​فائدہ میرا، دستخط تمہارے!

​ترتیب ۔نظام الدین

​سندھ اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران ایک متنازع نام کی آڑ لے کر بجٹ کی تمام خامیوں کو پسِ منظر میں دھکیل دیا اور بڑی چابکدستی سے بجٹ کا رخ تبدیل کردیا گیا،اس صورتحال پر راقم نے ایک تنقیدی کالم لکھا، جس پر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے میرے کچھ دوست ناراض ہو گئے۔ میں نے انہیں پیار سے سمجھایا کہ یہ “تنقید برائے اصلاح” ہے؛ چونکہ اس وقت صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اس لیے سوال بھی انہی سے کیا جائے گا۔ اب یہ سیاسی کارکنوں کا کمال ہونا چاہیے کہ وہ اس تنقید کا جواب دلیل اور منطق سے دیں، کیونکہ یہی جمہوریت کا اصل حسن ہے۔
​ان دوستوں کی رہنمائی اور یاددہانی کے لیے اس کالم میں پیپلز پارٹی کے ادوارِ حکومت کے چند ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈال رہا ہوں جہاں سرکاری افسران نے چند معمولی ذاتی فوائد یا سیاسی دباؤ کے تحت کروڑوں روپے کی فائلوں پر بنا سوچے سمجھے دستخط کر دیے۔ مگر جب قانون کا گھیرا تنگ ہوا، تو نوبت خودکشی تک جا پہنچی۔
​اس داستان کا آغاز ایک بیوروکریٹ شاہ منصور عالم سے کرتے ہیں، جن سے پہلی ملاقات میرے دوست معراج نے کرائی تھی۔ میں ان کی روحانی اور درویشانہ شخصیت سے اس قدر متاثر ہوا کہ ان کا عقیدت مند بن گیا۔ مگر جب وہ سیکٹریری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ تھے، تو اس دور کے کچھ کیسز میں احتساب عدالت نے انہیں اور پیپلز پارٹی کے ایک صوبائی وزیر کو پانچ پانچ سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی۔ یہ خبر سن کر میرا وہ روحانی عقیدہ زمین بوس ہو گیا۔ بعد ازاں، اعلیٰ عدالتوں سے تکنیکی بنیادوں پر بریت کے بعد انہیں سرکاری ملازمت پر بحال کر دیا گیا اور ریٹائرمنٹ کے بعد مئی 2008ء میں حکومتِ سندھ نے انہیں سندھ پبلک سروس کمیشن کا ممبر بھی مقرر کیا۔ ​ایک ملاقات کے دوران شاید وہ میرے رویے کی سردمہر عکاسی کو بھانپ گئے، تب انہوں نے مجھے بتایا ​”نظام میاں! جب میں جیل میں تھا تو شدید مایوسی کے عالم میں خودکشی کا فیصلہ کر لیا تھا، مگر کچھ ہمدردوں کے مشورے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، جہاں سے بالاخر مجھے انصاف ملا۔” ​اس موقع پر میں نے ان سے ایک تلخ سوال کیا “کیا عدالتیں بغیر کسی ثبوت کے سزا دیتی ہیں؟” وہ چند لمحے خاموش رہے اور پھر اعتراف کیا “غلطی ضرور ہوتی ہے اور میں اس کا اقرار کرتا ہوں، ​میرا دوسرا سوال تھا “یہ غلطی آخر ہوتی کیسے ہے؟”وہ بولے
​”سرکاری محکموں میں سیاسی وزراء کا اثر و رسوخ اور دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ وہاں براہِ راست مالی فوائد یا مخصوص افراد کو نوازنے کے مواقع ہوتے ہیں۔ دراصل، اس پورے المیے کی بنیاد ‘آرڈر آف دی ہائر اتھارٹی’ یعنی اعلیٰ حکام کا حکم،
یہ وہ جال ہے جس میں افسران کو پھنسایا جاتا ہے۔ عدالتیں جب کسی افسر کو سزا سناتی ہیں تو ان کے پاس مضبوط دستاویزی شواہد ہوتے ہیں، کیونکہ فائل پر آخری دستخط اسی بیوروکریٹ کے ہوتے ہیں۔ صرف میں ہی نہیں، کئی دیگر افسران نے بھی جیل کاٹنے کے بعد اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ سیاسی قیادت خود کو قانون کی گرفت سے بچانے اور بیوروکریسی کو قربانی کا بکرا بنانے کے لیے چند مخصوص حربے استعمال کرتی ہے۔”
​وزراء عام طور پر غیر قانونی کاموں کے لیے تحریری حکم جاری نہیں کرتے۔ وہ افسر کو تنہائی میں بلا کر زبانی کہتے ہیں “یہ کام وزیرِ اعلیٰ ہاؤس یا ‘صاحب’ کی خواہش ہے، یہ فائل کل تک ہر حال میں کلیئر ہونی چاہیے۔” اگر افسر انکار کرے، تو اسے کسی دور دراز ضلع میں پھینک دیا جاتا ہے، اس کی ترقی روک دی جاتی ہے، یا پھر الزامات لگا کر معاملہ اینٹی کرپشن کے حوالے کر دیا جاتا ہے جہاں وہ افسر سالوں جوتیاں رگڑتا رہتا ہے۔
​بیوروکریسی کا سب سے بڑا ہتھیار اور سب سے بڑی کمزوری “نوٹ شیٹ” ہوتی ہے۔ وزراء فائل پر ایسے مبہم اور مصلحت پسندانہ الفاظ لکھواتے ہیں جس سے بظاہر یہ لگے کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہو رہا ہے۔ مثلاً: “قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے مفادِ عامہ میں اس کی منظوری دی جائے”۔
​اب جیسے ہی فائل پر سیکریٹری یا ڈائریکٹر دستخط کرتا ہے، قانون کی نظر میں وہ اس فیصلے کا تنہا ذمہ دار بن جاتا ہے۔ وزیر کو جب اس کیس کے حوالے سے عدالت میں طلب کیا جاتا ہے تو وہ صاف مکر جاتا ہے کہ: “میں تو پبلک کا نمائندہ ہوں، مجھے ٹیکنیکل قوانین کا کیا علم؟ یہ تو بیوروکریٹ نے مجھے بریف کیا تھا!”
​اسی طرح ہر بڑے محکمے میں وزراء اپنے چند وفادار جونیئر افسران (گریڈ 16 یا 17) کو کلیدی اور بااختیار سیٹوں پر بٹھا دیتے ہیں، جو براہِ راست وزیر کے ‘فرنٹ مین’ کا کام کرتے ہیں۔ سینئر افسر، سیکریٹری یا ڈی جی صرف ایک ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ جاتا ہے، کیونکہ فائل نیچے سے اس طرح قانونی طور پر تیار ہو کر آتی ہے کہ اسے روکنا انتظامی طور پر ناممکن بنا دیا جاتا ہے۔ جس وزیر یا پارٹی کے کہنے پر افسر نے اپنی عاقبت داؤ پر لگائی ہوتی ہے، گرفتاری کے بعد وہ وزیر اس کا فون اٹھانا بھی بند کر دیتا ہے۔ وہ افسر خود کو بالکل تنہا، بے بس اور استعمال شدہ محسوس کرتا ہے۔ یہی وہ ذہنی نہج ہے جہاں پہنچ کر انسان اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کا سوچتا ہے۔
​ماضی پر نظر دوڑائیں تو بینظیر بھٹو شہید کے دوسرے دورِ حکومت (1993ء تا 1996ء) کے کیسز جب عدالتوں اور احتساب بیورو میں کھلے، تو کئی سرکاری افسران اس ذہنی دباؤ کو برداشت نہ کر سکے اور خودکشی کر لی۔ مثلاً “​سید علی مرتضیٰ زیدی ڈائریکٹر، کے ڈی اے جب نیب نے کراچی میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور ‘چائنا کٹنگ’ کی انکوائریاں شروع کیں، تو انہوں نے شدید ذہنی دباؤ میں آکر سوک سینٹر بلڈنگ کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔
​عبدالعزیز قریشی ان کا تعلق بھی سندھ حکومت کے ترقیاتی شعبے سے تھا اور وہ کے ڈی اے کے مختلف منصوبوں میں شامل رہے تھے۔ ان پر بھی پیپلز پارٹی کے گذشتہ دورِ حکومت کے منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے تحت نیب کا شدید دباؤ تھا۔ انہوں نے بھی سید علی مرتضیٰ زیدی کی طرح سوک سینٹر کی بالائی منزل سے کود کر اپنی جان دے دی۔
​راؤ الطاف علی چیف انجینئر، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ان پر واٹر بورڈ کے کروڑوں روپے کے ٹھیکوں میں سیاسی رہنماؤں کے ایما پر مبینہ کرپشن کا الزام تھا۔ نیب نے ان کے خلاف نہ صرف انکوائری شروع کی بلکہ انہیں حراست میں لے کر اپنے سیل میں رکھا۔ تفتیش کے دوران شدید ذہنی دباؤ، جسمانی و نفسیاتی تذلیل اور “پلی بارگین” کے ذریعے رقم کی واپسی کے لیے ڈالے جانے والے دباؤ کو وہ برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے نیب کی زیرِ حراست ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
​اس طرح کی بے شمار مثالیں حکمرانوں کی بے حسی اور بیوروکریسی کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں بھی بڑے مالیاتی اسکینڈلز سامنے آ رہے ہیں، لیکن سزا اور ذمہ داری کا پورا بوجھ صرف سرکاری افسران پر ڈالا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی قیادت ہمیشہ کی طرح خود کو معصوم اور بے قصور بنا کر پیش کر رہی ہے۔
​اس کی تازہ ترین مثال سندھ حکومت کے تحت چلنے والے کراچی “بلو لائن” منصوبے کی ہے، جہاں ساڑھے 8 ارب روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا ملبہ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی اور سابق ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جھمن داس پر ڈالا جا رہا ہے۔ اسی طرح بلدیاتی نظام کے تحت چیئرمینوں، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے منحرف چیئرمینوں سے ترقیاتی فنڈز کی فائلوں پر دستخط کرائے جا رہے ہیں، جبکہ وہ رقم زمین پر اور عوامی فلاح پر خرچ ہی نہیں ہو رہی۔ جب یہ لوگ اقتدار سے محروم ہو کر قانون کی گرفت میں آئیں گے، تو بالکل اسی طرح تنہا کھڑے ہوں گے جیسے ماضی کے افسران کھڑے تھے۔ ​کیا ہمارے آج کے مقتدر حلقے اور افسران ماضی کے ان عبرت ناک واقعات سے کوئی سبق سیکھیں گے؟ یا پھر تاریخ خود کو دہراتی رہے گی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *