عظمتِ صحابہ و اہلِ بیتِ عظام

تحریر؛ نعمان احمد دہلوی

اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، اور اس دین کی حفاظت و اشاعت کا سہرا دو عظیم گروہوں کے سر ہے: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیتِ اطہار۔ یہ دونوں جماعتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کی امین ہیں، اور ان کی عظمت قرآن مجید اور صحیح احادیث میں صاف الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ عام مسلمانوں کے لیے یہ موضوع نہ صرف عقیدے کی مضبوطی کا ذریعہ ہے بلکہ ہدایت، محبت اور اتحاد کا راستہ بھی ہے۔ آئیے قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی شان کا جائزہ لیتے ہیں۔
صحابہ کرام وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی، آپ پر ایمان لائے اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ قرآن مجید نے ان کی فضیلت کا کھلا اعلان کیا ہے۔ سورۃ التوبہ آیت ۱۰۰ میں ارشاد ہے:

«وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ»

(مہاجرین و انصار میں سے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور جو لوگ نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرتے رہے، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے)۔
سورۃ الفتح آیت ۲۹ میں فرمایا: محمد رسول اللہ ہے اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ آپ انہیں رکوع و سجود کرتے دیکھیں گے، وہ اللہ کے فضل اور رضا کے طلبگار ہیں۔ یہ آیات صحابہ کی ایمان، قربانی، جہاد اور باہمی محبت کی گواہی دیتی ہیں۔
حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ» (سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں)۔ اور «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِیْ» (میرے صحابہ کو برا نہ کہو)۔ اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ صحابہ کے ایک مد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ صحابہ نے دین کی حفاظت کی، قرآن جمع کیا، حدیثیں روایت کیں اور دنیا بھر میں اسلام پھیلایا۔ ان کی عظمت یہ ہے کہ اللہ نے دنیا ہی میں ان سے راضی ہونے کا اعلان فرما دیا۔
اسی طرح اہلِ بیتِ عظام کی شان بھی قرآن میں نمایاں ہے۔ سورۃ الاحزاب آیت ۳۳ میں آیتِ تطہیر ہے:

«إِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذْهِبَ عَنکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا»

(اللہ چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی ناپاکی دور کر دے اور تمہیں کامل پاکیزگی عطا فرمائے)۔
سورۃ الشوریٰ آیت ۲۳ میں محبت کا حکم ہے: «قُل لَّا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَىٰ» (کہہ دو کہ میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت داروں کی محبت کے)۔ حدیث ثقلین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: کتاب اللہ اور میرے اہلِ بیت۔ ان سے تمسک رکھو تو گمراہ نہیں ہوگے۔
اہلِ بیت میں حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم خاص طور پر شامل ہیں، اور ازواجِ مطہرات بھی اہلِ بیت کی تعریف میں آتی ہیں۔ ان کی پاکیزگی، علم اور قربانی امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
صحابہ اور اہلِ بیت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود فرمایا کہ سب سے بہتر ابو بکر پھر عمر ہیں۔ خلفاء راشدین اور اہلِ بیت کے درمیان محبت و احترام کی مثالیں بے شمار ہیں۔ جو شخص صحابہ سے بغض رکھے وہ نبی سے بغض رکھتا ہے، اور جو اہلِ بیت سے نفرت کرے وہ بھی نبی کی محبت سے محروم ہے۔ دونوں کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔
عوام الناس کے لیے ہدایت یہ ہے کہ ہم ان دونوں گروہوں کی پیروی کریں۔ صحابہ کی طرح صدق، قربانی اور اطاعت سیکھیں، اور اہلِ بیت کی طرح پاکیزگی، صبر اور علم کی راہ اپنائیں۔ فرقہ بندی، گستاخی اور نفرت سے بچیں۔ قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق زندگی گزاریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحابہ و اہلِ بیت کی محبت نصیب فرمائے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور ہمیں ان کی عظمت سمجھنے والوں میں شامل کرے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *