قیامت کی نشانیاں بیان فرماتے ہوے میرے آقائے کریم ﷺنے فرمایاکہ ”علم اٹھالیا جائے گااورجہالت غالب ہوجائے گی۔“آج قیامت کے دہانے پہ کھڑی انسانیت،اس بات پرفخر محسوس کررہی ہے کہ وہ سائنسی ایجادات سے روزافزوں ترقی کررہی ہے،ضروریاتِ زندگی مشینی ذرائع سے بے مشقت حاصل ہورہی ہیں،انسان نے اس ترقی میں بڑھتے بڑھتے اب اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کوایجاد کر لیاہے۔مشینی ایجادات میں پہلے انسان نے صحت کے مسائل کے لیے مشینی تشخیص کاکام شروع کیاچونکہ تشخیص بھی ایک علم تھا،جس کے ذریعے ایک معالج کسی مریض کی علاماتِ ظاہرہ اوراحساسِ نبض سے مریض کی مرض کا تعین کرلیتاتھا، اوراس کا علاج بھی اسی تشخیص کے مطابق کرلیتاتھا،جونوے پچانوے فی صد درست ہوتاتھا،مشینی ذرائع ِ تشخیص کی ایجاد کے بعد معالج کے پاس مشینی تشخیص کے پڑھنے کا علم تورہ گیا لیکن خود بیماری کوسمجھنے کاعلم نہیں رہا،کیایہ جہالت نہیں ہے،لیکن ہم اس کے غلبے میں ایسے پھنسے ہیں کہ ہم اس پرفخرمحسوس کرتے ہیں،ہم لاکھوں روپے خرچ کرکے،ڈاکٹر بنتے ہیں،کروڑں روپے لگا کراپنی لیبارٹریاں بناتے ہیں،اورپھرمریضوں کی خدمت کے نام پرہم عام امراض جیسے بخار،بدہضمی،سردرد،کے لیے بھی ایک مریض کے ہزاروں روپوں کے ٹیسٹ اخراجات کراکراسے چندسوکی ادویات دے کربھیج دیتے ہیں۔اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ کاروبار علاج وصحت کاچل رہا ہے،لیکن امراض غیرترقی یافتہ زمانے سے بھی زیادہ پھیل رہے ہیں،اوراس کے ساتھ وہ انسانوں میں تاحیات ساتھ نبھارہے ہیں،شوگرکا مریض تازندگی مریض ہے،بلڈپریشرکا تازندگی مریض ہے،غذاکے ساتھ دواتاحیات جاری ہے۔اب اے آئی اس انتہا کو پہنچ چکی ہے،کہ جہالت سے مغلوب انسانیت یہ توقع کرنے لگی ہے کہ اے آئی اب ہمارے لیے ان علوم کو بھی کہ جن کے لیے ہمارے پاس کوئی ذرائع نہیں تھے وہ بھی ہم پرکھول دے گی،بلکہ بعض نادان توقیامت وغیرہ کے حالات بھی اے آئی سے جاننے کی کوشش کررہے ہیں،حالانکہ اے آئی صرف ان معلومات کا حوالہ دے سکتی ہے،جن کواس میں جمع کیا جاچکا ہے،وہ کسی بھی غیرجمع شدہ مواد کواپنی ذہانت سے بتانہیں سکتی،میں نے ایک دن علامہ اقبال کے ایک شعرکامصرع یہ جاننے کے لیے کہ کس نظم کاہے،اے آئی کودیا تواس نے مجھے لکھاکہ یہ جواب شکوہ کا مصرع ہے،میں نے جواب شکوہ میں دیکھا اس میں وہ کہیں نہ تھا،میں نے پھرلکھاکہ یہ شعرعلامہ اقبال کاہی ہے،لیکن جواب شکوہ کا نہیں،توپھراس نے لکھاہاں یہ مصرع بڈھے بلوچ کی بیٹے کونصیحت کی نظم کا ہے،اوراس میں ہی تھایعنی اے آئی بھی ہمارے خودپسندوں کوطرح جوآئے کہہ جاتی ہے۔لیکن ہم لوگ اے آئی کواپنے تمام علوم کھلائے جارہے ہیں،جس سے اس وقت توہمارے لیے آسانیاں پیداہورہی ہیں،کہ ہمارے لوگ کسی بھی چیزکی کوئی معلومات کسی بھی زبان میں اے آئی سے ایک کلک میں حاصل کررہے ہیں،جوہمیں ایک طرح سے بہت فائدہ دے رہی ہے تودوسری طرف اس کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ ہم اپنی یادداشت اورعلم کودل ودماغ سے نکال رہے ہیں،کہ سہل پسندی جوانسانی نفس کی سب سے بڑی کمزوری ہے،وہ اس میں ڈھلتاجارہا ہے،جس سے نفس مستقل طورپرجہالت کے غلبے میں ڈوباجارہا ہے،جہالت کوعزت،دولت اورشہرت کا ذریعہ سمجھ رہاہے،موجودہ زمانے میں اے آئی یا باقی بھی مشینی ذرائع کا دارومداربجلی پرہے،اوربجلی کے لیے مادی وسائل کا ہونا ضروری ہے،اس کے لیے کوئی اے آئی سسٹم ابھی تک ایجادنہیں ہوا۔ابھی چندمہینے پہلے ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی تیل کے ذرائع روکے گئے،دنیا میں طوفانِ مہنگائی آگیا،کئی ملکوں میں ببجلی کے کارخانے رک گئے،کئی کئی گھنٹے بجلی بندرہی کیااس دوران مشینی تشیخٰص کی مشینیں چل رہی تھیں؟کیاوہاں اے آئی کی تحقیق چل رہی تھی؟،میرے خیال میں ہرگزنہیں،انٹرنیٹ کاسارا دارومداربجلی،اورسیل فون پرہے،سیل فون ٹیکنالوجی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگرکہیں ایٹمی دھماکہ ہوجائے توسب سے پہلے ناکارہ ہونے والی چیز یہ سیل فون ڈیوائس ہوں گی،جب کہ ایٹم بم اے آئی سے بھی پہلے کاایجادشدہ ہے،جواب دنیا کے ہرملک کے پاس شاید موجود ہے،اورموجودہ غلبہ جہالت کے دوران شایدیہ تمام جنگی ہتھیاربھی اے آئی کے سپردکردئیے جائیں،جس سے کسی وقت اے آئی کوئی اورکام نہ ملاتووہ ان ہتھیاروں کوچلانے کاکام شروع کردے،ہمارے ایک ڈرامے میں زکوٹاجن کاایک جملہ ہوتاتھا،”میں کیا کروں میں کس کو کھاوں“اسی طرح اے آئی بھی کہے گی توپھرہمارے پاس کوئی جواب توہو گا نہیں،کیونکہ ہم نے سارا علم وشعورتواس کودے دیا ہوگا،اوراس میں احساس نام کی توکوئی چیزہے نہیں،کیوں کہ احساس علم نہیں جواس میں فیڈکیا جاسکے،تواس نے اپنی تحریک سے جوہوگا وہ کردینا ہے۔اس کے علاوہ شیطانی دماغ جنہوں نے اے آئی کے ذریعے اپنے کنٹرول کوپوری دنیا پرقائم کرنا ہے،ان کے شیطانی مفادات جہاں کہیں علوم میں اپنے مفادات کاٹکراودیکھیں گے،تووہ ان علوم کواے آئی کے ذریعے مسخ کردیں گے یاان میں دوسرے علوم کی گڈمڈکردیں گے،جسے کوئی بروقت سمجھ نہ پائے گا،توکچھ عرصہ گزرنے کے بعدوہ علوم متنازع علوم بن کرخودبخوداے آئی سے ہٹادیئے جائیں گے،اورپھران کے ماہربھی کہیں موجودنہ ہوں گے،کہ وہ ان پرجرح وتعدیل کرسکیں،جیسے آج کل ”ابراہام ا کارڈ“کامعاہدہ کرنے کاامریکہ کہہ رہا ہے۔لہذامسلمانوں کو چاہیے کہ وہ علوم کوکتابوں کے ذریعے ہی محفوظ رکھیں اور ان کے علماء کوکتابی تعلیم ہی سے دیں،اپنے مذہبی تعلیمی نصاب کوجودرسِ نظامی کے نام سے جاری تھا،اس کودوبارہ اپنے اداروں میں قائم کریں،یہ نئے نئے نصابات جوزیادہ ترجدید تعلیم پرانحصار کررہے ہیں،اس سے بچیں،ورنہ علم کے اٹھنے میں کچھ دیرنہیں ہوگی،اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کواپنے دین اورعلم پرقائم رکھے آمین وماعلی الاالبلاغ۔
علم اٹھایاجارہا ہے
