یہ محب وطنی نہیں تو اور کیا ہے؟

تحریر: ظفر اقبال ظفر
پاکستان زندہ باد۔آج یہ نعرہ لگانے والا اسے میسر آزادی کی شہادت میں بولتا ہے مگر کبھی اس دھرتی پہ گزرنے والی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کے منظر 1947کے لوگوں سے سنے ہیں؟سرزمین پاکستان کوزندہ و آباد کرنے والے ہمارے بزرگ قیام پاکستان کی ہجرت کو یاد کرتے ہوئے غمزادہ رُوح سے آنکھوں میں اشک لئے اُس دشوار مرحلے کی داستان سناتے ہیں ایک ایسی ہجرت جوپاکستان بننے والی زمین کو اپنا خون پلا کر آباد کرنے پر مبنی تھی وہ منظر حیرت و حوصلے پر مبنی تھے جب لاکھوں خاندان پاکستان کے نام پر اپنا سب کچھ ایک پوٹلی میں باندھ کر چل دئیے تھے۔آج 79 سال بیت جانے کے بعد بزرگوں کی قربانیاں اور مقصد قیام پاکستان اپنے سامنے رکھتا ہوں تو میرے اندر دوران ہجرت جیسے زخم نمودار ہونے لگتے ہیں۔آزادی تو حاصل کر لی مگر مقصد آزادی حاصل نہ ہو سکا۔آزادی کے نام پر قربانیاں دینے والوں کی نسلوں پرغیر منصفانہ حالات دیکھ کر خون کھولتا ہے تب پاکستان بنانے میں غریبوں کا خون بہا تھاآج پاکستان کو چلانے کے لیے غریبوں کا خون نچھوڑا جا تا ہے۔آج کے حالات میں جیتے ہوئے سوچتا ہوں کہ آزادی پاکستان آخر کیاتھی؟طاقت کے استعمال سے انسانیت پر ظلم کرنے والوں سے آزادی یاقانون کو اپنے مفاد میں استعمال کرکے دوسروں کا حق ہتھیانے والوں سے آزادی؟وسائل پر قابض لوگوں سے آزادی یاایک مذہب پہ دوسرے مذہب کے لوگوں کی حکومت سے آزادی؟ یاہماری قسمت و مستقبل کے غلط فیصلے کرنے والوں سے آزادی؟یا تمام ظالمانہ حالات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پانے کی تحریک کا نام تھا آزادی؟ کہاں ہے وہ آزادی جو قائد اعظم محمد علی جناح علامہ اقبالؒ اور ان کے تمام ساتھیوں کی کاوشوں کا مقصد تھی؟
ہندوستان کی کثیر مذہبی و سیاسی قیادتیں آزادی کو انگریز کی روانگی سے منسلک کرتی تھیں مگر مسلمانوں کے نزدیک آزادی کا مفہوم علامہ اقبال ؒ نے یوں بیان کیا کہ پاکستان دارالسلام بن جائے،ہم نہیں بلکہ اسلام آزاد ہوجائے۔ اس نظریے کے تناظرمیں ہندوں نے مسلمانوں کو قائل کرنے کے لیے یہ اعلان و اقرار کیا کہ مسلمان مطالبہ قیام پاکستان سے پیچھے ہٹ جائیں ہم یہاں اسلام کی آزادی اور تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ جس پرعلامہ اقبال ؒ نے تبسم لب سے مسلم علما کوجواب دیاکہ جو فرق آزادی اور آزادی کے مفہوم میں بیان کیا ہے اس سے کہیں زیادہ فرق اسلام اور اسلام کے مفہوم میں ہے آپ حضرات کے نزدیک اسلام وہ ہے جو ہمارے دور ملکیت میں وضع ہوا تراشہ گیا اُس میں تومسلمان غلام کا غلام ہی رہا؟
