ظاہرمیں تویہ بات قرینِ انصاف نظرنہیں آتی،لیکن پتانہیں کس مصلحت کے تحت یہ قانونِ قدرت اس عالم گیتی میں جاری دیکھا جاتا ہے۔اگرماں باپ نیک ورحم دل ہوں توان کی اولاد چاہے کیسی بھی بد قماش ہو،لوگ ان سے نرم دلی اورشفقت کا ہی سلوک کرتے ہیں،اوراگرماں باپ سے کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا ظلم ہوجائے تولازماًان کی اولادپراسی طرح کا ظلم وزیادتی بلاجوازبھی ہوجاتی ہے،اکثر بیٹیوں کے ساتھ ماں باپ کی زیادتیاں پیش آتی ہیں۔بلکہ پاکستان کے بعض علاقوں میں جہاں قتل کے بدلے میں بیٹی دے دی جاتی ہے،جسے وہ ”ونی“ کہتے ہیں،(گوکہ اس کے خلاف پاکستان کے آئین میں سخت سزائیں ہیں) اورپھروہ مظلوم کس قدرظلم وجبرسہتی ہوگی یہ تو اسے ہی پتاہوتاہوگا،حالانکہ چاہیے تویہ تھاکہ اس رشتہ کوصلہ رحمی بنایاجاتا،لیکن ظالم سماج نے اسے ایک قاتل کوبچانے کے لیے ایک قیدی دے دی،نہ وہ ماں باپ سے مل سکتی ہے ناوہ ان سے اپنا کچھ دکھ سکھ بیان کرسکتی ہے،شاہ حسین نے شاید اسی دکھ کوبیان کرتے ہوے یہ کافی کہی تھی،”مائے نی میں کنوں آکھاں دردوچھوڑے داحال نی،درداں دی روٹی سولاں داسالن آہیں دابالن بال نی،“اسی طرح پختونوں میں کچھ لوگ جواپنی بیٹیوں کوبیچ دیتے ہیں،یا بدلے میں بیٹی کی شادی کرتے ہیں،جوشاید کبھی کبھارہی ماں باپ کے پاس واپس آتی ہے،یاماں باپ اس کی خبرلینے جاتے ہیں۔ میں چھوٹاتھا،منگلا ڈیم مکمل ہوا،پانی چڑھانے سے پہلے انخلاء کے دوران لوگوں نے اپنے درخت بیچ دئیے جواس وقت بھی پختون لوگ ہی خرید کرکاٹتے اورلکڑی بیچتے تھے،ہم نے دیکھا ایک جگہ انہوں نے درخت کاٹااس کی لکڑیاں بنائیں جوسروں پراٹھاکران کی عورتیں لے جارہیں تھیں،ایک نئی نویلی دلہن جوبالکل معصوم سی لگتی تھی،اس کے سرپروہ بھاری لکڑیوں کاٹوکرااٹھواتے اوروہ بے چاری کانپتی ہوئی ٹانگوں اورآنسووں کی جھڑی لگائے چلتی تھی،ہم نے اپنے گھروالوں سے جاکربتایا،کچھ ذرابڑے بزرگ گئے توانہوں نے ان سے کہاکہ یہ کیا ظلم کررہے ہوتووہ بولے،تم ہمارازنان کے بارے میں بات مت کرو، تو لوگوں نے غصے سے کہا اوے یہ کوئی سرحد(خیبرپختونخواہٌ)نہیں یہاں زنان کی بہت عزت ہوتی ہے،لہذاتم اس بچی سے اتنابوجھ نہ اٹھواوخداکاخوف کرو، تووہ بولے،ہم نے اس کے بدلے میں جوبہن دیا ہے اس سے بھی وہ لوگ اسی طرح کام کرواتے ہیں،البتہ لوگوں کا غصہ دیکھ کرانہوں نے اس وقت تواسے چھٹی دے دی بعد میں پتا نہیں کیا ہواہوگا۔البتہ یہ صلہ رحمی کی زنجیرجس کو اللہ کے رسول ﷺ نے رحمت سے تشبیہ دی ہے،اس کی زندگی ازل سے ہی دکھ کی ایک داستان ہے،بیٹی پیداکہاں ہوتی ہے،اورپلتی بڑھتی کن کے ساتھ ہے،اور پھرجیتے جی ہی اسے اس گھرسے دیس نکالا لینا پڑتا ہے،کہ پھروہ اسی گھرمیں اک اجنبی بن جاتی ہے،انڈین فلم کاایک گانادیکھا ایک نازونعمت سے پالی کی جس دن بارات آتی ہے،توبچھڑنے والی یہ گانا گاتی ہے،”یہ گلیاں یہ چوبارہ یہاں آنا نہیں دوبارہ کہ تیرا یہاں کوئی نہیں“ توبڑی دیرتک آنکھیں بھیگی رہیں۔کیا یہی دکھ کافی ناتھا کہ قدرت نے ماں باپ کے کیے کی سزابھی ان بے چاریوں کے سرمنڈھ دی۔ اکثر مائیں اپنی بہووں کے ساتھ وہ پٹھانوں والا سلوک کرتی ہیں،اورپھر جب ان کی بیٹی بیاہ کرجاتی ہے توشاید کوئی لاکھوں میں ایک ہوجوسکھ سے جیون گزارے ورنہ اکثراس کے سسرال بھی اسے اپنے گھرکی مالکن نہیں کام کرنے والی ماسی ہی سمجھتے ہیں،اوروہ بے چاری پھرچوری چوری دکھ روتی ہے اورظاہرخوش بنی رہتی ہے بقول کسے ”دنیاچاری ہسداہاں میں دل چوری چوری رووے“ اگرکبھی اپنے ماں باپ کاسامناہوجائے توبقول کسے”ستم گرسے توستم کی شکایت نہ ہم کرسکے ہیں نہ ہم کرسکیں گے،میرے آنسووتم میراساتھ دینا انہیں کچھ بتانے کی کوشش نہ کرنا“اس طرح سے خودکوسنبھال لیتی ہیں۔ اورپھرعورت ہی نہیں شاید ہر مظلوم اپنے اوپرہونے والے ظلم کا جوازخود ڈھونڈتا ہے،ایسی مجبورعورتیں اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے اکثریہ کہتی ہیں،کیا کہوں مائے ”کرے مائی تے سودھے جائی“ (یعنی جوماں کرتی ہے اس کواس کی بیٹی بھگتتی ہے)یہ بڑوں کا”اکھان“یعنی کہاوت جو ہے۔یعنی رب کی تقدیر کا شکوہ بھی نہیں،ظالموں سے گلہ بھی نہیں،اپنوں کے کیے کی سزا مان کردل کو بہلالیا جاتا ہے،میرے والد صاحب اللہ انہیں معاف فرمائے سخت طبیعت کے تھے، غصے میں آکرکبھی میری والدہ پر تشدد کر جاتے۔میں ذرابڑاتھا توایک دن میری ماں نے مجھے دل گرفتہ دیکھ کر،روتے ہوے بتایا، بیٹا میرے والد نے تحریک آزادی کشمیرکے دوران جب ہندووں کو میرپورسے نکالاگیا تووہاں سے ایک عورت پکڑلی تھی جس کاایک بچہ جوتین چارسال کا تھا،اسے اپنے گھرمیں لاکر عورت سے نکاح کرلیا اوربچہ ساتھ رکھ لیا،اورمیرے والد کبھی اس بے گناہ بچے پر تشدد کرجاتے تھے،آج مجھے اپنے باپ کے اس کیے کابدلہ مل رہا ہے،لہذاتوپریشان نہ ہو، ”کرے مائی تے سودھے جائی“میں اپنے باپ کے کیے کوبھگت رہی ہوں۔ شاید قدرت ایسا نا ہی کرتی ہو لیکن مظلوم انسان خوداپنے دل کوتسلی دینے کے لیے ایسے جواز ڈھونڈ لیتاہے، مائیں اپنے بچوں کے پیارکوباقی رکھنے کے لیے دکھ برداشت کرتی رہتی ہیں،میں نے دیکھا ایک ماں کوطلاق ہوگئی تھی اوروہ لوگ اس سے بچہ چھیننے کے لیے اس پرتشدد کررہے تھے،لیکن وہ بچہ نہیں دے رہی تھی،آج کل عدالتوں میں بھی بعض جج طلاق لینے والی ماوں سے بچے چھین کروالد کو دے دیتے ہیں،اس لیے بعض مجبورمائیں بچوں کے چھننے کے ڈرسے دکھ برداشت کرتے کرتے زندگی گزاردیتی ہیں،میڈم نورجہاں کاگاناہے ”اک مجبورنے دنیا دے سکھ اپنے پیارتوں وارے نے،اے ہنجوں میں آپ خریدے مینوں جان توں اے پیارے نے“۔ لیکن میرے نزدیک انسان جہاں فرعون وشدادبن جاتا ہے،وہاں ہی انسان عجزمیں اس مقام پرآ جاتا ہے کہ اپنے اوپرہونے والے ستمِ تقدیر کوبھی کسی اپنے گناہ یا اپنے اباواجدادکے گناہ کی سزاسمجھ کراسے برداشت کرتارہتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہرانسان کوبالخصوص بنتِ حواکو جوبفرمان اللہ اوررسولﷺ کے رحمت اورمرجعِ سکون ہے،ہرقسم کی بے سکونی اوردل آزاری سے محفوظ فرمائے آمین وماعلی الاالبلاغ۔
”کرے مائی تے سودھے جائی“
