ترتیب، نظام الدیں
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری یکم ستمبر کو ویانا سے لندن پہنچے اور ،2 ستمبر کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے لندن میں صدر آصف علی زرداری سے تقریباً ایک گھنٹے ون آن ون ملاقات کی۔ محسن نقوی صدر کے لیے ایک اہم پیغام لے کر گئے تھے۔ ،5 ستمبر کو صدر زرداری اور بلاول کی طویل ملاقات سامنے آئیں۔ اس ملاقات میں بختاور بھٹو زرداری بھی موجود تھیں اور رپورٹس کے مطابق سندھ کی تقسیم اور نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے مؤقف کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی لندن میں موجود تھے۔ بعض رپورٹس میں صدر زرداری سے ان کی ملاقات اور آئینی معاملات، حتیٰ کہ 18ویں ترمیم سے متعلق مبینہ مسودے پر مشاورت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایک ہی وقت میں صدرِ پاکستان، وزیر داخلہ، وزیر قانون اور پیپلزپارٹی کےچیئرمین کی موجودگی محض اتفاق بھی ہو سکتی ہے لیکن پھر، 5 ستمبر کو خبریں سامنے آئیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز تین روزہ نجی دورے پر لندن پہنچ رہی ہیں۔ ان کے دورے کی بنیادی وجہ ان کی بیٹی کی گریجویشن تقریب بتائی گئی ،
ایک اہم خفیہ اطلاع یہ بھی گردشِ کرتی نظر سے گزری کہ ایم کیو ایم کے بانی اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کی 6 ستمبر کو ملاقات کرائی گئی؟ اس میں سب اہم سوال یہ ہے کہ آخر یہ ملاقاتیں پاکستان میں کیوں نہیں ہوئیں لندن میں ہی کیوں؟ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر بعض شہر محض دارالحکومت نہیں ہوتے، بلکہ وہ طاقت کے کھیل کی مرکزی شاہراہ بن جاتے ہیں۔ لندن بلا شبہ ایک ایسا ہی شہر ہے جسے دہائیوں سے دنیا بھر کے مفرور سیاست دانوں، مالیاتی مجرموں اور جلاوطن رہنماؤں کی ’پسندیدہ پناہ گاہ‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ پاکستان کے مختلف سیاسی ادوار کے رہنما ہوں، بھارت کے اربوں ڈالرز لے کر بھاگنے والے صنعت کار ہوں، یا مشرقِ وسطیٰ و افریقہ کے معزول حکمران، سب کی نظریں کسی بھی بحران کے وقت لندن پر جا کر ہی ٹکتی ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر لندن ہی کیوں؟ اور کیا برطانوی حکومت ان مفروروں کو محض انسانی حقوق اور قانونی اصولوں کی پاسداری کے تحت پناہ دیتی ہے، یا اس کے پیچھے گہرے سفارتی و انٹیلی جنس مفادات کارفرما ہیں؟برطانیہ کا غیر جانبدارانہ قانونی نظام، عدالتی خودمختاری اور انسانی حقوق کے سخت قوانین بظاہر ان افراد کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ برطانوی عدالتیں کسی بھی ملک کی حوالگی کی درخواست کو اس بنیاد پر فوراً مسترد کر دیتی ہیں کہ ملزم کو اس کے آبائی ملک میں سیاسی انتقام، غیر منصفانہ محاکمے یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لیکن حقیقت کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جسے بین الاقوامی تعلقات کی زبان میں “سیاسی اور سفارتی اثر و رسوخ”
کہا جاتا ہے۔برطانوی ادارے،خواہ وہ اندرونی سیکیورٹی کا ادارہ MI5 ہو، بیرونِ ملک کی خبر رکھنے والی MI6 ہو یا سکاٹ لینڈ یارڈ، ان تمام افراد کی نقل و حرکت، سیاسی بیانات اور مالیاتی اثاثوں کا ایک ایک حساب رکھتے ہیں۔ ان اداروں کے پاس ان تمام سیاسی و مالیاتی شخصیات کا مکمل اور خفیہ ریکارڈ
محفوظ ہوتا ہے۔ یہ ریکارڈ محض بکسوں میں بند کاغذات نہیں ہوتے، بلکہ ضرورت کے وقت متعلقہ ممالک کی حکومتوں پر سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔جب لندن میں بیٹھا کوئی رہنما اپنے ملک کی سیکیورٹی یا سیاسی صورت حال پر بیان جاری کرتا ہے، تو یہ محض اس شخص کی ذاتی رائے نہیں ہوتی بلکہ اسے برطانوی سرزمین سے دی جانے والی وہ آزادی حاصل ہوتی ہے جسے برطانوی حکومت جب چاہے محدود بھی کر سکتی ہے اور استعمال بھی۔ دوسری جانب، ان مفرور رہنماؤں کے پاس موجود اندرونی معلومات برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے لیے اپنے اپنے خطوں کی پالیسیاں ترتیب دینے میں بے حد معاون ثابت ہوتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ مغرب اور خصوصاً برطانیہ اس اصول پر کاربند ہیں کہ “آج کا مفرور کل کا حکمران ہو سکتا ہے” اسی لیے وہ ہر ممکنہ طاقتور دھڑے سے اپنے روابط قائم رکھتے ہیں۔ اگر کل کو وہی جلاوطن رہنما اپنے ملک کا دوبارہ حکمران بن جائے، تو برطانیہ کے سفارتی اور معاشی مفادات پہلے سے محفوظ ہو چکے ہوتے ہیں۔ لندن صرف ایک شہر نہیں، بلکہ عالمی سیاست کا وہ ڈرائنگ روم ہے جہاں شطرنج کے مہرے بدلے جاتے ہیں، کھیل کا رخ موڑا جاتا ہے اور مفروروں کا وجود برطانوی مفادات کے لیے ایک قیمتی ہتھیار کے طور پر ہمیشہ محفوظ رکھا جاتا ہے۔