مسلمانوں کے نزدیک آزادی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ایک خدا کے اطاعت گزار ہوں اورکسی انسان کی حکومت ان کے اوپر نہ ہواور آپ جس اسلام کو اسلام کہہ رہے ہیں اس میں سوائے اس کے کہ آپ کو چند اقدامات کچھ شخصی قوانین کی آزادی ہو اس سے آگے تو کوئی آزادی نہیں ملے گی۔ یہ فرق ہے آپ کے اسلام میں اور اُس اسلام میں جس کی خاطر ہم آزادی چاہتے ہیں ان خیالات کو علامہ اقبال ؒ نے اپنے شعر میں یوں کہا۔
ملا کو جوہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
مسلمان ہونے کی حیثیت سے انگریز کی غلامی کے بندتوڑ کر اس کے اقتدار کو ختم کرناہمارا فرض ہے لیکن اس آزادی سے ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم آزاد ہو جائیں بلکہ اسلام آزاد ہواور مسلمان طاقتور بن جائیں۔اس لیے مسلمان کسی ایسی حکومت کے قیام میں مددگار نہیں ہو سکتا جس کی بنیادیں انہی اصولوں پر ہوں جن پر انگریزی حکومت قائم ہے۔ایک باطل کو مٹا کر دوسرے باطل کو قائم کرنا نہیں چاہتے ہم تو چاہتے ہیں کہ ہندوستان کلیہ تن نہیں تو بڑی حد تک دارالسلام بن جائے لیکن اگر آزادی ہند کا نتیجہ یہ ہوکہ جیسا دارلکفر ہے ویسا ہی رہے یا اس سے بھی بدتر ہو جائے تو مسلمان ایسی آزادی وطن پر ہزار مرتبہ لعنت بھیجتا ہے ایسی آزادی کی راہ میں لکھنا بولنا روپیہ خرچ کرنا لاٹھیاں کھانا جیل جانا گولی کا نشانہ بنناسب کچھ حرام اور قطعی حرام ہے۔
آزادی زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے پہ ہجرت کرنے کا نام نہیں بلکہ آزادی ظالمانہ نظام سے چھٹکارا پا کر حقوق انسانیت کے حصول کا نام ہے۔غربت مہنگائی بے روزگاری ناانصافی لا قانونیت اور سب سے بڑھ کر اسلام مخالف اقدامات(سودی نظام و سودی قرضے) اس مقدس سرزمین پاکستان کے خلاف سب سے بڑی توہین ہیں اور اس قابل شرمندگی نظام سے آزادی ہی حقیقی آزادی کا مفہوم ہے۔

سرزمین پاکستان کی پاکیزگی و مقدس پن اور کیا ہوگا کہ اس کی مٹی سے تیمم کرکے عبادت کی جائے تو خدا قبول کر لیتا ہے مگر کیا اس سرزمین پاکستان پہ قائم یہ نظام جو انسانیت قبول نہیں کرتی خدا کرئے گا؟ اگر نہیں کرئے گا تو پھر مقصد قیام پاکستان ادھورا ہے۔
1947میں ہمارے آباؤاجداد نے ہجرت ہوئی اورآزادی مل گئی اب موجودہ اور آنے والی نسلوں پر جو قرض ہے وہ انقلاب ہے۔اُس نظام کے خلاف انقلاب جو پاکستان کی تقدیر میں لکھا ہی نہیں گیا تھا مگر مسلط کیا ہوا ہے۔ پاکستان تو زندہ باد ہے مگر یہاں بسنے والے غریب میڈل کلاس لوگ اپنی زندگی سے روز سوال کرتے ہیں کہ اس سرزمین پر بسنے والوں کی اہمیت اس سرزمین جتنی کیوں نہیں؟اس کے باوجود وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں یہ محب وطنی نہیں تو اور کیا ہے؟جب بھی دشمن حملہ کرئے یا جنگ کا وقت آئے تو نظام کے ہاتھوں حقوق سے محروم عوام اس وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں ہتھیلوں پر سجا کر میدان میں آ جاتی ہے یہ محب وطنی نہیں تو اور کیا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *