بجائے،مزدور،کاشتکار،گھریلوصنعت کاراورعام کاروباری کوتحفظ دیں، ملکی اشیاء کوعالمی اشیاء پر ترجیح دی جائے،سب سے پہلے شعبہ صحت اورتعلیم کوقومی طریقہ علاج،اورقومی نصاب تعلیم پرلایا جائے،سرکاری زبان اردوکی جائے،تعلیم اردومیں دی جائے،کہ ستر سالوں سے انگلش تعلیم نے قوم کو صرف انگریزوں کے کلرک،سیل مین اورخدمت گاربنانے کے علاوہ اورکیا دیا ہے،انگریزشعبہ صحت کے تمام تجربات ان لوگوں کے ذریعے اس لاوارث قوم پرکررہے ہیں،اورتجربات بھی مفت میں نہیں اس قوم سے اربوں روپے لے کرکررہے ہیں،اورہمارے ڈاکٹرجو پیٹ کی خاطراس قوم کا خون پسینہ ہی نہیں ان کے گردے،جگراورآنکھیں وغیرہ بھی نکال کربیچ رہے ہیں،اورپھراس دجالی دنیا کے یہ پیروکار اس کوقوم کے لیے سائینٹفک علاج کہہ کران پراحسان جتلارہے ہیں،اوران کو تحفظ وہ عالمی ساہوکاردے رہے ہیں،جوانسانوں کے خون سے اپنے غازے کررہے ہیں،کسی نے کیا خوب کہاہے،”اک میرے لہوکی سرخی سے رنگینی بڑھائی ہاتھوں کی،جس روزشہرمیں قتل ہواتوعید منائی لوگوں نے“۔ایٹمی طاقت ہونے سے تحفظ تومل گیا،لیکن اس طاقت کا کیا فائدہ جومسلز دکھانے تک ہی محدود ہو، ملک کے اندر کرچی کرچی ہوے عوام کچھ بھوک سے مررہے ہیں،کچھ لوٹ سے،کچھ آگ سے کھیل رہے ہیں کچھ آگ میں جل رہے ہیں،دن بہ دن بھوک اورخوف بڑھ رہے ہیں،سکون واطمینان کہیں بھی نہیں، ہمارے ایک وزیرِ اعظم نے کہا تھا سکون توقبرمیں ہی ہے،توہماری اشرافیہ نے اسے عظیم قول کوقوم پرآزمانا شروع کردیا ہوا ہے۔لیکن قوم کے غرباء میں اتنی طاقت بھی نہیں رہی کہ وہ قبریں ہی کھودلیں، پیٹ پر پتھر باندھ کر ایک بارلوگوں نے خندق توکھودلی تھی،لیکن اس وقت قوم کے لیڈرکے پیٹ پردوپتھرباندھے ہوے تھے،لیکن آج کے لیڈر بیڈ ٹی بھی نہیں چھوڑ سکتے،اس لیے یہ اس قوم کو کھارہے ہیں،لہذا قوم سے اپیل ہے کہ اس نظام ِاستبدادی سے جان چھڑائیں،کہ علامہ اقبال نے کہاہے”ہے وہی سازِ کہن مغرب کاجمہوری نظام،جس کے پردوں میں نہیں غیرازنوائے قیصری،دیوِ استبداد جمہوری قبامیں پائے کوب، تو سمجھتاہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری“لہذاتمام امتِ اسلامیہ پاکستان نظامِ اسلامی کے لیے یک زبان ہوجائیں اگردنیا میں باقی رہنا ہے تو،ورنہ پھرپچھتائے کیاہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔اللہ تعالیٰ پاکستان کواپنے حفظ و امان میں رکھے آمین وماعلی الا البلاغ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *