تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری
بلاشبہ سیدنا حضرت حسن اور سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہما کا مقام نہایت بلند و بالا اور ممتاز ہے۔ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے، جنتی نوجوانوں کے سردار اور اہل بیت کے روشن چراغ ہیں۔ ان کی حیات مبارکہ امت مسلمہ کے لیے ہدایت، تقویٰ اور حسن اخلاق کا عظیم نمونہ ہے۔
سیدنا حضرت حسن اور سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو بچپن ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی شفقت، محبت اور تربیت حاصل رہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف ان سے بے حد محبت فرماٸی بلکہ امت کو بھی ان کی قدر و منزلت سے آگاہ فرمایا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما اور ان دونوں سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور موقع پر فرمایا: حسن اور حسین میرے دنیا کے دو پھول ہیں۔ اس ارشاد مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے نواسوں سے محبت اور قلبی تعلق نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
ان دونوں خوش نصیب ہستیوں کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اہل بیت میں خاص مقام عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے نام خود تجویز فرمائے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی زندگی کا آغاز بھی نبوی توجہ اور تربیت کے سایہ میں ہوا۔
صحیح احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ یہ ایک ایسی فضیلت ہے جو ان کے بلند مرتبہ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت کو واضح کرتی ہے۔
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا تو فرمایا: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما۔ اسی طرح سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے ساتھ لپٹاتے، بوسہ دیتے اور ان پر شفقت فرماتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا اور فرمایا: جس نے حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے حسین سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی منقول ہے: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔یہ حدیث ان کے عظیم مقام اور مرتبہ کو نمایاں کرتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ نماز ادا فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آپ کی پشت مبارک پر سوار ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ طویل فرما دیا تاکہ میرا نواسہ اچھی طرح کھیل لے اور اپنی خوشی پوری کر لے۔ اس واقعے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور اپنے نواسوں سے بے مثال محبت کا اظہار ہوتا ہے۔
سیدنا حضرت حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسے تھے بلکہ عبادت، تقویٰ، سخاوت اور حسن اخلاق میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے نانا جان کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنایا اور امت کے لیے بہترین نمونہ بنے۔ ان کی زندگیاں صبر و استقامت، بردباری اور رضائے الٰہی کے حصول کی روشن مثالیں ہیں۔
یہ بات بھی ہم سب کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ سیدنا حضرت حسن اور سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہما سے محبت ایمان کا تقاضا اور ہر مسلمان کے عقیدے کا اہم حصہ ہے، لیکن یہ محبت ہمیشہ قرآن و سنت کی حدود کے اندر ہی رہنی چاہیے۔ محبت کی آڑ میں غلو، مبالغہ آراٸی یا ایسے عقائد و اعمال اختیار کرنا درست نہیں جن کی بنیاد شریعت اسلام میں موجود نہ ہو۔ اسی طرح محبت کے نام پر ایسے غیر ضروری کاموں اور رسومات سے بھی اجتناب کرنا چاہیے جن کا نہ اہلِ بیت اطہار سے کوئی ثبوت ملتا ہو اور نہ ہی انھوں نے حکم دیا ہو اور نہ ہی نواسگان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے کوئی تعلق ہو۔ حقیقی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ان کے فضائل کا اعتراف کریں، ان کا احترام کریں، ان سے محبت رکھیں اور ان کے تقویٰ، عبادت، صبر، اخلاق اور اتباعِ سنت کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی کوشش کریں۔ یہی وہ معتدل اور درست راستہ ہے جو محبت کو عمل اور عقیدت کو اطاعت میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے سچی محبت نصیب فرمائے، ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے پاکیزہ اوصاف کو اپنی زندگیوں میں اختیار کرنے کی سعادت بخشے۔ آمین یارب العالمین
جنتی نوجوانوں کے سردار
